شہری دفاع کو فعال بنانے اور ساحل سمندر کو محفوظ بنانے کیلئے واچ ٹاورز نصب ہوں گے
ڈپٹی کمشنرز اضلاع میں کمیونٹی کو دہشت گردی اور آفات کے نقصانات سے بچانے کیلیے ہنگامی منصوبے تیار کریں گے
ڈپٹی کمشنرز اضلاع میں کمیونٹی کو دہشت گردی اور آفات کے نقصانات سے بچانے کیلیے ہنگامی منصوبے تیار کریں گے۔ ساحل پر واچ ٹاور کی تعمیر جاری ہے(فوٹو :محمد نعمان)
کمشنر کراچی نے شہر میں شعبہ شہری دفاع کو فعال بنا نے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کراچی میں کسی بھی دہشت گردی اور آفت کے نقصانات سے بچنے کے لیے ہر ممکنہ تیاری کی جا سکے ۔
سول ڈیفنس ڈپارٹمنٹ کے ضلعی سربراہ ضلع کے ڈپٹی کمشنرز اپنے اپنے ضلع میں شعبہ شہری دفاع کو فعال بنانے کے لیے فوری اقدامات کر یں گے، ساحل سمندر پر تفریح کے لیے آنے والوں کی رہنمائی اور فوری مدد کے لیے 4 واچ ٹاور لگائے جائیں گے، اس سلسلے میں کمشنر کراچی شعیب صدیقی کی صدارت میں ان کے دفتر میں جائزہ اجلا س ہوا جس میں کراچی کو کسی بھی آفت اور زلزلے کے نقصانات سے بچانے کے ہنگامی منصوبہ کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز اپنے اپنے اضلاع میں کمیونٹی ہنگامی منصوبہ تیار کریں گے تاکہ انھیں دہشت گردی کے خطرات اور کسی بھی آفت کے نقصانات سے بچنے کیلیے تیار کیا جا سکے، انھیں کمیونٹی کو محفوظ بنانے کے اصولوں سے آگہی اور تربیت حاصل ہو۔
کمشنر کراچی نے کہا کہ شعبہ شہری دفاع کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مدد کے لیے اپنا موثرکردار ادا کر نے کی صلاحیت رکھتا ہے اور شعبے میں تربیت یافتہ رضا کاروں کی ٹیم موجود ہے انھیں فعال بنانے کیلیے جدید تقاضوں کے مطابق تربیت دینے کی ضرورت ہے، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی آئی اے کمیونٹی کی آگہی اور تیاری کے سلسلے میں یورپی ممالک سمیت مختلف دیگر ممالک کی طرز پر تجاویز اور پروگراموں کی تیاری میں معاونت کر ے گا،کمیونٹی ہنگامی منصوبہ کی تیار ی کیلیے کمیونٹی کی بنیاد پر شہری دفاع کے رضا کاروں کی ٹیموں کو مستحکم کیا جائے گا اور ان کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، رضاکاروں کی تربیت کا جامع اور جدید تقاضوں کے مطابق تربیتی پروگرام تشکیل دیا جائے گا، اجلاس میں ساحل سمندر کو محفوظ بنانے اور تفریح کے لیے آنے والوں کی رہنمائی اور فوری مدد کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سی سی ایچ آر (سیٹیزن کونسل برائے انسانی حقوق) کے مالی تعاون سے ساحل سمندر پر تفریح کے لیے آنے والوں کی رہنمائی اور فوری مدد کیلیے 4 واچ ٹاور لگائے جائیں گے ان چاروں واچ ٹاورز کو ایمرجنسی ریسکیو سینٹر سے لنک کیا جائے گا جو ان چاروں واچ ٹاور کے درمیان قائم کیا جا ئے گا، ایمرجنسی سینٹر میں لائف گارڈز اور پیرا میڈیکل عملہ فوری مدد کے لیے موجود ہوگا ، واچ ٹاورز کی تنصیب کی ابتدائی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری کے دوسرے ہفتہ میں مذکورہ چاروں واچ ٹاورز نصب ہوجائیں گے جس سے ساحل سمندر پر آنے والوں کو ہنگامی صورت میں بچانے میں مدد ملے گی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پشاور سانحہ کے پیش نظر ہنگامی منصوبہ بندی میں اسکولوں کے بچوں اور تعلیمی اداروں کے طلبا کو سول ڈیفنس کی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ ہر ہنگامی صورتحال میں خود کو محفوظ کرنے کے اصول سیکھ سکیں، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈپٹی کمشنرز مختلف اداروں کے تعاون سے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں نقصانات سے بچنے کے بارے میں آگہی کے لیے تشہری ذرائع اختیار کیے جائیں گے، کے الیکٹرک ، واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ، سوئی گیس کمپنی ، بلدیہ عظمیٰ اور دیگر ادارے اپنے بلوں پر آگاہی پیغام شائع کریں گے ۔
