خیبر پختونخوا کابینہ کے اہم فیصلے

سیکیورٹی کی مخدوش صورتحال کی ایک بڑی وجہ لاکھوں افغان مہاجرین کی ملک میں سالہا سال سے موجودگی کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔

پشاور میں آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کی انتہائی بہیمانہ کارروائی کے بعد یہ ضروری ہو گیا ہے کہ اب سیکیورٹی کے غیر معمولی اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں، فواٹو : فائل

خیبر پختونخوا کابینہ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر افغان حکومت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث افغانستان میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی تو وہ خود ان کے خلاف کارروائی کرے جب کہ صوبائی کابینہ نے صوبہ میں مقیم افغان مہاجرین کو واپس جانے کے لیے ایک ماہ کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ایک ماہ کے بعد تمام افغان مہاجرین کو بندوبستی علاقوں سے نکال دیا جائے گا۔ پشاور میں آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کی انتہائی بہیمانہ کارروائی کے بعد یہ ضروری ہو گیا ہے کہ اب سیکیورٹی کے غیر معمولی اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں تا کہ دہشت گردوں کی طرف سے آیندہ کسی مجرمانہ حرکت کا کوئی امکان نہ رہے۔

امریکا اور برطانیہ میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد اس قدر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے کہ وہاں اس کے بعد کوئی ناخوشگوار واقعہ ممکن نہ ہو سکا لیکن ہمارے یہاں ایک کے بعد ایک واردات وقوع پذیر ہوتی رہی جو ہمارے سیکیورٹی انتظامات پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سیکیورٹی کی مخدوش صورتحال کی ایک بڑی وجہ لاکھوں افغان مہاجرین کی ملک میں سالہا سال سے موجودگی کو بھی قرار دیا جاتا ہے جن کی بڑی تعداد آہستہ آہستہ مہاجر کیمپوں سے نکل کر بندوبستی علاقوں میں منتقل ہو چکی ہے۔ صوبائی کابینہ نے مرکزی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کا از سر نو جائزہ لے، جہاں کمزوریاں ہوں اس کا تدارک کیا جائے، ملک کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور یہ معاملہ افغانستان کی حکومت کے ساتھ بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے کیونکہ پشاور میں جو کچھ ہوا، اس کے ڈانڈے افغانستان سے ملتے ہیں۔


کابینہ نے مرکزی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا، وہ فاٹا کو یا تو الگ صوبہ بنائے یا پھر اسے انتظامی یونٹ کے طور پر تشکیل دینے کے لیے قابل عمل منصوبہ بنائے نیز فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کو صوبے میں بندوبستی علاقوں کے مابین بارڈر پر تعینات کیا جائے۔ خیبرپختونخوا کی کابینہ کی قرارداد انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ حقیقت میں یہ قرارداد مرکزی حکومت کے لیے پالیسی گائیڈ لائن ہے۔ پاکستان آج جن مسائل سے دوچار ہے اس کی بنیادی وجہ ناقص حکمت عملی اور مصلحت اندیشی ہے۔ پاکستان میں اب افغان مہاجرین کے قیام کا کوئی جواز موجود نہیں ہے، انھیں اپنے وطن بھیجنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ اس طرح فاٹا کی قبائلی حیثیت کے بارے اس میں حتمی فیصلہ ہونا چاہیے۔

اس علاقے میں پرانے نظام کو ختم کر کے وہی قانون نافذ کیا جائے جو پورے ملک میں رائج ہے۔ فاٹا کو صوبے کا درجہ بھی دیا جا سکتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ افغانستان سے ملحقہ سرحد کو ہرممکن طریقے سے بند کیا جائے اور زمینی کراسنگ کو محدود کر کے فضائی سفر کو لازم قرار دیا جائے۔ جب تک قبائلی علاقے کی آئینی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہوتا، اس وقت تک قبائلی علاقوں سے بندوبستی علاقوں میں آنے اور جانے والوں کی کڑی نگرانی کی جائے۔ پاکستان اور خیبرپختونخوا کو پرامن بنانے کے لیے یہ اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔
Load Next Story