بلدیاتی نظام پر عوامی اعتماد بنیادی شرط
اختیارات کی عدم مرکزیت کے لیے ہر وہ کوشش مستحسن ہوگی جس سے عوام کے مسائل کا کوئی حل نکل سکے
سندھ اور خاص طور پر کراچی کی صورتحال تشویش ناک اورلاقانونیت کے حوالے سے وطن عزیز کے 18 کروڑ عوام کے لیے دردانگیز ہے. فوٹو: فائل
صدرآصف علی زرداری اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے درمیان پیر کو لندن میں ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنمائوں نے ملک کی سیاسی صورتحال ، سندھ میں بلدیاتی نظام، اتحادی امور اور دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں وزیرداخلہ رحمن ملک ، برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن اورایم کیو ایم کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔دونوں رہنماؤں نے آیندہ الیکشن مل کر لڑنے پر غور کیا، ملاقات میںدہری شہریت کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔ادھر سندھ اسمبلی نے سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012 ایوان میں ہنگامہ آرائی کے دوران کثرت رائے سے منظور بھی کر لیا۔ سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس2012 صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو نے پیش کیا۔
قبل ازیں حکومتی اتحاد سے الگ ہونے والی جماعتوں مسلم لیگ فنکشنل، اے این پی، نیشنل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق ہم خیال کے ارکان نے آرڈیننس کے خلاف اسپیکر کے ڈائس کے سامنے احتجاج جاری رکھا، آرڈیننس کی کاپیاں پھاڑ دیں اور آرڈیننس نامنظور کے نعرے لگائے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ سندھ اور خاص طور پر کراچی کی صورتحال تشویش ناک اورلاقانونیت کے حوالے سے وطن عزیز کے 18 کروڑ عوام کے لیے دردانگیز ہے، اور معاملہ صرف بلدیاتی نظام کے نفاذ پر اتفاق رائے کا نہیں بلکہ منی پاکستان میں قانون کی حکمرانی کی بحالی اور شہریوں کو ان کی زندگیوں کے تحفظ کا یقین دلانا بھی ہے ،کیونکہ بلدیاتی نظام پر عملدرآمد اسی صورت میں ممکن ہے جب وہاں امن قائم ہو۔
جمہوری رویے مستحکم ہوں، شعلہ بیانی نہ ہو، تمام اسٹیک ہولڈرز میں خیر سگالی، پر امن بقائے باہمی اور سیاسی اشتراک عمل کی امنگ موجود ہو، جب کہ زمینی حالات سخت اعصاب شکن ہیں۔کراچی میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ آنکھوں کے سامنے لاشیں نہ گررہی ہوں۔یہ خون ناحق بند ہوگا تبھی عوام کو نئے بلدیاتی نظام کے ثمرات مل سکیں گے۔چنانچہ اس تناظر میں لندن میں صدر مملکت کی الطاف حسین سے ملاقات کا خیر مقدم کرنا چاہیے اور بلدیاتی نظام کے اختلافی پہلوئوں پر سندھ اسمبلی میں ترامیم لانی چاہییں ۔ جمہوریت تحمل وبرداشت اور اختلافات کوپارلیمانی روایات کے تحت حل کرنے کا ہی نظام ہے۔تاہم سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے نفاذ کے حوالے سے صورتحال خاصی تہلکہ خیز بنی ہوئی ہے جس میں صدر مملکت اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے مابین ملاقات اور مختلف حساس امور پر تبادلہ خیالات کا مفید نتیجہ نکلنا ناگزیر ہے۔