اجلاس میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ، فیڈرل سول ڈیفنس ٹریننگ اسکول ، ڈائریکٹر سول ڈیفنس ، سندھ بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن ، ڈی ایچ اے ، بلدیہ عظمیٰ کراچی ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ، کے الیکٹرک پولیس ، ڈائریکٹر اسکولز ، چیف میٹرو لوجسٹ ، پی آئی اے ، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران اور ہلال احمر ، آل پرائیویٹ مینجمنٹ اسکولز ، این ای ڈی ، سرسید اور جامعہ کراچی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
سول ڈیفنس ڈپارٹمنٹ کے ضلعی سربراہ ضلع کے ڈپٹی کمشنرز اپنے اپنے ضلع میں شعبہ شہری دفاع کو فعال بنانے کے لیے فوری اقدامات کر یں گے، ساحل سمندر پر تفریح کے لیے آنے والوں کی رہنمائی اور فوری مدد کے لیے 4 واچ ٹاور لگائے جائیں گے، اس سلسلے میں کمشنر کراچی شعیب صدیقی کی صدارت میں ان کے دفتر میں جائزہ اجلا س ہوا جس میں کراچی کو کسی بھی آفت اور زلزلے کے نقصانات سے بچانے کے ہنگامی منصوبہ کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز اپنے اپنے اضلاع میں کمیونٹی ہنگامی منصوبہ تیار کریں گے تاکہ انھیں دہشت گردی کے خطرات اور کسی بھی آفت کے نقصانات سے بچنے کیلیے تیار کیا جا سکے، انھیں کمیونٹی کو محفوظ بنانے کے اصولوں سے آگہی اور تربیت حاصل ہو۔
کمشنر کراچی نے کہا کہ شعبہ شہری دفاع کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مدد کے لیے اپنا موثرکردار ادا کر نے کی صلاحیت رکھتا ہے اور شعبے میں تربیت یافتہ رضا کاروں کی ٹیم موجود ہے انھیں فعال بنانے کیلیے جدید تقاضوں کے مطابق تربیت دینے کی ضرورت ہے، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی آئی اے کمیونٹی کی آگہی اور تیاری کے سلسلے میں یورپی ممالک سمیت مختلف دیگر ممالک کی طرز پر تجاویز اور پروگراموں کی تیاری میں معاونت کر ے گا،کمیونٹی ہنگامی منصوبہ کی تیار ی کیلیے کمیونٹی کی بنیاد پر شہری دفاع کے رضا کاروں کی ٹیموں کو مستحکم کیا جائے گا اور ان کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، رضاکاروں کی تربیت کا جامع اور جدید تقاضوں کے مطابق تربیتی پروگرام تشکیل دیا جائے گا، اجلاس میں ساحل سمندر کو محفوظ بنانے اور تفریح کے لیے آنے والوں کی رہنمائی اور فوری مدد کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سی سی ایچ آر (سیٹیزن کونسل برائے انسانی حقوق) کے مالی تعاون سے ساحل سمندر پر تفریح کے لیے آنے والوں کی رہنمائی اور فوری مدد کیلیے 4 واچ ٹاور لگائے جائیں گے ان چاروں واچ ٹاورز کو ایمرجنسی ریسکیو سینٹر سے لنک کیا جائے گا جو ان چاروں واچ ٹاور کے درمیان قائم کیا جا ئے گا، ایمرجنسی سینٹر میں لائف گارڈز اور پیرا میڈیکل عملہ فوری مدد کے لیے موجود ہوگا ، واچ ٹاورز کی تنصیب کی ابتدائی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری کے دوسرے ہفتہ میں مذکورہ چاروں واچ ٹاورز نصب ہوجائیں گے جس سے ساحل سمندر پر آنے والوں کو ہنگامی صورت میں بچانے میں مدد ملے گی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پشاور سانحہ کے پیش نظر ہنگامی منصوبہ بندی میں اسکولوں کے بچوں اور تعلیمی اداروں کے طلبا کو سول ڈیفنس کی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ ہر ہنگامی صورتحال میں خود کو محفوظ کرنے کے اصول سیکھ سکیں، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈپٹی کمشنرز مختلف اداروں کے تعاون سے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں نقصانات سے بچنے کے بارے میں آگہی کے لیے تشہری ذرائع اختیار کیے جائیں گے، کے الیکٹرک ، واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ، سوئی گیس کمپنی ، بلدیہ عظمیٰ اور دیگر ادارے اپنے بلوں پر آگاہی پیغام شائع کریں گے ۔
اجلاس میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ، فیڈرل سول ڈیفنس ٹریننگ اسکول ، ڈائریکٹر سول ڈیفنس ، سندھ بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن ، ڈی ایچ اے ، بلدیہ عظمیٰ کراچی ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ، کے الیکٹرک پولیس ، ڈائریکٹر اسکولز ، چیف میٹرو لوجسٹ ، پی آئی اے ، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران اور ہلال احمر ، آل پرائیویٹ مینجمنٹ اسکولز ، این ای ڈی ، سرسید اور جامعہ کراچی کے نمائندوں نے شرکت کی۔