سیاستدانوں کی میزبان

سیاستدان اور سیاسی جماعتیں اس شہر کی ساز گار سیاسی فضا میں آسانی کے ساتھ سرگرمیاں جاری رکھتی ہیں

Abdulqhasan@hotmail.com

لاہور شہر کو اگر سیاست کا مرکز کہا جاتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ اس شہر کے باسیوں کی سیاست کے ساتھ پرانی دلچسپی ہے جس کی تربیت یہاں کی سیاسی سرگرمیوں کے ذریعہ مدتوں سے جاری ہے۔

اس لیے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں اس شہر کی ساز گار سیاسی فضا میں آسانی کے ساتھ سرگرمیاں جاری رکھتی ہیں اور برصغیر کی شاید ہی کوئی بڑی جماعت ایسی ہو جس نے لاہور میں کوئی کامیاب جلسہ کر کے ہی اپنے آپ کو منوایا نہ ہو۔ لاہور کا کامیاب جلسہ ہی کسی جماعت کی کامیابی اور مقبولیت کا پیمانہ سمجھا گیا ہے۔ انڈین کانگریس ہو یا انڈین مسلم لیگ ان کو لاہور میں ان کی مقبولیت نے ہی بڑی سیاسی پارٹی بنایا۔ ایک غیر سیاسی بات کہ ہندوستان میں وہی فلم کامیاب سمجھی جاتی تھی جس کا پہلا شو لاہور میں کامیاب رہا ہو۔ بمبئی کا فلم پروڈیوسر ٹیلی فون اس وقت نیچے رکھتا جب اس کو لاہور سے اس کی فلم کی رپورٹ موصول ہو جاتی۔

سچ پوچھیے تو ایسا ہی حال سیاسی جلسوں کا بھی ہوتا تھا اور ملک بھر میں انتظار کیا جاتا تھا کیونکہ لاہور کے جلسے کی کامیابی یا ناکامی کسی سیاسی جماعت کا مستقبل بن جاتی۔ مثلاً گزشتہ دنوں لاہور میں عمران کے زبردست جلسے نے عمران خان کو قومی سطح کا لیڈر بنا دیا۔ میں عرض یہ کرنا چاہتا تھا کہ لاہور جو سیاسی مرکز تھا اس کی چند وجوہات تھیں اور ان میں سرفہرست اس شہر کے وہ سیاسی ڈیرے تھے جو اس شہر میں آباد رہتے تھے اور مستقل نوعیت کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنے رہتے تھے۔ ان میں چند ڈیرے تو سدا بہار ہوتے تھے جیسے لاہور میں گجرات کے چوہدریوں کا ڈیرہ جواب تک چل رہا ہے اور کئی ڈیرے ان کے مکینوں کی لاہور آمد پر آباد ہوتے تھے جیسے نوابزادہ نصراﷲ خان کا ڈیرہ جو نواب صاحب کی لاہور آمد پر فوراً آباد ہو جاتا تھا اور نواب صاحب اکثر لاہور میں قیام کرتے تھے۔

کئی ڈیرے اگرچہ لاہور میں مستقل آباد تھے لیکن کسی خاندان کے ڈیرے نہیں تھے، افراد کے تھے۔ نوابزادہ صاحب کے بعد دوسرا بڑا اور اہم ڈیرہ ایک غیر سیاسی خاندان کے فرد ملک غلام جیلانی کا تھا، ان کے ہاں نہ صرف یہ کہ ہر روز صبح شام آمد و رفت جاری رہتی تھی بلکہ کئی اہم لیڈر لاہور آمد پر یہاں قیام بھی کرتے تھے۔ بیگم نصرت بھٹو یہاں مقیم رہیں اور ان کا قیام طویل تھا۔ یہ ان کا اپوزیشن کا زمانہ تھا اور عدالتوں میں مقدمے تھے۔ لاہور کے سب سے قیمتی علاقے گلبرگ کے مین بلیوارڈ پر ملک صاحب کا گھر تھا۔ اس بڑے گھر میں ملک صاحب کا کمرہ دن رات بھرا رہتا تھا۔ مہمانوں کی کثرت رہتی جن میں لاہور کے باہر سے آنے والوں میں مقامی سیاسی لوگ بھی ملک صاحب کے اصرار پر شامل ہوتے تھے۔ یہ گھر دراصل یوں بھی ایک بڑا مہمان خانہ تھا کہ اس گھر کے ڈائننگ روم کی ٹیبل اس کمرے کے اندر بنائی گئی تھی کیونکہ اتنی بڑی ٹیبل باہر سے اندر نہیں لائی جا سکتی تھی۔


