عدالتی اہلکاروں پر حملہ سندھ ہائیکورٹ نے ازسرنو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا
عدالت نے انکوائری افسر ڈی آئی جی اے ڈی خواجہ سے بھی 4اکتوبرکو پیش رفت سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔
ہائیکورٹ نے کنٹریکٹ پر تعینات اسٹیل ملزکے 211اساتذہ کو مستقل کرکے ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل
سندھ ہائیکورٹ نے عدالتی اہلکاروں پرفائرنگ کے واقعے میں ملوث ایس ایچ او ماڑی پور شفیق تنولی کے خلاف درج مقدمے کی ایف آر مسترد کرتے ہوئے ازسرنو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس ریاضت علی سیہڑ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے منگل کو علی حسن بروہی کی بازیابی سے متعلق ان کی اہلیہ ثمینہ ناز کی کی درخواست کی سماعت کی اور انکوائری افسر ڈی آئی جی اے ڈی خواجہ سے 4اکتوبرکو پیش رفت سے متعلق رپورٹ طلب کرلی، منگل کو سماعت کے موقع پر ایس ایس پی ویسٹ عامرفاروقی اور ایس پی بلدیہ قمرالزماں شیخ بھی پیش ہوئے بینچ کو بتایا گیا کہ ایس ایچ او ماڑی پور کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، مقدمے کی نقل پیش کیے جانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ملزم ایس ایچ او کو اپنے ہی خلاف مقدمہ درج کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟۔
فاضل بینچ نے قراردیا کہ یہ ایف آئی آر عدالت کے حکم کے مطابق نہیں ، فاضل بینچ نے ایس پی قمرالزماں سے استفسار کیا کہ کیا اس نے عدالت کا حکم پڑھا ہے ، عدالت نے ایس ایچ او شفیق تنولی کے خلاف دوسرا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی ، قبل ازیں فاضل بینچ نے واقعے کی تحقیقات کیلیے اے آئی جی آپریشن اے ڈی خواجہ کو انکوائری افسرمقرر کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ناظر کی رپورٹ کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کرکے ذمے داران کے خلاف کارروائی کی جائے،سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد انور باجوہ کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے کنٹریکٹ پر تعینات پاکستان اسٹیل کے211اساتذہ کو ایک ماہ میں مستقل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مسماۃ حفیظہ جونیجو اور لیاقت جوئیہ سمیت 211 درخواست گزاروں نے شعاع النبی ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ درخواست گزار 20,20 سال سے کنٹریکٹ پر تعینات ہیں مگر انھیں مستقل نہیں کیا جارہا، 29 اگست2008کواس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے پاکستان اسٹیل کے دورے کے موقع پر تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا اعلان کیا تھاجس کے بعد پی آئی اے، ریلوے اور دیگر اداروں کی طرح انتظامیہ نے ایک ہزار سے زائد من پسندملازمین کو مستقل کیا اور درخواست گزاروں کو نظرانداز کردیا گیا، درخواست گزاروں کوحالیہ دورے میں بھی وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی تھی کہ انھیں مستقل کردیا جائے گامگر تاحال اس اعلان پر عمل نہیں ہوا۔
جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس ریاضت علی سیہڑ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے منگل کو علی حسن بروہی کی بازیابی سے متعلق ان کی اہلیہ ثمینہ ناز کی کی درخواست کی سماعت کی اور انکوائری افسر ڈی آئی جی اے ڈی خواجہ سے 4اکتوبرکو پیش رفت سے متعلق رپورٹ طلب کرلی، منگل کو سماعت کے موقع پر ایس ایس پی ویسٹ عامرفاروقی اور ایس پی بلدیہ قمرالزماں شیخ بھی پیش ہوئے بینچ کو بتایا گیا کہ ایس ایچ او ماڑی پور کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، مقدمے کی نقل پیش کیے جانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ملزم ایس ایچ او کو اپنے ہی خلاف مقدمہ درج کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟۔
فاضل بینچ نے قراردیا کہ یہ ایف آئی آر عدالت کے حکم کے مطابق نہیں ، فاضل بینچ نے ایس پی قمرالزماں سے استفسار کیا کہ کیا اس نے عدالت کا حکم پڑھا ہے ، عدالت نے ایس ایچ او شفیق تنولی کے خلاف دوسرا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی ، قبل ازیں فاضل بینچ نے واقعے کی تحقیقات کیلیے اے آئی جی آپریشن اے ڈی خواجہ کو انکوائری افسرمقرر کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ناظر کی رپورٹ کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کرکے ذمے داران کے خلاف کارروائی کی جائے،سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد انور باجوہ کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے کنٹریکٹ پر تعینات پاکستان اسٹیل کے211اساتذہ کو ایک ماہ میں مستقل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مسماۃ حفیظہ جونیجو اور لیاقت جوئیہ سمیت 211 درخواست گزاروں نے شعاع النبی ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ درخواست گزار 20,20 سال سے کنٹریکٹ پر تعینات ہیں مگر انھیں مستقل نہیں کیا جارہا، 29 اگست2008کواس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے پاکستان اسٹیل کے دورے کے موقع پر تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا اعلان کیا تھاجس کے بعد پی آئی اے، ریلوے اور دیگر اداروں کی طرح انتظامیہ نے ایک ہزار سے زائد من پسندملازمین کو مستقل کیا اور درخواست گزاروں کو نظرانداز کردیا گیا، درخواست گزاروں کوحالیہ دورے میں بھی وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی تھی کہ انھیں مستقل کردیا جائے گامگر تاحال اس اعلان پر عمل نہیں ہوا۔