افسوس ہے کہ سندھ اسمبلی میں بل کی کثرت رائے سے منظوری کے بعد سیاسی سطح پر خیر سگالی اوربلدیاتی نظام کی عمومی قبولیت کی خوشگوار فضا نہیں بن سکی جب کہ اس سمت میں سندھ حکومت اور متحدہ کی قیادت کو مزید جمہوری اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ نافذ ہونے والا نظام عوام کی خواہشات و توقعات کے مطابق کام کرسکے اور اس کے خلاف اختلافی امور کو طاقت کے بجائے جمہوری مکالمہ اور اسمبلی کے اندر بیٹھ کر طے کرنے کی کوئی سبیل نکالی جاسکے ۔ صدر زرداری کا یہ عزم کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کا اتحاد قائم رہے گا اور دونوں جماعتیں جمہوریت کے تسلسل کے لیے مشترکہ کوششیں کرتی رہیں گی ایک اچھا پیغام ہے۔ ایم کیوایم کے قائدکا کہنا ہے کہ دہری شہریت کا معاملہ حل کرنے اور اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے ساتھ ساتھ ملاقات میں آیندہ انتخابات کے دوران دونوں جماعتوں میں تعاون پر بات چیت ہوئی ہے۔
اس معاملے پر دونوں جماعتوں کی کمیٹیاں معاملات طے کریں گی اور صدر زرداری جلد لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی خوشخبری سنائیں گے ،الطاف حسین نے بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ان کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حب الوطنی پر شک نہ کیا جائے،الطاف حسین نے صدر مملکت کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے نیو یارک روانہ ہونے سے قبل اچانک وفاقی حکومت کو دیے جانے والے الٹی میٹم کی وضاحت بھی کی اور ان کے استدلال کے مطابق یہ فیصلہ پارٹی کا تھاجو عوامی مطالبات کے باعث دیا گیا تھا ۔بہر کیف سیاسی حلقوں میں اس کو کچھ اور معنے پہنائے گئے ۔اس وقت سندھ سمیت ملک بھر کے مقتدر سیاست دانوں کو جذباتیت سے گریزاور قومی امور پر سنجیدہ اتفاق رائے کا مشورہ ہی دیا جاسکتا ہے۔
سیاسی اور دیگر تمام مکاتب فکر کو وطن عزیز کی حالت پر رحم کرتے ہوئے ان چیلنجز کا ادراک کرنا چاہیے جو سیاسی افق پر کسی ہولناک طوفان کی خبر دے رہے ہیں۔ عوام سیاست دانوں سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کے دکھوں کا مداوا کریں گے، قتل وغارتگری اور قانون شکن عناصر کا قلع قمع کرنے کے لیے سیاسی اور معاشی نظام کی بنیادیں مضبوط کریں گے تاکہ عالمی برادری میں وطن عزیز کا وقار قائم ہو ،اس پر ڈرون حملے نہ ہوں،دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جاسکے۔بلاشبہ دیکھا جائے تو ہزار مصائب اور نشیب وفراز کے باوجود موجودہ حکومت سفینہ جمہوریت کو اپنوں اور غیروں کے برپا کیے ہوئے طوفانوں سے نکال لانے میں قدرے کامیابی حاصل کی ہے ،مگر اس کامیابی میں اب قوم کو بھی شریک ہونے کا موقع ملنا چاہیے اور اسے غربت، مہنگائی ، لوڈ شیڈنگ، بجلی کے اضافی بلوں، بے وزگاری اور بیماریوں کے تھپیڑوںسے نجات ملی چاہیے۔
جمہوری مدت کی تکمیل اس سسٹم کی بڑی کامیابی ہے، لیکن جمہوریت کی اس طاقت اور لچک کو مزید بہتر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ جمہوری سفرجیسے تیسے بھی گزرا ہے اسے بہرحال کسی آمریت کے خطرے سے دوچار نہیں ہونا پڑا کیونکہ عدلیہ نے جمہوریت کے تحفظ کی قسم کھائی ہے ، چنانچہ بلدیاتی نظام کے نفاذ اور دیگر قومی معاملات کے تصفیہ کے لیے بات چیت اگر لندن میں ہوسکتی ہے تو اسی روایت کو تمام سیاسی رہنما ملکی سیاسی کلچر کا حصہ کیوں نہیں بنا لیتے ۔محاذ آرائی میں سب کا نقصان ہے،جب کہ مکالمے اور جمہوری رویے کے فروغ میں ملک و قوم کا فائدہ ہے۔متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ سندھی قوم پرست اسٹبلشمنٹ کے پیرول پر ہیںاور سندھ دشمن قوتوں کی ایما پر بلدیاتی نظام کی مخالفت کررہے ہیں ۔
