دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کارروائی
پوری قوم نے یہ اٹل فیصلہ کر لیا ہے کہ اس ملک سے دہشت گردی کا ہر ممکن صفایا کیا جائے گا۔
حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جس تیزی سے کارروائیاں شروع کی ہیں ملک میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے کہ اس کا سلسلہ بلا کسی تعطل کے جاری رکھا جائے، فوٹو : فائل
سانحہ پشاور نے پوری قوم کو ایک ایجنڈے پر متفق کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اس کے خاتمے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا، دہشت گردوں پر یہ واضح کر دیا جائے کہ اب ان کے لیے اس ملک میں چھپنے کے لیے کوئی جگہ نہیں اور ان کے خاتمے کے دن قریب آ گئے ہیں۔ جب دہشت گرد سفاکیت اور بے رحمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں تو وہ بھی کسی قسم کے ہمدردانہ رویے کے مستحق نہیں۔
اب پوری قوم نے یہ اٹل فیصلہ کر لیا ہے کہ اس ملک سے دہشت گردی کا ہر ممکن صفایا کیا جائے گا اور اس مقصد عظیم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وہ کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ افراد جو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں انھیں فی الفور تختہ دار پر لٹکا دیا جائے۔ اتوار کو فیصل آباد ڈسٹرکٹ جیل میں چار دہشت گردوں غلام سرور' ارشد ٹیپو' اخلاق روسی اور زبیر کو پھانسی دے دی گئی۔ یہ چاروں دہشت گرد سابق صدر پرویز مشرف پر حملے میں ملوث تھے۔
اگلے روز جی ایچ کیو اور سری لنکن ٹیم پر حملے کے مجرم عقیل عرف ڈاکٹر عثمان اور پرویز مشرف پر حملہ کیس میں موت کی سزا پانے والے ارشد مہربان کو بھی ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد میں پھانسی دی گئی تھی۔ صدر ممنون حسین نے سزائے موت کے 17 قیدیوں کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دیں ہیں جب کہ سندھ کی تین بڑی جیلوں کی سیکیورٹی فوج کے حوالے کر دی گئی ہے اور مزید پانچ مجرموں کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق محکمہ داخلہ سندھ نے پھانسی سے متعلق آرڈیننس میں ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے کے بعد سات دن میں پھانسی پر عمل ہو گا۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ اعتراضات کیے جا رہے تھے کہ جیلوں میں قید دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے جس سے ان کے حوصلے بلند ہوچکے ہیں اور وہ یہ گمان کرنے لگے کہ حکومتی ادارے ان سے خوف زدہ ہیں۔
اس گمان سے دہشت گردی کو ہوا مل رہی ہے لہٰذا جب تک ان کو سزائیں نہیں دی جائیں گی، دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنا مشکل امر ہوگا۔ حکومت نے دہشت گردوں کو پھانسیاں دینے کا عمل شروع کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ ملک و قوم کے امن کو تہہ و بالا کرنے والوں کے دن گنے جا چکے ہیں اور انھیں ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب ہفتے کو خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں جیٹ طیاروں کی بمباری میں مزید 21 دہشت گرد ہلاک اور ان کے سات ٹھکانے تباہ ہو گئے، ایک روز قبل جمعہ کو بھی فورسز کی زمینی اور فضائی کارروائی کے دوران 48 دہشت گرد ہلاک ہو گئے تھے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے سرچ آپریشن میں تیزی پیدا کر دی ہے اور مختلف واقعات میں دہشت گردوں کی ایک تعداد ماری گئی ہے۔
ایف آر پشاور میں فورسز اور پولیس کے ساتھ جھڑپ میں پانچ شدت پسند ہلاک ہو گئے جن میں آرمی پبلک اسکول پشاور میں حملہ کرنے والے خود کش بمبار عمر کا بھائی مصطفی الیاس عرف منان بھی شامل ہے۔ سانحہ پشاور کے بعد آپریشن ضرب عضب میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہفتے کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے خیبر ایجنسی کے دورہ کے موقع پر آپریشن ضرب عضب پر انھیں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ دو روز کے دوران زمینی آپریشن میں 62 جب کہ فضائی کارروائی میں 57 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ آرمی چیف نے فوجی جوانوں کے جذبے کو سراہا۔
اس موقع پر انھوں نے کہا کہ دہشت گرد جہاں بھی ہوں ان کے خلاف کارروائی جاری رہے گی آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا غیر ملکی دہشت گردوں کو بھی پیغام دے دیا ہے کہ وہ پاک سرزمین چھوڑ کر چلے جائیں ورنہ ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہے گا۔
علاوہ ازیں ہفتے کو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مختلف وفود سے ملاقات کے موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کو دہشت گردی کے عفریت سے چھٹکارا دلائیں گے' دہشت گردی کے خلاف جنگ تمام سیاسی جماعتوں سے مل کر جیتیں گے' وزیرستان آپریشن کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں اور اس میں بہت سارے شدت پسند مارے اور گرفتار کیے چکے ہیں۔
حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جس تیزی سے کارروائیاں شروع کی ہیں ملک میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے کہ اس کا سلسلہ بلا کسی تعطل کے جاری رکھا جائے جب بھی حکومتی کارروائیاں سست پڑتی ہیں دہشت گردوں کو منظم ہونے اور کھل کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے۔اب تمام سیاسی جماعتوں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مسئلے پر حکومت کا ساتھ دیں تاکہ ملک کو ایک بار پھر امن وآشتی کا گہوارہ بنایا جا سکے۔
اب پوری قوم نے یہ اٹل فیصلہ کر لیا ہے کہ اس ملک سے دہشت گردی کا ہر ممکن صفایا کیا جائے گا اور اس مقصد عظیم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وہ کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ افراد جو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں انھیں فی الفور تختہ دار پر لٹکا دیا جائے۔ اتوار کو فیصل آباد ڈسٹرکٹ جیل میں چار دہشت گردوں غلام سرور' ارشد ٹیپو' اخلاق روسی اور زبیر کو پھانسی دے دی گئی۔ یہ چاروں دہشت گرد سابق صدر پرویز مشرف پر حملے میں ملوث تھے۔
اگلے روز جی ایچ کیو اور سری لنکن ٹیم پر حملے کے مجرم عقیل عرف ڈاکٹر عثمان اور پرویز مشرف پر حملہ کیس میں موت کی سزا پانے والے ارشد مہربان کو بھی ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد میں پھانسی دی گئی تھی۔ صدر ممنون حسین نے سزائے موت کے 17 قیدیوں کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دیں ہیں جب کہ سندھ کی تین بڑی جیلوں کی سیکیورٹی فوج کے حوالے کر دی گئی ہے اور مزید پانچ مجرموں کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق محکمہ داخلہ سندھ نے پھانسی سے متعلق آرڈیننس میں ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے کے بعد سات دن میں پھانسی پر عمل ہو گا۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ اعتراضات کیے جا رہے تھے کہ جیلوں میں قید دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے جس سے ان کے حوصلے بلند ہوچکے ہیں اور وہ یہ گمان کرنے لگے کہ حکومتی ادارے ان سے خوف زدہ ہیں۔
اس گمان سے دہشت گردی کو ہوا مل رہی ہے لہٰذا جب تک ان کو سزائیں نہیں دی جائیں گی، دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنا مشکل امر ہوگا۔ حکومت نے دہشت گردوں کو پھانسیاں دینے کا عمل شروع کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ ملک و قوم کے امن کو تہہ و بالا کرنے والوں کے دن گنے جا چکے ہیں اور انھیں ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب ہفتے کو خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں جیٹ طیاروں کی بمباری میں مزید 21 دہشت گرد ہلاک اور ان کے سات ٹھکانے تباہ ہو گئے، ایک روز قبل جمعہ کو بھی فورسز کی زمینی اور فضائی کارروائی کے دوران 48 دہشت گرد ہلاک ہو گئے تھے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے سرچ آپریشن میں تیزی پیدا کر دی ہے اور مختلف واقعات میں دہشت گردوں کی ایک تعداد ماری گئی ہے۔
ایف آر پشاور میں فورسز اور پولیس کے ساتھ جھڑپ میں پانچ شدت پسند ہلاک ہو گئے جن میں آرمی پبلک اسکول پشاور میں حملہ کرنے والے خود کش بمبار عمر کا بھائی مصطفی الیاس عرف منان بھی شامل ہے۔ سانحہ پشاور کے بعد آپریشن ضرب عضب میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہفتے کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے خیبر ایجنسی کے دورہ کے موقع پر آپریشن ضرب عضب پر انھیں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ دو روز کے دوران زمینی آپریشن میں 62 جب کہ فضائی کارروائی میں 57 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ آرمی چیف نے فوجی جوانوں کے جذبے کو سراہا۔
اس موقع پر انھوں نے کہا کہ دہشت گرد جہاں بھی ہوں ان کے خلاف کارروائی جاری رہے گی آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا غیر ملکی دہشت گردوں کو بھی پیغام دے دیا ہے کہ وہ پاک سرزمین چھوڑ کر چلے جائیں ورنہ ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہے گا۔
علاوہ ازیں ہفتے کو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مختلف وفود سے ملاقات کے موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کو دہشت گردی کے عفریت سے چھٹکارا دلائیں گے' دہشت گردی کے خلاف جنگ تمام سیاسی جماعتوں سے مل کر جیتیں گے' وزیرستان آپریشن کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں اور اس میں بہت سارے شدت پسند مارے اور گرفتار کیے چکے ہیں۔
حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جس تیزی سے کارروائیاں شروع کی ہیں ملک میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے کہ اس کا سلسلہ بلا کسی تعطل کے جاری رکھا جائے جب بھی حکومتی کارروائیاں سست پڑتی ہیں دہشت گردوں کو منظم ہونے اور کھل کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے۔اب تمام سیاسی جماعتوں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مسئلے پر حکومت کا ساتھ دیں تاکہ ملک کو ایک بار پھر امن وآشتی کا گہوارہ بنایا جا سکے۔