ملک غلام جیلانی کے سیاسی ڈیرے کی یاد اس ڈیرے کی مستقل میزبان اور مالکن خاتون صبیحہ جیلانی کی وفات پر آئی جو 85 برس کی طویل عمر کے بڑے حصے تک سیاسی مہمان نوازی کرتی رہیں۔ میں نے ان کے ہاں بہت کھانے کھائے اور فرمائشی ڈشیں بھی بنوائیں۔ مرحومہ ایک بڑے ادیب اور تاریخی شخصیت مولانا صلاح الدین احمد کی صاحبزادی تھیں۔ ان کے بھائی سول سروس میں تھے یا فلمی دنیا میں سب بہت مشہور ہوئے لیکن ان کے بہنوئی ملک غلام جیلانی ایک منفرد شخصیت کے مالک تھے۔ بھٹو صاحب نے سیاست شروع کی تو ڈیرہ اسماعیل خان یا ڈیرہ غازی خان میں جلسہ رکھا۔ انھوں نے ملک صاحب سے کہا کہ ان کا برادر نسبتی یہاں کا کمشنر ہے، اس سے کہیں کہ جلسے پر ذرا ٹکا کر لاٹھی چارج کر دے چنانچہ ایسا ہی ہوا اور بھٹو کی سیاست رواں ہو گئی۔ مقتول صحافی ضمیر بھی ان سے ملنے آ رہا تھا کہ راستے میں قتل ہو گیا۔ اس کے ہمراہ ایک بلوچ ایم پی اے باقی بلوچ سے نواب صاحب بہت تنگ تھے لیکن مارا گیا ہمارا صحافی اور باقی بلوچ بچ گیا۔

ملک صاحب کا یہ سیاسی ڈیرہ ان کی بیگم صاحبہ کی مہمان نوازی اور فراخدلی کا مرہون منت تھا۔ دن رات مہمانوں کا تانتا اور سبھی بڑے لوگ، ان کی حیثیت کے مطابق خاطر داری آسان نہ تھی لیکن وہ بڑی خوش دلی کے ساتھ یہ فرض ادا کرتی تھیں۔ ملک صاحب ایک بار ساہی وال سے ایم این اے بھی ہو گئے مگر وہ روائتی ممبر اسمبلی نہ تھے، اس لیے لوگ ان سے خوش نہ رہے اور وہ بھی اپنے حلقے سے بے زار ہی رہے کہ تھانوں اور پٹواریوں سے وہ کام نہیں کرا سکتے تھے۔ جناب ملک صاحب کی وفات کے بعد ہی ان کی بیگم کو صحافیوں سے آرام ملا۔ مہمان نوازی سے بہت تھک جانے کے باوجود وہ باقی عمر عزت اور احترام کے ساتھ گزار گئیں۔ ان کی دونوں بیٹیاں وکیل ہیں۔ عاصمہ جیلانی اور حنا جیلانی۔ ان کی والدہ کا ملک صاحب والے گھر میں انتقال ہوا۔

ملک صاحب کی فضول خرچی اور مہمان نوازی کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے اس شاندار گھر کے صحن کا کچھ حصہ بیچ دیا گیا جو کسی بینک نے خرید کر وہاں بینک بنا لیا ،اس طرح یہ بڑا اور مشہور گھر بڑی سڑک سے ذرا پیچھے چلا گیا۔ اپنے ہنگاموں کے ساتھ۔ لاہور کے بڑے معزز لوگ ملک صاحب کے ہاں آتے جاتے رہتے اور ہم اخباری رپورٹروں کی تو یہ مجبوری تھی ایک تو دنیا جہاں کی خبریں ان کے پاس ہوتی تھیں اور وہ کہتے کہ یہ چھاپ دو اور یہ نہیں چھاپنا۔ ملک صاحب اپنی مصروفیات کے باوجود کتابیں بھی پڑھ لیتے تھے۔ باہر کی کوئی کتاب پڑھ کر وہ ہم لوگوں کو اس کا خلاصہ سنا دیا کرتے جو بعض اوقات کسی خبر سے زیادہ اہم اور دلچسپ ہوتا۔
ملک صاحب کو کینسر ہو گیا تھا۔ مجھے آج تک یاد ہے کہ میں آخری دنوں میں ان سے ملنے گیا تو وہ مجھے دیکھ کر بڑی ہی کمزور ہنسی کے ساتھ ملے۔ بستر پر دراز تھے۔ میں ان کے پائوں کی طرف کھڑا تھا۔

میں نے اپنے دونوں ہاتھ ان کے پائوں پر رکھ کر انھیں الوداع کہا، اس وقت بیگم صاحبہ بھی موجود تھیں جو میری اس محبت کو دیکھ کر مشکور ہوئیں لیکن ملک صاحب ہم سب کے کرم فرما اور مہربان تھے اور لاہور کا یہ سیاسی مرکز اجڑ رہا تھا۔ بیگم صبیحہ جیلانی بعد میں مدتوں زندہ رہیں لیکن خاموش زندگی بسر کی۔ ملک صاحب کی ڈیرہ داری کی سیاست میں ان کا بنیادی کردار تھا۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اور کون سے صحافی تھے جو ملک صاحب کے ڈیرہ کے پھیرے لگایا کرتے تھے۔ مجھے صرف انور قدوائی یاد آ رہے ہیں۔ ہمارے دوسرے کئی ساتھی چلے گئے اور اب ان کی مہربان میزبان بھی۔ لاہور کی سیاست کا ایک باب بند ہو گیا۔ سیاست رہے گی مگر ایسے وضعدار کہاں ہوں گے۔
Load Next Story