ایم کیو ایم کے صوبائی وزراء فیصل سبزواری، رضا ہارون کے مطابق آرڈیننس سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش نہیں، کراچی سے کشمور تک ایک ہی بلدیاتی نظام ہے۔ ادھر سندھ میں نئے بلدیاتی آرڈیننس کے خلاف سندھ بچائوکمیٹی اور قوم پرست جماعتوں کی کال پر اندرون سندھ مختلف شہروں میںشٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی، پٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشن بند رہے۔ سندھ یونائیٹڈ پارٹی، ترقی پسند پارٹی، جئے سندھ و قومی محاذ، فنکشنل لیگ، نواز لیگ کے کارکنوں نے دھرنے دیے، ہوائی فائرنگ کے واقعات بھی ہوئے۔سندھ بارکونسل کے وائس چیئرمین نے بلدیاتی آرڈیننس کے خلاف منگل کو سندھ بھر میں وکلا کو ہڑتال کی کال دی۔
فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر پگارا نے کہا ہے کہ سندھ بلدیاتی آرڈیننس کسی صورت قبول نہیں کرسکتے ، ضرورت پڑی تو سندھ کے عوام کو بیدار کرنے کے لیے وہ ہر ضلع کا دورہ کریں گے۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما ظفرعلی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے بلدیاتی آرڈیننس سے کراچی اور سندھ نئے تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے بلدیاتی نظام کو وہ تحفظ دے جسے بنیاد بنا کرپورے ملک میں یکساں بلدیاتی نظام کو یقینی بنایا جاسکے۔اختیارات کی عدم مرکزیت کے لیے ہر وہ کوشش مستحسن ہوگی جس سے عوام کے مسائل کا کوئی حل نکل سکے۔ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کووقت کی نزاکت کا خیال کرنا چاہیے اور امن کے قیام کے لیے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھنی چاہیے۔بلدیاتی نظام پر عوامی اعتماد بنیادی شرط ہے، مگر حتمی منزل عام انتخابات کا انعقاد ہونا چاہیے۔
ملاقات میں وزیرداخلہ رحمن ملک ، برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن اورایم کیو ایم کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔دونوں رہنماؤں نے آیندہ الیکشن مل کر لڑنے پر غور کیا، ملاقات میںدہری شہریت کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔ادھر سندھ اسمبلی نے سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012 ایوان میں ہنگامہ آرائی کے دوران کثرت رائے سے منظور بھی کر لیا۔ سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس2012 صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو نے پیش کیا۔
قبل ازیں حکومتی اتحاد سے الگ ہونے والی جماعتوں مسلم لیگ فنکشنل، اے این پی، نیشنل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق ہم خیال کے ارکان نے آرڈیننس کے خلاف اسپیکر کے ڈائس کے سامنے احتجاج جاری رکھا، آرڈیننس کی کاپیاں پھاڑ دیں اور آرڈیننس نامنظور کے نعرے لگائے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ سندھ اور خاص طور پر کراچی کی صورتحال تشویش ناک اورلاقانونیت کے حوالے سے وطن عزیز کے 18 کروڑ عوام کے لیے دردانگیز ہے، اور معاملہ صرف بلدیاتی نظام کے نفاذ پر اتفاق رائے کا نہیں بلکہ منی پاکستان میں قانون کی حکمرانی کی بحالی اور شہریوں کو ان کی زندگیوں کے تحفظ کا یقین دلانا بھی ہے ،کیونکہ بلدیاتی نظام پر عملدرآمد اسی صورت میں ممکن ہے جب وہاں امن قائم ہو۔
