پاکستان کی خوشحالی برطانیہ کی ترجیح ہے ڈپٹی ہائی کمشنر
کئی کمپنیاں تیل، گیس، پاور سیکٹر میں انویسٹ کرنا، ایک کچرے سے بجلی پیدا کرنا چاہتی ہے
فنانشل پروڈکٹس پر سیمنار میں پاکستانی کمپنیوں کو بلائیں گے، فیڈریشن عہدیداروں سے گفتگو۔ فوٹو: فائل
برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر جان انتھونی ٹکناٹ نے کہا کہ باہمی تجارتی اور معاشی سرگرمیوں میں استحکام اور اضافہ کرکے پاکستانی خوشحالی برطانیہ کی ترجیح ہے، کئی برٹش کمپنیاں پاکستان میں چل رہی ہیں اور مزید کئی کمپنیاں آئل، گیس اور پاور جنریشن سیکٹر بھی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
انہوں نے یہ بات فیڈریشن چیمبر آمد پر ایف پی سی سی آئی کے عہدیداروں سے ملاقات کے دوران کہی۔ اس موقع پرایف پی سی سی آئی کے صدر زکریا عثمان، نائب صدور اسماعیل ستار، خرم سعید، معروف بزنس مین شیخ جاوید الیاس، مرزا اشتیاق بیگ بھی موجود تھے۔ ڈپٹی ہائی کمشنر جان انتھونی ٹکناٹ نے مزید کہا کہ وہ برطانیہ میں فنانشل سروسز پروڈکٹس پر ایک سیمنار منعقد کریں گے اور پاکستانی فنانشل کمپنیوں کو اس میں شرکت کی دعوت دی جائے گی جو کہ ان کے لیے اچھا موقع ہے۔
جان انتھونی نے یہ بھی بتایا کہ ایک برٹش کمپنی واٹر دی سیلینیشن پلانٹ لگانے میں دلچسپی رکھتی ہے جس سے یومیہ لاکھوں گیلن قابل استعمال پانی دستیاب ہوگا۔ اس کے علاوہ ایک اور برٹش کمپنی سالڈ ویسٹ کے ذریعے پاور جنریشن پلانٹ بھی لگانا چاہتی ہے، اس سے نہ صرف بجلی پیدا ہوگی بلکہ بڑی مقدار میں سالڈ ویسٹ کا فائدہ مند استعمال ہوگا۔
ڈپٹی ہائی کمشنر نے میڈ ان پاکستان تجارتی نمائش کی برطانیہ میں انعقاد سے متعلق فیڈریشن چیمبر کے نائب صدر خرم سعید کی تجویز کو سراہا اور اپنی پوری مدد اور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ زکریا عثمان نے کہا کہ برطانیہ میں پاکستانی مصنوعات کی بے پناہ مانگ ہے اور موجودہ باہمی تجارتی شماریات اس طلب کی صیح عکاسی نہیں کرتیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سالانہ 3 بلین ڈالر کے باہمی تجارت کے روشن امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس حقیقت کے با وجود کہ پاکستانی صنعتیں ملک میں بجلی کے بحران سے شدید متاثر ہیں لیکن پھر بھی اچھا کام کررہی ہیں، تاہم امید ہے کہ توانائی کا بحران جلد ختم ہو جائیگا، ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوجائے گی لیکن یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اب یہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔
انہوں نے یہ بات فیڈریشن چیمبر آمد پر ایف پی سی سی آئی کے عہدیداروں سے ملاقات کے دوران کہی۔ اس موقع پرایف پی سی سی آئی کے صدر زکریا عثمان، نائب صدور اسماعیل ستار، خرم سعید، معروف بزنس مین شیخ جاوید الیاس، مرزا اشتیاق بیگ بھی موجود تھے۔ ڈپٹی ہائی کمشنر جان انتھونی ٹکناٹ نے مزید کہا کہ وہ برطانیہ میں فنانشل سروسز پروڈکٹس پر ایک سیمنار منعقد کریں گے اور پاکستانی فنانشل کمپنیوں کو اس میں شرکت کی دعوت دی جائے گی جو کہ ان کے لیے اچھا موقع ہے۔
جان انتھونی نے یہ بھی بتایا کہ ایک برٹش کمپنی واٹر دی سیلینیشن پلانٹ لگانے میں دلچسپی رکھتی ہے جس سے یومیہ لاکھوں گیلن قابل استعمال پانی دستیاب ہوگا۔ اس کے علاوہ ایک اور برٹش کمپنی سالڈ ویسٹ کے ذریعے پاور جنریشن پلانٹ بھی لگانا چاہتی ہے، اس سے نہ صرف بجلی پیدا ہوگی بلکہ بڑی مقدار میں سالڈ ویسٹ کا فائدہ مند استعمال ہوگا۔
ڈپٹی ہائی کمشنر نے میڈ ان پاکستان تجارتی نمائش کی برطانیہ میں انعقاد سے متعلق فیڈریشن چیمبر کے نائب صدر خرم سعید کی تجویز کو سراہا اور اپنی پوری مدد اور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ زکریا عثمان نے کہا کہ برطانیہ میں پاکستانی مصنوعات کی بے پناہ مانگ ہے اور موجودہ باہمی تجارتی شماریات اس طلب کی صیح عکاسی نہیں کرتیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سالانہ 3 بلین ڈالر کے باہمی تجارت کے روشن امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس حقیقت کے با وجود کہ پاکستانی صنعتیں ملک میں بجلی کے بحران سے شدید متاثر ہیں لیکن پھر بھی اچھا کام کررہی ہیں، تاہم امید ہے کہ توانائی کا بحران جلد ختم ہو جائیگا، ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوجائے گی لیکن یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اب یہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