نئی اشیا مہنگی استعمال شدہ گرم ملبوسات کی فروخت دگنی ہوگئی
موسم سرماکےنئےملبوسات قوت خرید سے باہر ہونےکی وجہ سےاس سال استعمال شدہ گرم ملبوسات کی فروخت میں100فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔
پاکستان استعمال شدہ ملبوسات، فٹ ویئرز، بیگز، کھلونوں کراکری اور الیکٹرانک آئٹمز کا بین الاقوامی مرکز بن گیاہے۔ فوٹو: این این آئی
پاکستان استعمال شدہ ملبوسات، فٹ ویئرز، بیگز، کھلونوں کراکری اور الیکٹرانک آئٹمز کا بین الاقوامی مرکز بن گیا ہے۔
دنیا کے مختلف ترقی یافتہ ملکوں سے استعمال شدہ اشیا پاکستان درآمد کی جاتی ہیں جو مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کے علاوہ ترقی پذیر ملکوں اور افریقی ممالک کو ری ایکسپورٹ بھی کی جارہی ہیں۔ موسم سرما کے نئے ملبوسات کوٹ، جیکٹ اور گرم کپڑے قوت خرید سے باہر ہونے کی وجہ سے اس سال استعمال شدہ گرم ملبوسات کی فروخت میں 100فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ دنیا کے مختلف ترقی یافتہ ملکوں سے بڑے پیمانے پر کپڑے، اوون، جرسی، ریگزین اور چمڑے کی جیکٹس، اوورکوٹ اور بڑے پیمانے پر فروخت ہورہے ہیں جبکہ پرانی جرابوں، رضائیوں، بلینکٹس کی بھی مانگ میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا ہے۔
کراچی میں استعمال شدہ کپڑوں کی فروخت کا سب سے بڑا مرکز لائٹ ہاؤس اور صدر کو سمجھا جاتا تھا تاہم بڑھتی ہوئی مہنگائی اور قوت خرید میں کمی کے سبب شہر کے تمام رہائشی علاقوں، مصروف چوراہوں اور سڑکوں پر بھی جگہ جگہ استعمال شدہ پرانے ملبوسات، فٹ ویئرز کے بازار سج گئے ہیں۔ کراچی کے وسط میں نیشنل اسٹیڈیم کے قریب مشرق سینٹر کراچی میں استعمال شدہ ملبوسات کا سب سے بڑا مستقل مرکز بن چکا ہے جہاں استعمال شدہ برانڈڈ ملبوسات، جیکٹس، فٹ ویئرز، جینز فروخت کی جاتی ہیں۔ اس مرکز سے کم آمدن والے طبقے کے ساتھ پوش علاقوں کے نوجوان بھی خریداری کرتے ہیں۔
استعمال شدہ ملبوسات اور گھریلو اشیا کی فروخت کا دوسرا سب سے بڑا مرکز ڈیفینس کا اتوار بازار ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں سے رہائشی افراد اور نوجوان ''فیشن میں ان'' ملبوسات کے لیے ڈیفنس بازار کا رخ کرتے ہیں۔ کراچی میں پرانا حاجی کیمپ اور شیرشاہ کے گودام درآمد شدہ مصنوعات سے بھرے پڑے ہیں جہاں سے شہر بھر میں فروخت کے لیے چھانٹی اور بغیر چھانٹی شدہ لاٹیں فروخت کی جاتی ہیں۔
پاکستان میں روایتی طور پر استعمال شدہ اشیا زیادہ تر برطانیہ سے درآمد کی جاتی تھیں تاہم بین الاقوامی سطح پر استعمال شدہ اشیا کا کاروبار منظم شکل اختیار کرگیا ہے جس کے بعد امریکا، کینیڈا، جرمنی، اٹلی، فرانس، اسپین، پولینڈ تک سے استعمال شدہ ملبوسات، گرم کپڑے، فٹ ویئر، بیگ، کھلونے، کمبل وغیرہ درآمد کیے جارہے ہیں درآمدات کا دائرہ صرف ملبوسات تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ بیرون ملک سے بڑے پیمانے پر استعمال شدہ کھلونے، کراکری، کٹلری آئٹمز، برقی آلات، ہیئرڈرائر، ہیئر اسٹریٹرنز، بچوں کے جھولے، بے بی کوٹس، سجاوٹ کی اشیا اور برتن بھی درآمد کیے جارہے ہیں۔
درآمدی سامان کی تین کٹیگریز اے، بی اور سی میں درجہ بندی کی جاتی ہے اور اسی درجہ بندی کے لحاظ سے ان کی قیمتیں بھی وصول کی جاتی ہیں۔ پاکستان میں 90فیصد سے زائد سی کٹیگری کے آئٹمز درآمد کیے جاتے ہیں ترقی یافتہ ملکوں میں فلاحی اور خیراتی ادارے استعمال شدہ اشیا جمع کرتے ہیں جو آکشن کے ذریعے استعمال شدہ اشیا کا بین الاقوامی سطح پر کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو فروخت کی جاتی ہیں یہ کمپنیاں انٹرنیٹ کے ذریعے لاٹس کی شکل میں مال فروخت کرتی ہیں۔