جمہوری رویے مستحکم ہوں، شعلہ بیانی نہ ہو، تمام اسٹیک ہولڈرز میں خیر سگالی، پر امن بقائے باہمی اور سیاسی اشتراک عمل کی امنگ موجود ہو، جب کہ زمینی حالات سخت اعصاب شکن ہیں۔کراچی میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ آنکھوں کے سامنے لاشیں نہ گررہی ہوں۔یہ خون ناحق بند ہوگا تبھی عوام کو نئے بلدیاتی نظام کے ثمرات مل سکیں گے۔چنانچہ اس تناظر میں لندن میں صدر مملکت کی الطاف حسین سے ملاقات کا خیر مقدم کرنا چاہیے اور بلدیاتی نظام کے اختلافی پہلوئوں پر سندھ اسمبلی میں ترامیم لانی چاہییں ۔ جمہوریت تحمل وبرداشت اور اختلافات کوپارلیمانی روایات کے تحت حل کرنے کا ہی نظام ہے۔تاہم سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے نفاذ کے حوالے سے صورتحال خاصی تہلکہ خیز بنی ہوئی ہے جس میں صدر مملکت اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے مابین ملاقات اور مختلف حساس امور پر تبادلہ خیالات کا مفید نتیجہ نکلنا ناگزیر ہے۔
افسوس ہے کہ سندھ اسمبلی میں بل کی کثرت رائے سے منظوری کے بعد سیاسی سطح پر خیر سگالی اوربلدیاتی نظام کی عمومی قبولیت کی خوشگوار فضا نہیں بن سکی جب کہ اس سمت میں سندھ حکومت اور متحدہ کی قیادت کو مزید جمہوری اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ نافذ ہونے والا نظام عوام کی خواہشات و توقعات کے مطابق کام کرسکے اور اس کے خلاف اختلافی امور کو طاقت کے بجائے جمہوری مکالمہ اور اسمبلی کے اندر بیٹھ کر طے کرنے کی کوئی سبیل نکالی جاسکے ۔ صدر زرداری کا یہ عزم کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کا اتحاد قائم رہے گا اور دونوں جماعتیں جمہوریت کے تسلسل کے لیے مشترکہ کوششیں کرتی رہیں گی ایک اچھا پیغام ہے۔ ایم کیوایم کے قائدکا کہنا ہے کہ دہری شہریت کا معاملہ حل کرنے اور اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے ساتھ ساتھ ملاقات میں آیندہ انتخابات کے دوران دونوں جماعتوں میں تعاون پر بات چیت ہوئی ہے۔
اس معاملے پر دونوں جماعتوں کی کمیٹیاں معاملات طے کریں گی اور صدر زرداری جلد لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی خوشخبری سنائیں گے ،الطاف حسین نے بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ان کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حب الوطنی پر شک نہ کیا جائے،الطاف حسین نے صدر مملکت کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے نیو یارک روانہ ہونے سے قبل اچانک وفاقی حکومت کو دیے جانے والے الٹی میٹم کی وضاحت بھی کی اور ان کے استدلال کے مطابق یہ فیصلہ پارٹی کا تھاجو عوامی مطالبات کے باعث دیا گیا تھا ۔بہر کیف سیاسی حلقوں میں اس کو کچھ اور معنے پہنائے گئے ۔اس وقت سندھ سمیت ملک بھر کے مقتدر سیاست دانوں کو جذباتیت سے گریزاور قومی امور پر سنجیدہ اتفاق رائے کا مشورہ ہی دیا جاسکتا ہے۔
