پرویز اشرف سفارش کرنیوالوں میں شامل تھے عدالت عظمیٰ
ہم نے تقرری غیرآئینی قراردی توتحقیقات کی ضرورت نہیں،عدالت،ریفرنس کسی کی ہدایت پرنہیں قانون کے مطابق بنے گا،وکیل نیب
ہم نے تقرری غیرآئینی قراردی توتحقیقات کی ضرورت نہیں،عدالت،ریفرنس کسی کی ہدایت پرنہیں قانون کے مطابق بنے گا،وکیل نیب ، فوٹو فائل
سپریم کورٹ نے اوگرا کے سابق چیئرمین سمیت دیگرافراد کے خلاف کارروائی سے متعلق نیب کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہارکیا ہے۔
اس بارے میںتفتیشی افسرکی انکوائری رپورٹ طلب کرلی ہے۔چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ۔عدالت نے آبزرویشن دی کہ جن لوگوں نے چیئرمین اوگرا توقیر صادق کی غیر قانونی تقرری کی ان کے خلاف ریفرنس بننے چاہئیں۔پیر کو ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب فوزی ظفر نے بینچ کو بتایا کہ توقیر صادق ، ممبر فنانس اور ممبرگیس کے خلاف ریفرنس کو حتمی شکل دے دی گئی ہے چند روز میں ان کے خلاف ریفرنس احتساب عدالت میں دائرکر دیے جائیںگے،انھوں نے کہا توقیر صادق کے تقررکے معاملے کی انکوائری کی جارہی ہے ۔
عدالت نے رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہارکیا ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نیب نے بہت کچھ کرنا تھا لیکن ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی،جب عدالت نے چیئرمین اوگرا کی تقرری کو غیر آئینی قرار دیا پھر تقرری کرنے والوںکے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی، انکوائری کی ضرورت نہیں تھی۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا توقیرصادق کی تقرری کی سفارش پانچ رکنی کمیٹی نے کی جس میںموجودہ وزیراعظم پرویزاشرف بھی شامل تھے اور حتمی منظوری وزیراعظم گیلانی نے دی ۔
پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے عدالت کو بتایا کہ نیب قانون کے مطا بق کارروائی کرتا ہے ۔نیب آرڈیننس کے تحت عدالت کی ہدایت کو شکایت کے طور پر لیا جاتا ہے اور اس کیلیے انکوائری لازمی ہے جبکہ عدالت کا موقف تھا کہ جب عدالت کا حکم ہو تو پھر انکوائری کی ضرورت نہیں بلکہ فیصلے سے آگے کارروائی ہونی چاہیے، عدالت کے فیصلے پر فیصلہ نہیںکرنا چاہیے۔چیف جسٹس نے کہا نیب نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی ہے ،نیب کو ایسا کرنے کا اختیار نہیں تھا۔
کے کے آغا نے موقف اختیارکیا کہ اگر ریفرنس عدالت کے حکم پر بنے گا تو پھر نیب کی کیا ضرورت باقی رہ گئی ؟ جسٹس جواد نے کہا نیب کاکام بدعنوانی کرنے والوں کو پراسیکیوٹ کرنا ہے جو عدالت نہیںکر سکتی۔پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت پر واضح کیا کہ نیب قانون کے مطا بق کام کرے گا،ان کا کہنا تھانیب آرڈیننس کی منظوری پارلیمنٹ نے دی ہے اور پارلیمنٹ سپریم ہے۔کے کے آغا نے کہا ریفرنس کسی کی ہدایت پر نہیں بلکہ قانون کے مطا بق بنے گا۔عدالت نے مزید سماعت آج کیلئے ملتوی کر دی ہے اور نیب سے انکوائری کا ریکارڈ طلب کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ انکوائری افسرکوکیا اختیار دیا گیا تھا،عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ دیکھنے کے بعد مناسب حکم جاری کر دیا جائے گا۔
اس بارے میںتفتیشی افسرکی انکوائری رپورٹ طلب کرلی ہے۔چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ۔عدالت نے آبزرویشن دی کہ جن لوگوں نے چیئرمین اوگرا توقیر صادق کی غیر قانونی تقرری کی ان کے خلاف ریفرنس بننے چاہئیں۔پیر کو ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب فوزی ظفر نے بینچ کو بتایا کہ توقیر صادق ، ممبر فنانس اور ممبرگیس کے خلاف ریفرنس کو حتمی شکل دے دی گئی ہے چند روز میں ان کے خلاف ریفرنس احتساب عدالت میں دائرکر دیے جائیںگے،انھوں نے کہا توقیر صادق کے تقررکے معاملے کی انکوائری کی جارہی ہے ۔
عدالت نے رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہارکیا ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نیب نے بہت کچھ کرنا تھا لیکن ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی،جب عدالت نے چیئرمین اوگرا کی تقرری کو غیر آئینی قرار دیا پھر تقرری کرنے والوںکے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی، انکوائری کی ضرورت نہیں تھی۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا توقیرصادق کی تقرری کی سفارش پانچ رکنی کمیٹی نے کی جس میںموجودہ وزیراعظم پرویزاشرف بھی شامل تھے اور حتمی منظوری وزیراعظم گیلانی نے دی ۔
پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے عدالت کو بتایا کہ نیب قانون کے مطا بق کارروائی کرتا ہے ۔نیب آرڈیننس کے تحت عدالت کی ہدایت کو شکایت کے طور پر لیا جاتا ہے اور اس کیلیے انکوائری لازمی ہے جبکہ عدالت کا موقف تھا کہ جب عدالت کا حکم ہو تو پھر انکوائری کی ضرورت نہیں بلکہ فیصلے سے آگے کارروائی ہونی چاہیے، عدالت کے فیصلے پر فیصلہ نہیںکرنا چاہیے۔چیف جسٹس نے کہا نیب نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی ہے ،نیب کو ایسا کرنے کا اختیار نہیں تھا۔
کے کے آغا نے موقف اختیارکیا کہ اگر ریفرنس عدالت کے حکم پر بنے گا تو پھر نیب کی کیا ضرورت باقی رہ گئی ؟ جسٹس جواد نے کہا نیب کاکام بدعنوانی کرنے والوں کو پراسیکیوٹ کرنا ہے جو عدالت نہیںکر سکتی۔پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت پر واضح کیا کہ نیب قانون کے مطا بق کام کرے گا،ان کا کہنا تھانیب آرڈیننس کی منظوری پارلیمنٹ نے دی ہے اور پارلیمنٹ سپریم ہے۔کے کے آغا نے کہا ریفرنس کسی کی ہدایت پر نہیں بلکہ قانون کے مطا بق بنے گا۔عدالت نے مزید سماعت آج کیلئے ملتوی کر دی ہے اور نیب سے انکوائری کا ریکارڈ طلب کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ انکوائری افسرکوکیا اختیار دیا گیا تھا،عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ دیکھنے کے بعد مناسب حکم جاری کر دیا جائے گا۔