سانحہ پشاور ایک داخلی انقلاب کا استعارہ
پشاور سانحہ بلاشبہ اپنی سفاکی، ہولناکی اور اسکول کے معصوم بچوں کے خلاف بربریت کے لحاظ سے ناقابل فراموش رہے گا۔
پشاور سانحہ کا حوالہ دہشت انگیز ضرور ہے، مگر اس نے پاکستانی معاشرے کو ایک نئی مدافعتی اور امن و انسانیت کے دشمنوں سے جنگ لڑنے کے لیے نئی طاقت عطا کی ہے، فوٹو : رائٹرز
وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے سزائے موت پر پابندی اٹھائے جانے کے بعد دہشتگردوں کو پھانسیاں دینے کا عمل شروع ہو گیا، جی ایچ کیو اور سری لنکن ٹیم پر حملے کے مجرم عقیل عرف ڈاکٹر عثمان اور سابق صدر پرویز مشرف پر حملے کے کیس میں پھانسی کی سزا پانے والے ارشد مہربان کو فیصل آباد کی ڈسٹرکٹ جیل میں گزشتہ رات 9 بجے پھانسی دے دی گئی۔
پشاور سانحہ بلاشبہ اپنی سفاکی، ہولناکی اور اسکول کے معصوم بچوں کے خلاف بربریت کے لحاظ سے ناقابل فراموش رہے گا تاہم دہشت گردی کی عالمی تباہ کاریوں کے تناظر میں دنیا بھر کے ممالک اور پاکستانی قوم ملکی تاریخ کے ایک عہد ساز دورانیہ کی شکل میں دیکھ رہی ہے جس میں اسکول کے بیگناہ اور معصوم بچوں کو دہشتگردوں نے نہ صرف بیدردی سے شہیدکیا بلکہ اپنے اس انسانیت سوز اور ظالمانہ عمل کا مذہبی جواز اور اس کے حق میں شرمناک تاویلیں بھی پیش کرنا شروع کر دی ہیں، تاہم سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردی کے اس دردناک واقعہ کے بعد جس راسخ عزم اور غیر متزلزل قومی اتفاق رائے کی روشنی میں انتہاپسندوں اور معصوموں کے خون ناحق کے مجرموں کے خلاف جو ریاستی اقدامات کیے ہیں، اسے دہشت گردوں کے مکافات عمل کا ناگزیر منطقی اور فطری نتیجہ کہا جا سکتا ہے۔ ذرایع کے مطابق رحم کی اپیلیں وزیر اعظم کی ایڈوائس کے ساتھ صدر مملکت کو بھیجی جائیں گی۔
سزائے موت کے منتظر باقی قیدیوں میں سے دو قیدی سینٹرل جیل لاہور، تین مچھ جیل، چار کراچی، ایک بہاولپور، دو سیالکوٹ اور ایک قیدی شاہ پور جیل میں ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ پاکستان کا 9/11 ہے، فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ 132 بچوں سمیت 149 افراد کی ہلاکت نے شدت پسندی کے خلاف جنگ کے حوالے سے عوام کی سوچ کو تبدیل کر دیا ہے، پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول پر حملہ گیم چینجر (پانسہ پلٹ دینے والا) ہے، اس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ادھر متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ اگر ہمیں پاکستان کو بچانا ہے تو طالبان اور ان کے فتنے کو جڑ سے ختم کرنا ہو گا، انھوں نے آپریشن ضرب عضب کا دائرہ پورے ملک میں پھیلانے اور دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کا مکمل خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ الطاف حسین سمیت ملک کے دیگر دانشوروں، سیاسی رہنماؤں اور سنجیدہ حلقوں کا یہ انداز نظر معقولیت پر مبنی ہے کہ طالبان میں کوئی اچھا یا برا نہیں۔ درحقیقت دہشت گرد انسانیت، پاکستان اور اسلام کے دشمن ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کو ایم اے جناح روڈ پر سانحہ پشاور کے شہدا اور افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کے لیے نکالی جانے والی قومی یکجہتی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
پشاور سانحہ کا حوالہ دہشت انگیز ضرور ہے، مگر اس نے پاکستانی معاشرے کو ایک نئی مدافعتی اور امن و انسانیت کے دشمنوں سے جنگ لڑنے کے لیے نئی طاقت عطا کی ہے۔ بلاشبہ جمہوریت ہمارے ملک میں ہمیشہ ناتواں اور عارضی پارلیمانی مسافر کے طور پر دیکھی اور پرکھی گئی لیکن چشم فلک نے جیسا پاکستان آج اس لمحہ موجود میں دیکھا ہے اسے تاریخی قلب ماہیت سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔ اہل سیاست اور اہل اقتدار و عسکری قیادت نے دنیا کو ایک واضح پیغام دیدیا ہے کہ دہشت گردوں کی پاکستان میں اب کوئی جگہ نہیں۔
