عمران خان کا قابل ستائش فیصلہ

عمران خان کے دھرنے کے خاتمے کے بعد حکومت کو بظاہر ریلیف ملا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت کا نیا امتحان شروع ہوا ہے.

تحریک انصاف کا دھرنا ختم ہونا حکومت کی فتح نہیں ہے اور نہ ہی اسے ایسا سمجھنا چاہیے، فوٹو: فائل

PESHAWAR:
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے گزشتہ روز اسلام آباد میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے یہ دھرنا 126 دن جاری رہا۔ عمران خان نے تحریک انصاف کے کور کمیٹی کے اجلاس میں مشاورت کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سانحہ پشاو ر کے بعد جو صورت حال پیدا ہوئی ہے 'اس کے تناظر میں دیکھا جائے توتحریک انصاف کے چیئرمین مثبت سیاست کرتے ہوئے دھرنا ختم کرنے کا ایک اچھا فیصلہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت نے ان کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی طرف سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی اور پھر پریس کانفرنس میں بھی وہ ان کے ساتھ بیٹھے رہے۔ عمران خان کے اس کردار کو ملک کے سنجیدہ حلقوں نے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا۔ بے شک سانحہ پشاور کے بعد تحریک انصاف کی طرف سے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنا 'بے حسی یا مفاد پرستی کی سیاست سمجھا جاتا۔انھوں نے اس موقع پر سیاسی دانشمندی کا ثبوت دیا اور اپنا احتجاج اور دھرنا ختم کر دیا۔سیاست میں اختلافات بھی سیاسی نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کا مقصد بھی ملک و قوم کی بہتری اور فلاح ہوتا ہے۔


اس میں ذاتیات کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ عمران خان کے دھرنے کے خاتمے کے بعد حکومت کو بظاہر ریلیف ملا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت کا نیا امتحان شروع ہوا ہے ۔حکومت کو اب دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے اپنا عزم ثابت کرنا ہو گا ۔حکومت کے وزراء اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو بھی بلاجواز بیان بازی سے گریز کرنا ہو گا۔ اسی طرح ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادت کو بھی عمران خان کے فیصلے پر ذومعنی بیانات نہیں دینے چاہئیں۔ عمران خان نے اپنا دھرنا ختم کر کے ساری پارٹیوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ قومی مفاد کو سامنے رکھیں اور اگر ایسا موقع آئے جہاں قومی اور سیاسی مفاد میں ترجیح کا فیصلہ کرنا پڑے تو پھر قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔

عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے پاکستان کی تاریخ کا طویل ترین احتجاج کیا ہے۔ان کے اس احتجاج نے عوام میں سیاسی شعور اور اپنے حقوق سے آگہی پیدا کی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اب اپنی پوری توجہ دہشت گردی کے خاتمے پر دے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ ان امور پر بھی غور کرے جن کی بنا پر تحریک انصاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر آئی۔تحریک انصاف کا دھرنا ختم ہونا حکومت کی فتح نہیں ہے اور نہ ہی اسے ایسا سمجھنا چاہیے۔

البتہ یہ ضرور ہے کہ اسے موقع ملا ہے کہ وہ اپنی وہ ذمے داریاں پوری کرے جس کے لیے قوم نے اسے منتخب کیا ہے اور وہ اپوزیشن جماعتوں خصوصاً تحریک انصاف کے ان مطالبات کو بھی پورا کرنے کی کوشش کرے جن کی بنا پر دھرنے اور احتجاج کی نوبت آئی۔پاکستان کی سیاست ایک میچور فیز میں داخل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے پہلی بار ایک اچھی روایت کا آغاز کیا ہے۔ اس روایت کو مزید آگے بڑھانا چاہیے۔اگر حکومت دہشت گردی کے خلاف مضبوط کردار ادا کرنے اور اپوزیشن جماعتوں خصوصاً تحریک انصاف کے تحفظات دور کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر پاکستان میں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔اگر حکومت نے دھرنے کے خاتمے کو اپنی فتح سمجھ کر روایتی سیاست کی تو اس کا نتیجہ دوبارہ خلفشار کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔
Load Next Story