پاک افغان عسکری رابطہ… بریک تھرو

حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کے وسیع تر تناظر میں پاک افغان مشترکہ اقدامات اس امر کا پیش خیمہ ہیں

سانحہ پشاور کے بعد دہشت گردوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے، فوٹو: آئی ایس پی آر

افغانستان کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل شیر محمد کریمی اور ایساف کمانڈر جنرل جان کیمپبل نے جنرل ہیڈکوارٹر میں پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات میں یقین دہانی کرائی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور وہاں موجود پاکستانی طالبان کے خلاف ہر ممکن کارروائی کی جائے گی ۔

بلاشبہ پاک افغان رابطہ اس اعتبار سے نہ صرف خوش آیند ہے بلکہ ماضی کے برعکس جس میں دونوں ممالک اپنی سرحدی حدود میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرتے تھے یا کراس بارڈر مسائل کے حل کے لیے کبھی خار دار رکاوٹوں، دیوار کی تعمیر اور کبھی تزویراتی گہرائی (اسٹرٹیجک ڈیپتھ ) کے حوالے سے معاملات طے کرنے میں الجھے رہے مگر اس بار افغان حکام نے دہشت گردی کے خلاف بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردوں کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا جو بریک تھرو ہے ۔سہ فریقی ملاقات میں بارڈر کنٹرول کے معاملات کو مزید موثر بنانے پر زور دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق افغان جنرل اور ایساف کمانڈر نے سانحہ پشاور پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور جنرل راحیل شریف کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب میں کامیابیوں پر مبارکباد پیش کی ۔

حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کے وسیع تر تناظر میں پاک افغان مشترکہ اقدامات اس امر کا پیش خیمہ ہیں کہ طالبان کے خلاف کارروائی دو طرفہ ہونے والی ہے جس کا آغاز بھی ہوچکا ہے، یوں خطے میں نئی عسکری، سیاسی ،سفارتکارانہ حرکیات ، حقائق ، مفاہمت اور اسٹرٹیجک حکمت عملی کے کئی امکانات پیدا ہوئے ہیں مگر سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ پاک فوج کے ساتھ ساتھ سویلین حکومت عملی اقدامات اور طے کردہ اہداف پر تیزی سے عملدرآمد کی کس پوزیشن میں ہے۔

سیاست کا اصول ہے کہ اس میں عمل گفتار سے زیادہ بلند آہنگ ہوتا ہے ، چنانچہ عوام ، میڈیا ،سول سوسائٹی اس سوال کا جواب مانگ سکتی ہے کہ حکومت کیا کر رہی ہے، فوج تو وزیرستان میں اپنا کام احسن طریقے سے انجام دے رہی ہے ، اس نے دہشت گردوں کا نیٹ ورک ، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور پناہ گاہوں کو نیست ونابود کردیا ہے ، سیکڑوں دہشت گرد ان کے کمانڈر ہلاک و زخمی کیے ، ان کی قیادت ، حلیفوں اور افرادی قوت کو تتر بتر کردیا اب وہ ''یوسف بے کاررواں'' ہیں ۔ لیکن اس ضمن میں ایک حوصلہ افزا بیان وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے آیا کہ وہ ملک و قوم کے لیے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی قیادت خود کریں گے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ نتائج کچھ بھی ہوں دہشتگردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔


اگلے روز ہی نواز شریف کی زیر صدارت انسداد دہشتگردی سے متعلق اجلاس میں سیاسی اور عسکری قیادت نے دہشتگردی کا قلع قمع کرنے اور دہشتگردوں سے بیگناہوں کے خون کا حساب لینے کے عزم کا اظہار کیا ۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر، ڈی جی ملٹری آپریشنز، ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ نواز شریف نے کہا کہ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشن ضرب عضب جاری رہے گا۔