پاکستان سے استعمال شدہ ملبوسات اور دیگر اشیا افریقہ ملکوں کے علاوہ افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ریاستوں، فار ایسٹ ممالک کو بھی ری ایکسپورٹ کی جارہی ہیں پاکستان میں 50فیصد سے زائد یورپی آئٹمز جرمنی سے درآمد کیے جاتے ہیں ۔ پرانے کپڑوں کا کاروبار کرنے والے تاجروں اور درآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے استعمال شدہ اشیا کی درآمدی لاگت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ایک سال کے دوران استعمال شدہ اشیا کے 40فٹ کے کنٹینرز کی لاگت میں 50سے 60ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے مقامی سطح پر استعمال شدہ آئٹمز کی تھوک قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔
کراچی سے استعمال شدہ گرم ملبوسات اور دیگر اشیا کا 70فیصد اسٹاک اندرون ملک مختلف شہروں کو روانہ کیا جاتا ہے جس میں پنجاب کا حصہ 50فیصد سے زائد ہے۔ استعمال شدہ مکس کپڑوں کی قیمت 100سے 120روپے کلو، سجاوٹی اشیا کی قیمت 150 سے 200روپے کلو، لیدر مصنوعات 100سے 150روپے کلو، سافٹ کھلونوں کی قیمت 80سے 120روپے کلو، پلاسٹک اور دیگر دھاتوں کے کھلونوں کی قیمت 150سے 220روپے کلو بتائی جاتی ہے۔
ریٹیل کی سطح پر گرم جیکٹ 200 سے 300روپے، بلیزر(کوٹ) 400سے 500روپے، کپڑے کے فٹ ویئرز 150سے 200روپے، لیدر اور اسپورٹ فٹ ویئرز 300سے 400روپے، سوئیٹرز 50سے 100روپے، جرسیاں اور ٹی شرٹس 50سے 100 روپے تک میں فروخت کی جارہی ہیں لیدر کی جیکٹیں 500 سے 1500روپے تک فروخت کی جارہی ہیں، استعمال شدہ کھلونوں میں مشہور کارٹون کریکٹرز عام کھلونوں کے مقابلے میں دگنی قیمت پر فروخت کیے جاتے ہیں سیل سے چلنے والے کھلونے اپنے حجم بناوٹ اور لوگوں کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے مختلف قیمتوں پر فروخت کیے جاتے ہیں۔ صدر بازار میں آرٹ کے شوقین افراد استعمال شدہ مصنوعات کے ٹھیلوں پر منڈلاتے رہتے ہیں اور کسی بھی منفرد آرٹ کے نمونے کی منہ مانگی قیمت تک ادا کرنے کو تیار رہتے ہیں۔
دنیا کے مختلف ترقی یافتہ ملکوں سے استعمال شدہ اشیا پاکستان درآمد کی جاتی ہیں جو مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کے علاوہ ترقی پذیر ملکوں اور افریقی ممالک کو ری ایکسپورٹ بھی کی جارہی ہیں۔ موسم سرما کے نئے ملبوسات کوٹ، جیکٹ اور گرم کپڑے قوت خرید سے باہر ہونے کی وجہ سے اس سال استعمال شدہ گرم ملبوسات کی فروخت میں 100فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ دنیا کے مختلف ترقی یافتہ ملکوں سے بڑے پیمانے پر کپڑے، اوون، جرسی، ریگزین اور چمڑے کی جیکٹس، اوورکوٹ اور بڑے پیمانے پر فروخت ہورہے ہیں جبکہ پرانی جرابوں، رضائیوں، بلینکٹس کی بھی مانگ میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا ہے۔
کراچی میں استعمال شدہ کپڑوں کی فروخت کا سب سے بڑا مرکز لائٹ ہاؤس اور صدر کو سمجھا جاتا تھا تاہم بڑھتی ہوئی مہنگائی اور قوت خرید میں کمی کے سبب شہر کے تمام رہائشی علاقوں، مصروف چوراہوں اور سڑکوں پر بھی جگہ جگہ استعمال شدہ پرانے ملبوسات، فٹ ویئرز کے بازار سج گئے ہیں۔ کراچی کے وسط میں نیشنل اسٹیڈیم کے قریب مشرق سینٹر کراچی میں استعمال شدہ ملبوسات کا سب سے بڑا مستقل مرکز بن چکا ہے جہاں استعمال شدہ برانڈڈ ملبوسات، جیکٹس، فٹ ویئرز، جینز فروخت کی جاتی ہیں۔ اس مرکز سے کم آمدن والے طبقے کے ساتھ پوش علاقوں کے نوجوان بھی خریداری کرتے ہیں۔
