اوباما کا افغان جنگی مشن ختم کرنے کا اعلان
صدراوباما نےچھ سال قبل اپنی انتخابی مہم کےدوران اعلان کیا تھا کہ وہ صدربنتے ہی گوانتا ناموبےکاحراستی مرکزختم کردیں گے۔
مریکا افغانستان سے نکل کر اب عراق اور شام میں اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) اور داعش کے جنگجوئوں کے خلاف ایک بڑی جنگ کے آغاز کا منصوبہ بنا رہا ہے، فوٹو : فائل
امریکی صدر بارک اوباما نے رواں سال کی اختتامی نیوز کانفرنس میں وعدہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں جنگی مشن دو ہفتوں سے بھی کم وقت میں ختم کر دیں گے تاہم اس کے ساتھ ہی انھوں نے اس مسودہ قانون پر دستخط کرکے اسے قانونی شکل دیدی کہ افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے بعد بھی افغانستان کی مدد اور حمایت جاری رکھی جائے گی نیز پاکستان کو اتحادی افواج کی حمایت کا فنڈ ایک سال تک ملتارہے گا۔
واضح رہے کہ امریکا کے سن 2015ء کے لیے منظور کیے جانے والے 584.2 ارب ڈالر کے دفاعی بل میں متذکرہ دونوں معاملات بھی شامل ہیں۔ قبل ازیں صدر اوباما نے نیوز کانفرنس میں یقین دلایا کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق اس سال کے آخر تک افغانستان سے تمام لڑاکا امریکی فوج واپس بلا لیں گے اور آیندہ دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں وہ افغانستان میں اپنے تیرہ سالہ جنگی مشن کا خاتمہ کر دیں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اب امریکا کو عالمی دہشت گردی سے مقابلے کے لیے مزید اخراجات کرنے ہونگے۔ اپنے اسی بیان میں صدر بارک اوباما نے امریکی کانگریس کے اس رویے پر افسوس کا اظہار کیا جس نے گوانتا ناموبے میں امریکی ایکسرے کیمپ کے نام سے قائم عقوبت خانے کو بند کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ قبل ازیں امریکی محکمہ دفاع نے افغانستان میں امریکی قید خانوں کی بندش کا اعلان کیا تھا۔ یاد رہے کہ صدر اوباما نے چھ سال قبل اپنی انتخابی مہم کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ صدر بنتے ہی گوانتا ناموبے کا حراستی مرکز ختم کر دیں گے جہاں مشتبہ ملزموں کو مقدمہ چلائے بغیر رکھا جاتا ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ امریکا افغانستان سے نکل کر اب عراق اور شام میں اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) اور داعش کے جنگجوئوں کے خلاف ایک بڑی جنگ کے آغاز کا منصوبہ بنا رہا ہے جس کے لیے امریکی کانگریس کی اجازت طلب کر لی گئی ہے جو متوقع طور پر مل جائے گی۔ اب سوال یہ ہے کہ افغانستان سے امریکا کے جنگی مشن کے اختتام پذیر ہونے کے بعد کیا افغانستان کی اپنی فوج، جسے امریکی دفاعی مشیروں نے ہی تیار کیا ہے، طالبان عسکریت پسندوں کا مقابلہ کر کے ان پر قابو پا سکے گی یا پھر امریکا کو ہی مدد کو آنا پڑے گا۔
ویسے افغانستان میں اتحادی فوجیں موجود ہیں اور وہی افغان طالبان کے خلاف آپریشن کر رہی ہیں، پاکستان کو اب قبائلی علاقوں خصوصاً شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف بے رحم آپریشن اس وقت تک جاری رکھنا ہو گا جب تک ان کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، اس کے ساتھ پاک افغان سرحد کو بھی سیل کرنا ہو گا تاکہ سرحد سے دہشت گرد پاکستان میں داخل نہ ہو سکیں۔
واضح رہے کہ امریکا کے سن 2015ء کے لیے منظور کیے جانے والے 584.2 ارب ڈالر کے دفاعی بل میں متذکرہ دونوں معاملات بھی شامل ہیں۔ قبل ازیں صدر اوباما نے نیوز کانفرنس میں یقین دلایا کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق اس سال کے آخر تک افغانستان سے تمام لڑاکا امریکی فوج واپس بلا لیں گے اور آیندہ دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں وہ افغانستان میں اپنے تیرہ سالہ جنگی مشن کا خاتمہ کر دیں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اب امریکا کو عالمی دہشت گردی سے مقابلے کے لیے مزید اخراجات کرنے ہونگے۔ اپنے اسی بیان میں صدر بارک اوباما نے امریکی کانگریس کے اس رویے پر افسوس کا اظہار کیا جس نے گوانتا ناموبے میں امریکی ایکسرے کیمپ کے نام سے قائم عقوبت خانے کو بند کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ قبل ازیں امریکی محکمہ دفاع نے افغانستان میں امریکی قید خانوں کی بندش کا اعلان کیا تھا۔ یاد رہے کہ صدر اوباما نے چھ سال قبل اپنی انتخابی مہم کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ صدر بنتے ہی گوانتا ناموبے کا حراستی مرکز ختم کر دیں گے جہاں مشتبہ ملزموں کو مقدمہ چلائے بغیر رکھا جاتا ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ امریکا افغانستان سے نکل کر اب عراق اور شام میں اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) اور داعش کے جنگجوئوں کے خلاف ایک بڑی جنگ کے آغاز کا منصوبہ بنا رہا ہے جس کے لیے امریکی کانگریس کی اجازت طلب کر لی گئی ہے جو متوقع طور پر مل جائے گی۔ اب سوال یہ ہے کہ افغانستان سے امریکا کے جنگی مشن کے اختتام پذیر ہونے کے بعد کیا افغانستان کی اپنی فوج، جسے امریکی دفاعی مشیروں نے ہی تیار کیا ہے، طالبان عسکریت پسندوں کا مقابلہ کر کے ان پر قابو پا سکے گی یا پھر امریکا کو ہی مدد کو آنا پڑے گا۔
ویسے افغانستان میں اتحادی فوجیں موجود ہیں اور وہی افغان طالبان کے خلاف آپریشن کر رہی ہیں، پاکستان کو اب قبائلی علاقوں خصوصاً شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف بے رحم آپریشن اس وقت تک جاری رکھنا ہو گا جب تک ان کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، اس کے ساتھ پاک افغان سرحد کو بھی سیل کرنا ہو گا تاکہ سرحد سے دہشت گرد پاکستان میں داخل نہ ہو سکیں۔