اسی حکمت عملی اور عزم کے ساتھ کراچی سمیت ملک کے تمام شہروں میں آپریشن ناگزیر ہے، منی پاکستان میں روز بیگناہ انسان مارے جا رہے ہیں ، مگر ساتھ ہی طالبان کمانڈر اور دیگر کالعدم تنظیموں کے دہشت گرد بھی ملیامیٹ کیے جا رہے ہیں، یہ کام سول حکومت اور اس کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے کہ شہری آزادیوں ، انسانی حقوق اور شہریوں کی جان ومال کا تحفظ کرتے ہوئے کارروائی کریں جو بلا تفریق ہو، کسی کو نہ بخشا جائے جو بدامنی میں ملوث ہو اس سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے، جو اطلاعات سامنے آرہی ہیں اس سے محسوس ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ دو واضح اہداف کے ساتھ قوم کے روبرو آئی ہے ،ایک طرف ہماری فوج کی دہشت گردوں کے خلاف آل آؤٹ وار ہے اور دوسری طرف قوم سویلین حکومت کی داخلی کارکردگی کے بارے میں بھی ایک بڑی خوشخبری سننے کی منتظر ہے جو نتیجتاً اس طرح کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز ہونی چاہیے کہ ''طالبان نے ہتھیار ڈال دیے۔''

تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے قومی اتحاد و اشتراک کا عمل نظر آنا چاہیے، اس میں کوئی ابہام ، تذبذب ، ٹیکٹیکل اور اسٹرٹجیکل مغالطہ اور بے اعتمادی اس قومی مشن کے درمیان جگہ نہ پا سکے جب کہ اتفاق رائے پیدا کرنے کوشش لازمی ہے کیونکہ نیشنل ایکشن پلان کمیٹی کے اجلاس میں فوجی عدالتوں کے قیام اور مدارس میں اصلاحات کے معاملے پر عدم اتفاق ظاہر کیا گیا۔ کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس منگل کو وزیر داخلہ چوہدری نثار کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا ۔ اس موقع پر کمیٹی کے ارکان کی اکثریت کی رائے تھی کہ مدارس سے متعلق معاملات پر احتیاط کی ضرورت ہے۔ دہشتگردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے نئی عدالتوں کا نام''اسپیڈی ٹرائل کورٹس'' رکھنے کی تجویز ہے۔ اسپیڈی ٹرائل کورٹس کے حوالے سے کمیٹی کے ارکان اپنی رائے دیں گے ۔ اس سلسلہ میں مزید پیش رفت ہونی چاہیے ۔

تاہم یہ اطلاع امید افزا ہے کہ سانحہ پشاور کے بعد دہشت گردوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے ، ملک بھر میں سرچ آپریشن جاری ہے، پولیس اور حساس اداروں نے مشترکہ کارروائیوں میں 10 دہشتگردوں سمیت مزید800 کے قریب مشتبہ افراد گرفتارکر لیے ، گرفتار افراد میں بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندے شامل ہیں ، درجنوں افراد سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ۔ ادھر قومی اسمبلی کا اجلاس 5جنوری 2015ء کو بلانے کے لیے وزارت پارلیمانی امور نے وزیراعظم سیکریٹریٹ کو سمری بھیج دی ہے ۔ امکان ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایکشن پلان کو بحث کے لیے پیش کیاجائے گا ۔بحث کے فوری بعد قوم کی تسکین اور تالیف قلب کے لیے ٹھوس کارروائی کو یقینی بنایا جائے، سول سوسائٹی بھی قومی مفادات کا ادراک کرے اور عوامی سطح پر بھی ہمارے فعال تھنک ٹینک عوام میں دہشت گردی کے خلاف شعور کی بیداری میں میڈیا سے مل کر اپنا قومی کردار ادا کریں ۔

والٹیئر کا قول ہے کہ '' یہ بات خطرناک ہے کہ آپ اس وقت راست ہوں جب حکومت غلطی پر ہو۔'' مگر یہ جمہوریت ہے جس میں اختلاف رائے کو انتہا پسندی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ دہشت گردی مخالف پلان میں سویلین حکومت اپنا بڑا حصہ ڈالنے میں پیش قدمی کرے ۔حکومت اپنی ترجیحات اور پلان کو مزید موثر بنائے۔ کیونکہ سانحہ پشاور کے بعد امن وامان کا قیام ، حکومتی رٹ کی بحالی اور قومی سلامتی کے بنیادی فرائض کی انجام دہی اہم کام ہیں ۔دہشت گردی ملکی تاریخ میں فتح و شکست ''میک یا بریک''کا فیصلہ کن دورانیہ ہے۔ اس جنگ میں قوم فتح کی متمنی ہے ۔
Load Next Story