مقامی مارکیٹ میں دبئی و جاپان کے درآمدی پینٹ کا اجارہ

خام مال کی درآمد پر25 فیصد ڈیوٹی، زائد پیداواری لاگت سے مقامی صنعت کو نقصان

1968 میں قائم مینوفیکچررز کی تنظیم بھی غیر فعال، بحالی کیلیے سرگرمیاں شروع۔ فوٹو: فائل

مقامی پینٹ انڈسٹری کے بنیادی خام مال کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی میں رعایت نہ ملنے اور زائد پیداواری لاگت کے باعث دبئی اور جاپان سے درآمد ہونے والے پینٹ نے مقامی مارکیٹ میں اجارہ داری قائم کرلی ہے۔

پینٹ انڈسٹری کے باخبر ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ دیگر صنعتی شعبوں کے بنیادی خام مال کی درآمد پر10 فیصد ترغیبی کسٹم ڈیوٹی عائد ہے لیکن پینٹ انڈسٹری اس ترغیب سے محروم رکھا گیا ہے لہٰذا پینٹ انڈسٹری اپنے بنیادی خام مال جن میں پگمنٹ کلر، اسپیشل ریزن اور متعدد اقسام کے کیمیکلز شامل ہیں کی درآمد پر 25 فیصد کسٹم ڈیوٹی ادا کرنے پر مجبور ہے۔


دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان میں غیرملکی پینٹ کی درآمدات پر بھی 25 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہے جس کی وجہ سے پاکستانی مارکیٹ میں دبئی اور جاپان سے درآمدہونے والے 6 سے زائد برانڈز کے پینٹس پاکستانی پینٹ کے مقابلے میں 10 فیصد کم قیمت پر دستیاب ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ فی الوقت ملک میں منظم وغیرمنظم شعبے کے تحت پینٹ تیار کرنے والے تقریبا 400 سے زائد چھوٹے بڑے یونٹس قائم ہیں جن کی زیادہ تعداد پنجاب میں ہے جبکہ کراچی میں گزشتہ چند سالوں سے مستقل بدامنی کی وجہ سے بیشتر سرفہرست اور مشہور پینٹ انڈسٹریاں بھی پنجاب منتقل ہوگئی ہیں۔

ذرائع نے اس امر کا بھی انکشاف کیا کہ پینٹ انڈسٹری کے مسائل کے حل کے لیے سال 1968 میں پاکستان پینٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے نام سے ایک تنظیم قائم کی گئی تھی لیکن اس تنظیم کو صرف چند بڑے صنعتکاروں نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا اور رکنیت سازی وصنعتکاری کے فروغ کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے جس کی وجہ سے آج مذکورہ تنظیم طویل دورانیے سے غیرفعال ہوچکی ہے۔

اس ضمن میں پینٹ انڈسٹری کے ایک دیرینہ نمائندے اور کاٹی کے سابق چیئرمین اکبر فاروقی نے ''ایکسپریس'' کے استفسار پر بتایا کہ چھوٹے ودرمیانے درجے کی پینٹ انڈسٹری اپنی غیرفعال تنظیم کی بحالی کے لیے دوبارہ متحرک ہوگئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے ماہوارایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کا پینٹ افغانستان برآمدکیا جارہا ہے اور افغانستان پاکستانی پینٹ کی ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں سالانہ ایک کروڑ لیٹر سے زائد کی پیداوار ہورہی ہے اور پیداوار کے مقابلے میں ڈیمانڈ زیادہ ہے۔
Load Next Story