قائمہ کمیٹی نے کراچی میں زیر قبضہ سرکاری مکانات خالی کرانیکی تجاویز طلب کرلیں

50 فیصد مکمل ہونیوالے ترقیاتی منصوبوں کی فہرست طلب، اگلے اجلاس میں زیرقبضہ مکانات خالی کرانیکی حکمت عملی طے ہوگی

وفاقی رہائشی کالونیوں میں رہائشی افراد کے اعداد وشمار مرتب کرنے کی ہدایت، قصر ناز کی سیکیورٹی کیلیے محافظ تعینات کرنے کی ہدایت۔ فوٹو: فائل

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے کراچی میں قبضہ کیے گئے سرکاری رہائشی مکان اور فلیٹ خالی کرانے کے لیے اسٹیٹ آفس سے مکمل سفارشات طلب کرلی ہیں، آئندہ اجلاس میں زیر قبضہ رہائشی مکانات اور فلیٹس خالی کرانے کی حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین حاجی اکرم انصاری نے کراچی کی وفاقی رہائشی کالونیوں میں رہائش پذیر ملازمین کا اعداد و شمار مرتب کرنے کے لیے اسٹیٹ آفس کو سروے شروع کرکے رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے، کمیٹی کا اجلاس منگل کو پی ڈبلیو ڈی آفس میں ہوا، اس موقع پر کمیٹی کے ممبران رجب علی بلوچ، صاحبزادہ فیض الحسن، غلام محمد لالی، ناصر اقبال بوال، طاہرہ اورنگزیب، وفاقی سیکریٹری ہاؤسنگ شاہ رخ ارباب، ڈی جی عطاالحق اختر، جوائنٹ سیکریٹری افضال، چیف انجینئر سریش مل موجود تھے۔


چیئرمین حاجی اکرم انصاری نے کہا کہ ملک میں سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر قصر ناز کے تحفظ کے لیے ایک ہفتے میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب اور 6 گارڈز تعینات کیے جائیں، وفاقی حکومت نے نوابشاہ میں گیسٹ ہاؤس بنایا ہے لیکن وہاں اراکین قومی اسمبلی اور محکموں کے افسران کم جاتے ہیں اس لیے حکومت اسے ووکیشنل سینٹر یا اسپتال بناکر عوامی مفاد میں استعمال کرے، جن ترقیاتی تمام منصوبوں کا 50 فیصد سے زائد کام مکمل ہوچکا ہے اس کی فہرست کمیٹی کو مہیا کی جائے۔

پی ڈبلیو ڈی کا جو بھی عملہ سپریم کورٹ یا نیب کے پاس ہے وہ 7 دن کے اندر اپنے محکمے میں حاضر ہوں ورنہ ان کی تنخواہ بندکردی جائے، سیکریٹری ہاؤسنگ نے بتایا کہ قصر ناز کی تزئین جاری ہے، کراچی ساؤتھ زون میں پی ڈبلیو ڈی کے1388 ملازم کام کررہے ہیں، کراچی میں وفاقی حکومت کے 8478 رہائشی یونٹ ہیں، نوابشاہ ریسٹ ہاؤس کے ایک سویٹ پر ڈی آئی جی نے قبضہ کرلیا ہے ، اراکین اسٹینڈنگ کو گارڈن ہوٹل کا دورہ کرایا گیا۔
Load Next Story