افسوس کہ باہمی اختلافات اور احتجاجی سیاسی کشمکش نے ملکی سماجی نظام کو مضمحل کر دیا، ادارہ جاتی انحطاط، فکری انارکی کے جنگل میں دہشت گردوں کواپنا کھیل کھیلنے کا موقع مل گیا، ان ملک دشمن، آئین سوز اور خود ساختہ مذہبی ایجنڈے کی علمبردار قوتوں کو اس کا موقع دینے کے اجتماعی گناہ اور سیاسی غفلت میں اسٹیبلشمنٹ، سول سوسائٹی، قانون و انصاف کے ادارے اور پارلیمان کی روح سے انحراف کرنے والے سبھی شامل ہیں۔ ادھر پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے طلبہ اور اساتذہ کے اندوہناک قتل کی میڈیا کے نمایندوں، سول سوسائٹی اور شہریوں نے مذمت کرتے ہوئے ہر قسم کی دہشتگردی سے مل کر لڑنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے سانحہ پشاور کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس بدترین واقعہ کے منصوبہ سازوں، سرپرستوں، فکری ہمنواؤں اور حامیوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر سانحہ پشاور کے شہدا کے درجات کی بلندی اور ملکی سلامتی کے لیے یوم دعا منایا گیا، ملک بھر کی لاکھوں مساجد، درگاہوں اور مدارس میں سانحہ پشاور کے شہداء کے لیے قرآن خوانی اور دعائیہ تقاریب کا انعقاد کیا گیا، جمعہ کے اجتماعات میں مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے سزائے موت کے قوانین میں ترمیم کی منظوری دیدی، طالبان کی سزائے موت پر عملدرآمد 21 روز کے بجائے 14 روز میں یقینی بنانا ہو گا جب کہ دہشت گردی میں ملوث ملزمان کے کیسز کی سماعت میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا گیا۔
حالیہ حملہ میں درجنوں بچوں کی شہادت کے بعد ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں تیزی آ گئی اور مختلف کارروائیوں میں کم از کم 95 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ قوم برس ہا برس منتظر رہی کہ ایک تبدیل شدہ اور دہشت گردی مخالف پاکستان ان کو دیکھنے کو ملے گا، مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! دہشت گرد ہماری تہذیب و ثقافت، مذہبی تعلیمات ، رواداری و محبت اور سیاسی و سماجی زندگی پر چڑھ دوڑے۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ بربادی کا یہ سفر پشاور سانحہ کے بعد سے ایک امید افزا داخلی قومی انقلاب اور سیاسی و عسکری عزم راسخ کا سورج لیے طلوع ہوا ہے۔ اب دنیا یہ نہیں کہہ سکے گی کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں تذبذب کے ریکارڈ قائم کیے۔
پشاور سانحہ بلاشبہ اپنی سفاکی، ہولناکی اور اسکول کے معصوم بچوں کے خلاف بربریت کے لحاظ سے ناقابل فراموش رہے گا تاہم دہشت گردی کی عالمی تباہ کاریوں کے تناظر میں دنیا بھر کے ممالک اور پاکستانی قوم ملکی تاریخ کے ایک عہد ساز دورانیہ کی شکل میں دیکھ رہی ہے جس میں اسکول کے بیگناہ اور معصوم بچوں کو دہشتگردوں نے نہ صرف بیدردی سے شہیدکیا بلکہ اپنے اس انسانیت سوز اور ظالمانہ عمل کا مذہبی جواز اور اس کے حق میں شرمناک تاویلیں بھی پیش کرنا شروع کر دی ہیں، تاہم سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردی کے اس دردناک واقعہ کے بعد جس راسخ عزم اور غیر متزلزل قومی اتفاق رائے کی روشنی میں انتہاپسندوں اور معصوموں کے خون ناحق کے مجرموں کے خلاف جو ریاستی اقدامات کیے ہیں، اسے دہشت گردوں کے مکافات عمل کا ناگزیر منطقی اور فطری نتیجہ کہا جا سکتا ہے۔ ذرایع کے مطابق رحم کی اپیلیں وزیر اعظم کی ایڈوائس کے ساتھ صدر مملکت کو بھیجی جائیں گی۔
سزائے موت کے منتظر باقی قیدیوں میں سے دو قیدی سینٹرل جیل لاہور، تین مچھ جیل، چار کراچی، ایک بہاولپور، دو سیالکوٹ اور ایک قیدی شاہ پور جیل میں ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ پاکستان کا 9/11 ہے، فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ 132 بچوں سمیت 149 افراد کی ہلاکت نے شدت پسندی کے خلاف جنگ کے حوالے سے عوام کی سوچ کو تبدیل کر دیا ہے، پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول پر حملہ گیم چینجر (پانسہ پلٹ دینے والا) ہے، اس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ادھر متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ اگر ہمیں پاکستان کو بچانا ہے تو طالبان اور ان کے فتنے کو جڑ سے ختم کرنا ہو گا، انھوں نے آپریشن ضرب عضب کا دائرہ پورے ملک میں پھیلانے اور دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کا مکمل خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ الطاف حسین سمیت ملک کے دیگر دانشوروں، سیاسی رہنماؤں اور سنجیدہ حلقوں کا یہ انداز نظر معقولیت پر مبنی ہے کہ طالبان میں کوئی اچھا یا برا نہیں۔ درحقیقت دہشت گرد انسانیت، پاکستان اور اسلام کے دشمن ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کو ایم اے جناح روڈ پر سانحہ پشاور کے شہدا اور افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کے لیے نکالی جانے والی قومی یکجہتی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
پشاور سانحہ کا حوالہ دہشت انگیز ضرور ہے، مگر اس نے پاکستانی معاشرے کو ایک نئی مدافعتی اور امن و انسانیت کے دشمنوں سے جنگ لڑنے کے لیے نئی طاقت عطا کی ہے۔ بلاشبہ جمہوریت ہمارے ملک میں ہمیشہ ناتواں اور عارضی پارلیمانی مسافر کے طور پر دیکھی اور پرکھی گئی لیکن چشم فلک نے جیسا پاکستان آج اس لمحہ موجود میں دیکھا ہے اسے تاریخی قلب ماہیت سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔ اہل سیاست اور اہل اقتدار و عسکری قیادت نے دنیا کو ایک واضح پیغام دیدیا ہے کہ دہشت گردوں کی پاکستان میں اب کوئی جگہ نہیں۔
افسوس کہ باہمی اختلافات اور احتجاجی سیاسی کشمکش نے ملکی سماجی نظام کو مضمحل کر دیا، ادارہ جاتی انحطاط، فکری انارکی کے جنگل میں دہشت گردوں کواپنا کھیل کھیلنے کا موقع مل گیا، ان ملک دشمن، آئین سوز اور خود ساختہ مذہبی ایجنڈے کی علمبردار قوتوں کو اس کا موقع دینے کے اجتماعی گناہ اور سیاسی غفلت میں اسٹیبلشمنٹ، سول سوسائٹی، قانون و انصاف کے ادارے اور پارلیمان کی روح سے انحراف کرنے والے سبھی شامل ہیں۔ ادھر پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے طلبہ اور اساتذہ کے اندوہناک قتل کی میڈیا کے نمایندوں، سول سوسائٹی اور شہریوں نے مذمت کرتے ہوئے ہر قسم کی دہشتگردی سے مل کر لڑنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے سانحہ پشاور کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس بدترین واقعہ کے منصوبہ سازوں، سرپرستوں، فکری ہمنواؤں اور حامیوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر سانحہ پشاور کے شہدا کے درجات کی بلندی اور ملکی سلامتی کے لیے یوم دعا منایا گیا، ملک بھر کی لاکھوں مساجد، درگاہوں اور مدارس میں سانحہ پشاور کے شہداء کے لیے قرآن خوانی اور دعائیہ تقاریب کا انعقاد کیا گیا، جمعہ کے اجتماعات میں مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے سزائے موت کے قوانین میں ترمیم کی منظوری دیدی، طالبان کی سزائے موت پر عملدرآمد 21 روز کے بجائے 14 روز میں یقینی بنانا ہو گا جب کہ دہشت گردی میں ملوث ملزمان کے کیسز کی سماعت میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا گیا۔
حالیہ حملہ میں درجنوں بچوں کی شہادت کے بعد ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں تیزی آ گئی اور مختلف کارروائیوں میں کم از کم 95 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ قوم برس ہا برس منتظر رہی کہ ایک تبدیل شدہ اور دہشت گردی مخالف پاکستان ان کو دیکھنے کو ملے گا، مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! دہشت گرد ہماری تہذیب و ثقافت، مذہبی تعلیمات ، رواداری و محبت اور سیاسی و سماجی زندگی پر چڑھ دوڑے۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ بربادی کا یہ سفر پشاور سانحہ کے بعد سے ایک امید افزا داخلی قومی انقلاب اور سیاسی و عسکری عزم راسخ کا سورج لیے طلوع ہوا ہے۔ اب دنیا یہ نہیں کہہ سکے گی کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں تذبذب کے ریکارڈ قائم کیے۔