استعمال شدہ ملبوسات اور گھریلو اشیا کی فروخت کا دوسرا سب سے بڑا مرکز ڈیفینس کا اتوار بازار ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں سے رہائشی افراد اور نوجوان ''فیشن میں ان'' ملبوسات کے لیے ڈیفنس بازار کا رخ کرتے ہیں۔ کراچی میں پرانا حاجی کیمپ اور شیرشاہ کے گودام درآمد شدہ مصنوعات سے بھرے پڑے ہیں جہاں سے شہر بھر میں فروخت کے لیے چھانٹی اور بغیر چھانٹی شدہ لاٹیں فروخت کی جاتی ہیں۔
پاکستان میں روایتی طور پر استعمال شدہ اشیا زیادہ تر برطانیہ سے درآمد کی جاتی تھیں تاہم بین الاقوامی سطح پر استعمال شدہ اشیا کا کاروبار منظم شکل اختیار کرگیا ہے جس کے بعد امریکا، کینیڈا، جرمنی، اٹلی، فرانس، اسپین، پولینڈ تک سے استعمال شدہ ملبوسات، گرم کپڑے، فٹ ویئر، بیگ، کھلونے، کمبل وغیرہ درآمد کیے جارہے ہیں درآمدات کا دائرہ صرف ملبوسات تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ بیرون ملک سے بڑے پیمانے پر استعمال شدہ کھلونے، کراکری، کٹلری آئٹمز، برقی آلات، ہیئرڈرائر، ہیئر اسٹریٹرنز، بچوں کے جھولے، بے بی کوٹس، سجاوٹ کی اشیا اور برتن بھی درآمد کیے جارہے ہیں۔
درآمدی سامان کی تین کٹیگریز اے، بی اور سی میں درجہ بندی کی جاتی ہے اور اسی درجہ بندی کے لحاظ سے ان کی قیمتیں بھی وصول کی جاتی ہیں۔ پاکستان میں 90فیصد سے زائد سی کٹیگری کے آئٹمز درآمد کیے جاتے ہیں ترقی یافتہ ملکوں میں فلاحی اور خیراتی ادارے استعمال شدہ اشیا جمع کرتے ہیں جو آکشن کے ذریعے استعمال شدہ اشیا کا بین الاقوامی سطح پر کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو فروخت کی جاتی ہیں یہ کمپنیاں انٹرنیٹ کے ذریعے لاٹس کی شکل میں مال فروخت کرتی ہیں۔
پاکستان سے استعمال شدہ ملبوسات اور دیگر اشیا افریقہ ملکوں کے علاوہ افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ریاستوں، فار ایسٹ ممالک کو بھی ری ایکسپورٹ کی جارہی ہیں پاکستان میں 50فیصد سے زائد یورپی آئٹمز جرمنی سے درآمد کیے جاتے ہیں ۔ پرانے کپڑوں کا کاروبار کرنے والے تاجروں اور درآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے استعمال شدہ اشیا کی درآمدی لاگت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ایک سال کے دوران استعمال شدہ اشیا کے 40فٹ کے کنٹینرز کی لاگت میں 50سے 60ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے مقامی سطح پر استعمال شدہ آئٹمز کی تھوک قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔
کراچی سے استعمال شدہ گرم ملبوسات اور دیگر اشیا کا 70فیصد اسٹاک اندرون ملک مختلف شہروں کو روانہ کیا جاتا ہے جس میں پنجاب کا حصہ 50فیصد سے زائد ہے۔ استعمال شدہ مکس کپڑوں کی قیمت 100سے 120روپے کلو، سجاوٹی اشیا کی قیمت 150 سے 200روپے کلو، لیدر مصنوعات 100سے 150روپے کلو، سافٹ کھلونوں کی قیمت 80سے 120روپے کلو، پلاسٹک اور دیگر دھاتوں کے کھلونوں کی قیمت 150سے 220روپے کلو بتائی جاتی ہے۔
ریٹیل کی سطح پر گرم جیکٹ 200 سے 300روپے، بلیزر(کوٹ) 400سے 500روپے، کپڑے کے فٹ ویئرز 150سے 200روپے، لیدر اور اسپورٹ فٹ ویئرز 300سے 400روپے، سوئیٹرز 50سے 100روپے، جرسیاں اور ٹی شرٹس 50سے 100 روپے تک میں فروخت کی جارہی ہیں لیدر کی جیکٹیں 500 سے 1500روپے تک فروخت کی جارہی ہیں، استعمال شدہ کھلونوں میں مشہور کارٹون کریکٹرز عام کھلونوں کے مقابلے میں دگنی قیمت پر فروخت کیے جاتے ہیں سیل سے چلنے والے کھلونے اپنے حجم بناوٹ اور لوگوں کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے مختلف قیمتوں پر فروخت کیے جاتے ہیں۔ صدر بازار میں آرٹ کے شوقین افراد استعمال شدہ مصنوعات کے ٹھیلوں پر منڈلاتے رہتے ہیں اور کسی بھی منفرد آرٹ کے نمونے کی منہ مانگی قیمت تک ادا کرنے کو تیار رہتے ہیں۔