کل اور آج کا فرق

آج پاکستان سمیت ساری دنیا دہشت گردی کے جس عفریت سے خائف ہے اور خود سامراجی ملک جس سے خوف کا اظہار کر رہے ہیں۔

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

WASHINGTON:
16 دسمبر کے بعد پاکستان میں جو ایک بہت بڑی تبدیلی آئی کہ دہشت گردی کے خلاف ساری جماعتیں اور عوام متحد ہو گئے ہیں۔ تازہ اعلانات کے مطابق ہمارے وزیر اعظم فرما رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کو شہروں اور دیہاتوں تک پھیلا دیا جائے گالیکن اس قلب ماہیت کی وجہ کیا ہے؟اس سوال کا پیدا ہونا منطقی ہے کہ جو لوگ انتہا پسندی کے خلاف جنگ کو ناگزیر کہہ رہے تھے انھیں احمق، بے وقوف کہا جا رہا تھا۔ آج اسی موقف کو کیوں اپنایا جا رہا ہے؟ دہشتگردی کے مسئلے کا واحد حل مذاکرات کی وہ راگنی جو مدتوں جاری رہی وہ اچانک طبل جنگ میں کیوں بدل گئی ہے؟

اسلام آباد کے ڈی چوک پر 25-20 ہزار مردوں، عورتوں، بچوں کا مہینوں پر پھیلا ہوا دھرنا اس کے بعد کراچی سے لاہور تک وہ جلسے جن میں مرد، عورت، بچے، بوڑھے، جوان بصورت سیلاب شریک ہو رہے تھے ان کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ 67 سال سے عوام پر مسلط اس ظالمانہ استحصالی نظام کو بدل ڈالو۔ اور عوام کے اس تاریخی اتفاق رائے اور جوش و جذبے کو دیکھ کر اس استحصالی نظام کے رکھوالوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ اس طوفان بلاخیز کا رخ موڑنے کی ہر کوشش ناکام ہو رہی تھی۔

اس طوفان بلا خیز کی قیادت کرنے والوں پر الزامات کے گولے داغے جا رہے تھے اور سب سے بڑا الزام یہ لگایا جا رہا تھا کہ دھرنوں کی وجہ سے ملکی معیشت تباہ ہو رہی ہے کوئی اس ملک میں سرمایہ کاری کرنے پر تیار نہیں وغیرہ وغیرہ جب کہ حقیقت یہ تھی کہ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ مافیا کے خوف کی وجہ سے نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری رک گئی تھی بلکہ ملکی سرمایہ دار طبقہ نسبتاً محفوظ علاقوں اور بیرون ملک اپنا سرمایہ اور کاروبار منتقل کر رہا تھا کراچی جیسے معاشی ہب میں سرمایہ کاری کے حوالے سے الو بول رہا تھا۔ اس حقیقت کو پس پشت ڈال کر نظام کی تبدیلی کی پرامن لیکن تاریخی تحریک پر طرح طرح کے الزامات لگائے جا رہے تھے۔

لگ بھگ تین ماہ تک جاری رہنے والی اور عوام میں ایک بڑی فکری تبدیلی لانے والی اس طبقاتی تحریک کا رخ 16 دسمبر 2014ء کو اچانک اس طرح مڑ گیا کہ اہل عقل اہل دانش اس معجزاتی تبدیلی اور اس کے مضمرات کو دیکھ کر گنگ رہ گئے۔اس قسم کی بڑی اور معنی خیز تبدیلیوں کے اسباب اگرچہ کہ مقامی اور قومی نظر آتے ہیں لیکن اگر بہ نظر غائر ان حیرت انگیز تبدیلیوں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے سامراجی مفادات کارفرما ہوتے ہیں اور ان مفادات میں کوئی اصول کوئی اخلاقیات کوئی عوامی مفاد کی رمق بھی نہیں ملتی بس سامراجی مفادات ہی اس قسم کی سازشانہ تبدیلیوں کا اصل محرک ہوتے ہیں۔


مثال کے طور پر آج پاکستان سمیت ساری دنیا دہشت گردی کے جس عفریت سے خائف ہے اور خود سامراجی ملک جس سے خوف کا اظہار کر رہے ہیں کیا یہ بلا ازخود پیدا ہوئی ہے؟ جی نہیں بلکہ اس کو جنم دینے والے بھی سامراجی ہیں۔ اس بلائے عظیم کو پیدا کرنے کے دو سبب نظر آتے ہیں اول یہ کہ افغانستان سے روس کو نکالنے کے لیے اس بلا کی ضرورت تھی سو امریکا ضیا الحق کی مدد سے کروڑوں ڈالر خرچ کر کے دنیا بھر کے مذہبی انتہا پسندوں کو ہانک کر افغانستان لایا اور روس کو افغانستان سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی گئی یہ عفریت بعد میں طالبان کے نام سے سامنے آیا۔

اس عفریت کو جنم دینے اس کی پرورش کرنے کا دوسرا سامراجی مقصد یہ تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے ظلم و جبر نے ساری دنیا کے عوام میں سخت بے چینی اور اضطراب پیدا کر دیا تھا اور یہ اضطراب ساری دنیا میں پھیلتا جا رہا تھا اس اضطراب کو نیا رخ دینے کے لیے 9/11 کا ڈرامہ رچایا گیا۔ 9/11 نے ساری دنیا کی توجہ کو سرمایہ دارانہ نظام کی چیرہ دستیوں سے ہٹا کر 9/11 کی طرف موڑ دیا۔ پھر سامراجی میڈیا نے اس حادثے کی اتنے بڑے پیمانے پر تشہیر کی کہ اسے دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بنا دیا اصل مسئلہ پس منظر میں چلا گیا اسی 9/11 کو جواز بنا کر امریکا نے عراق پر، پھر افغانستان پر حملہ کر دیا جس کا اصل مقصد عراق کے تیل کی دولت پر مکمل قبضہ اور افغانستان کے راستے ایشیا میں اپنی فوجی موجودگی کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔

اگرچہ ناقص منصوبہ بندی اور بے لگام حکمت عملی کی وجہ سے امریکا کے مقاصد تو پورے نہ ہو سکے لیکن وہ ساری دنیا کو دہشت گردی کے خوف میں مبتلا کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ہمارے حکمران طبقے کے محترم اراکین کہہ رہے ہیں کہ 16/12 کا المیہ پاکستان کے لیے 9/11 سے بڑا المیہ ثابت ہوا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس سانحے نے قوم کی سوچ بدل ڈالی ہے۔ اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ان تمام طاقتوں کو دہشت گردی کے خلاف منہ کھولنا پڑا جو کل تک دہشت گردوں کو اپنے ہی بچے، اپنے ہی بھائی، اپنے ہی ہم وطن اور ہم مذہب کہہ رہی تھیں، آج یہ طاقتیں دہشت گردوں کو شیطان کہہ رہی ہیں اور انھیں انسان ماننے سے انکاری ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومت دہشتگردی اور دہشت گردوں کے مکمل خاتمے میں کامیاب ہو جائے گی؟ کیونکہ اب القاعدہ طالبان اور داعش متحد ہو رہے ہیں اس خطرناک اتحاد کو ناکام بنانے کے لیے مسلح فوجی ماہرین باشعور سیاستدانوں اہل دانش اور عوام کی اجتماعی دانش کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بلا امتیاز مذہب و ملت ایک بہت بڑے اتحاد کی ضرورت ہے جس میں ان تمام قوتوں کی عملی حمایت شامل ہونی چاہیے جو دہشت گردی کے خاتمے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہوں۔
Load Next Story