پولیو کے نئے کیس اور تھر کی ہلاکتیں

صوبہ سندھ کے قحط زدہ ضلع تھرپارکر کے علاقوں مٹھی اور ڈیپلو میں مزید 8 بچے دم توڑ گئے۔

انتظامیہ کی روایتی بے حسی برقرار ہے اور متاثرین کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ امدادی گندم کمبل اور کھجوروں کی تقسیم سست روی کا شکار ہے۔فوٹو:فائل

خیبر پختونخوا اور صوبہ بلوچستان سے چار نئے پولیو کیس رپورٹ ہو گئے ہیں جس سے ملک بھر میں پولیو متاثرہ بچوں کی تعداد 295 ہو گئی ہے۔ دوسری طرف پشاور میں انسداد پولیو مہم شروع ہونے سے قبل وہاں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عاید کر دی گئی ہے تا کہ پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے کا کوئی امکان نہ رہے تاہم اس کے باوجود بھی پولیو ورکرز کی حفاظت کے دیگر انتظامات سے بھی غفلت نہیں کی جانی چاہیے کیونکہ وہ بے حد اہمیت کی قومی خدمت میں مصروف ہوتے ہیں۔


واضح رہے پولیو کیسز کی وجہ سے پاکستان سے بیرون ملک سفر کرنے والوں پر مختلف پابندیاں عاید ہو چکی ہیں جو تشویش کے ساتھ بے عزتی کی بات بھی ہے۔ ادھر صوبہ سندھ کے قحط زدہ ضلع تھرپارکر کے علاقوں مٹھی اور ڈیپلو میں مزید 8 بچے دم توڑ گئے جس کے بعد گزشتہ تین ماہ سے بھی کم عرصے میں اموات کی تعداد پونے تین سو سے تجاوز کر گئی۔ ادھر انتظامیہ کی روایتی بے حسی برقرار ہے اور متاثرین کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ امدادی گندم کمبل اور کھجوروں کی تقسیم سست روی کا شکار ہے۔

اس ساری صورت حال میں افسوس کی بات یہ ہے کہ وطن عزیز میں انسانی جان کی اہمیت کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا گیا ہے حالانکہ اتنی بڑی تعداد میں ہونے والی اموات اس بات کی متقاضی ہیں کہ ان کے تدارک کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں مگر اس قسم کی خبریں بھی ملتی ہیں کہ امدادی اشیا یعنی خوراک اور ادویات اگر پہنچا بھی دی جائیں تو وہ گوداموں میں پڑی رہ جاتی ہیں مستحقین میں تقسیم ہی نہیں ہوتیں۔ اگر یہ درست ہے تو ذمے داروں کو سخت سزائیں دی جانی چاہئیں۔
Load Next Story