سیاسی اور دیگر تمام مکاتب فکر کو وطن عزیز کی حالت پر رحم کرتے ہوئے ان چیلنجز کا ادراک کرنا چاہیے جو سیاسی افق پر کسی ہولناک طوفان کی خبر دے رہے ہیں۔ عوام سیاست دانوں سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کے دکھوں کا مداوا کریں گے، قتل وغارتگری اور قانون شکن عناصر کا قلع قمع کرنے کے لیے سیاسی اور معاشی نظام کی بنیادیں مضبوط کریں گے تاکہ عالمی برادری میں وطن عزیز کا وقار قائم ہو ،اس پر ڈرون حملے نہ ہوں،دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جاسکے۔بلاشبہ دیکھا جائے تو ہزار مصائب اور نشیب وفراز کے باوجود موجودہ حکومت سفینہ جمہوریت کو اپنوں اور غیروں کے برپا کیے ہوئے طوفانوں سے نکال لانے میں قدرے کامیابی حاصل کی ہے ،مگر اس کامیابی میں اب قوم کو بھی شریک ہونے کا موقع ملنا چاہیے اور اسے غربت، مہنگائی ، لوڈ شیڈنگ، بجلی کے اضافی بلوں، بے وزگاری اور بیماریوں کے تھپیڑوںسے نجات ملی چاہیے۔
جمہوری مدت کی تکمیل اس سسٹم کی بڑی کامیابی ہے، لیکن جمہوریت کی اس طاقت اور لچک کو مزید بہتر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ جمہوری سفرجیسے تیسے بھی گزرا ہے اسے بہرحال کسی آمریت کے خطرے سے دوچار نہیں ہونا پڑا کیونکہ عدلیہ نے جمہوریت کے تحفظ کی قسم کھائی ہے ، چنانچہ بلدیاتی نظام کے نفاذ اور دیگر قومی معاملات کے تصفیہ کے لیے بات چیت اگر لندن میں ہوسکتی ہے تو اسی روایت کو تمام سیاسی رہنما ملکی سیاسی کلچر کا حصہ کیوں نہیں بنا لیتے ۔محاذ آرائی میں سب کا نقصان ہے،جب کہ مکالمے اور جمہوری رویے کے فروغ میں ملک و قوم کا فائدہ ہے۔متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ سندھی قوم پرست اسٹبلشمنٹ کے پیرول پر ہیںاور سندھ دشمن قوتوں کی ایما پر بلدیاتی نظام کی مخالفت کررہے ہیں ۔
ایم کیو ایم کے صوبائی وزراء فیصل سبزواری، رضا ہارون کے مطابق آرڈیننس سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش نہیں، کراچی سے کشمور تک ایک ہی بلدیاتی نظام ہے۔ ادھر سندھ میں نئے بلدیاتی آرڈیننس کے خلاف سندھ بچائوکمیٹی اور قوم پرست جماعتوں کی کال پر اندرون سندھ مختلف شہروں میںشٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی، پٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشن بند رہے۔ سندھ یونائیٹڈ پارٹی، ترقی پسند پارٹی، جئے سندھ و قومی محاذ، فنکشنل لیگ، نواز لیگ کے کارکنوں نے دھرنے دیے، ہوائی فائرنگ کے واقعات بھی ہوئے۔سندھ بارکونسل کے وائس چیئرمین نے بلدیاتی آرڈیننس کے خلاف منگل کو سندھ بھر میں وکلا کو ہڑتال کی کال دی۔
فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر پگارا نے کہا ہے کہ سندھ بلدیاتی آرڈیننس کسی صورت قبول نہیں کرسکتے ، ضرورت پڑی تو سندھ کے عوام کو بیدار کرنے کے لیے وہ ہر ضلع کا دورہ کریں گے۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما ظفرعلی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے بلدیاتی آرڈیننس سے کراچی اور سندھ نئے تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے بلدیاتی نظام کو وہ تحفظ دے جسے بنیاد بنا کرپورے ملک میں یکساں بلدیاتی نظام کو یقینی بنایا جاسکے۔اختیارات کی عدم مرکزیت کے لیے ہر وہ کوشش مستحسن ہوگی جس سے عوام کے مسائل کا کوئی حل نکل سکے۔ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کووقت کی نزاکت کا خیال کرنا چاہیے اور امن کے قیام کے لیے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھنی چاہیے۔بلدیاتی نظام پر عوامی اعتماد بنیادی شرط ہے، مگر حتمی منزل عام انتخابات کا انعقاد ہونا چاہیے۔