آتشزدگی کے واقعات کا سدباب کیا جائے
کراچی ٹمبر مارکیٹ سانحہ معمولی نہیں، اس آگ سے نہ صرف لکڑ انڈسٹری کو دھچکا لگا ہے بلکہ اس سے کئی گھر اجڑ گئے ہیں۔
اس آتشزدگی سے فرنیچر سازی اور تعمیراتی سرگرمیاں شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے اس لیے ارباب اختیار متاثرین کے لیے امدادی پیکیج کا جلد اعلان کریں۔ فوٹو: آن لائن
کراچی میں پاکستان کی سب سے بڑی ٹمبر مارکیٹ میں ہولناک آتش زدگی کے باعث سیکٹروں دکانیں و مکانات، درجنوں گودام جل کر تباہ ہوگئے، آتشزدگی کے باعث اربوں روپے مالیت کا نقصان ہوا، فائر بریگیڈ کے عملے کے دیر سے پہنچنے کے باعث آگ شدت اختیار کرگئی، آگ اتنی شدید تھی کہ شہر بھر سے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں طلب کرلی گئیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
آتشزدگی کے واقعات ملک بھر میں کئی پہلوؤں سے الم ناک ہوتے ہیں، اس میں شک نہیں کہ آگ لگنے کی وجہ ایک نہیں بلکہ اس کے کئی اسباب ہوتے ہیں تاہم اسے بجھانے کے لیے ریاستی اور حکومتی سطح پر جن بنیادی سہولتوں کی فراہمی، فوری انتظامی اقدامات اور فائر بریگیڈ گاڑیوں کی جائے وقوعہ پر فوری رسائی اور آگ بجھانے میں تیزی و مہارت کی ضرورت ہوتی ہے، اس میں ہمہ گیر غفلت، انفرااسٹرکچر کے فقدان، فائر مینوں کی عدم تربیت اور گاڑیوں میں ڈیزل یا پانی تک نہ ہونے کی افسوس ناک مثالیں سامنے آتی رہی ہیں۔
اس لیے جب تک ان درد انگیز کوتاہیوں، انتظامی اور عملی خامیوں کو دور کرتے ہوئے فائرمین عملے کی جدید خطوط پر تربیت نہیں کی جاتی، اس قسم کے سانحے وقوع پذیر ہوتے رہیں گے۔ یہ حقیقت ہر قسم کے شک و شبہ سے ماورا ہے کہ فائر مین ٹیمیں پرجوش اور انسانی ہمدردی اور احساس فرض کے جذبہ سے سرشار ہوتی ہیں مگر بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی ان کے لیے مسائل پیدا کرتی رہی ہے، چنانچہ یہ اطلاع کہ منی پاکستان کی ٹمبر مارکیٹ سے متصل گھر بھی جل کر خاک ہوگئے اور آگ کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد اپنی جمع پونجی اپنی آنکھوں کے سامنے جلتا دیکھ کر غم سے نڈھال تھے جب کہ فائر بریگیڈ والوں کے پاس آگ بجھانے کے لیے کسی قسم کا انتطام نہ تھا اور پانی تھا تو پائپ یا گاڑیوں میں ڈیزل نہ تھا۔
پوری دنیا میں آتش زدگی کے خطرے کے پیش نطر انتہائی درجہ کی ریڈالرٹ دی جاتی ہے، چوکسی اس عملے کا طرہ امتیاز ہے، مگر پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں آتشزدگی کے بے شمار چھوٹے بڑے واقعات میں اجتماعی بے بسی، ناکامی اور نام نہاد تحقیقاتی رپورٹوں پر عمل نہ ہونے کے بعد کی صورتحال سخت تشویش ناک ہے۔ کراچی ٹمبر مارکیٹ میںِ آگ بجھانے والے عملے کی انتظامی یتیمی اور سہولتوں کی لاوارثی دہکتا ہوا سوالیہ نشان ہے۔ مثال کے طور پر سمتبر 2012 میں کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگی جس میں 289 محنت کش اور عملے کے افراد جھلس کو جاں بحق ہوگئے جن میں خواتین ورکرز کی بڑی تعداد شامل تھی، اس فیکٹری کے بالائی ایگزٹ دروازے اور کھڑکیاں بند تھیں، ستم ظریفی یہ ہوئی کہ اس سانحہ سے کچھ روز قبل فیکٹری کو سیفٹی ٹیسٹ پاس کرنے کی سند ملی، جب کہ فیکٹری مالکان نے ایک عالمی ادارے کو فیکٹری کے معائنہ کی اجازت دینے میں لیت و لعل سے کام لیا۔
فیکٹری کے متاثرین آج بھی انصاف کے لیے دھکے کھا رہے ہیں۔ سوگوار خاندانوں کا کہنا تھا کہ یہ فیکٹری مزدوروں کے لیے ایک قید خانہ اور موت کا کنواں ثابت ہوئی، اسی طرح لاہور کے ایک جوتا ساز کارخانہ میں آگ لگنے سے 25 افراد جل کر موت کی وادی میں پہنچ گئے تھے، آگ جنریٹر سے لگی، اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات جسٹس زاہد قربان کی سربراہی میں کی گئی، جس نے اپنے رپورٹ میں لکھا کہ آگ شارٹ سرکٹ سے لگی جب کہ عوام کے اژدہام، پانی کے فقدان اور فائر بریگیڈ کی تاخیر اس ہولناکی کا سبب بنی۔ سندھ میں خیرپور، نواب شاہ جب کہ بلوچستان میں خضدار اور دیگر کئی مقامات پر مخالف سمت سے آنے والی مسافر بسوں میں ہولناک تصادم کے نتیجے میں آگ لگنے اور مسافروں کے جھلس کر ہلاک ہونے کے کئی سانحے فائر فائٹ، انفرااسٹرکچر کی عدم موجودگی، فائر رسک منیجمنٹ کے فقدان، حادثات کے نتیجہ میں آتشزدگی یا ٹریفک حادثوں میں بسیں عموماً شعلوں کا کفن اوڑھ لیتی ہیں، ان بسوں سے نکلنے کے ایمرجنسی راستے تک بند رہتے ہیں۔ کراچی کے سانحے پر وزیراعظم نواز شریف نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
متحدہ کے قائد الطاف حسین نے آگ کے واقعے پر سندھ حکومت کی نااہلی کی مذمت کی ۔ جب کہ متحدہ کی رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ آگ سے ثابت ہوگیا ہے کراچی لاوارثوں کا شہر ہے، صوبائی وزیر بلدیات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ متاثرین کے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے گورنر سندھ کو فون کرکے ٹمبر مارکیٹ کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروا دی ۔ وزیر بلدیات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ کہا اس قسم کے واقعات پر سیاست نہیں کرنا چاہیے، یہ کہنا کہ سرکار نیند کی گولیاں کھا کر سوگئی، غلط ہے۔ انھوں نے کہا کہ سانحہ ٹمبر مارکیٹ کی مکمل تحقیقات کرائی جائے گی اور نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا، متحدہ کے قائد الطاف حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ آگ کے واقعہ پر سندھ حکومت کو نااہلی کا ایوارڈ ملنا چاہیے۔
دریں اثناء وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے الطاف حسین سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے کراچی کی ٹمبر مارکیٹ میں آتشزدگی سے ہونے والے مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ سندھ حکومت نے کمشنر کراچی اور ایڈمنسٹریٹر کراچی کو ہدایت کی کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کریں کہ آگ لگنے کی کیا وجوہات تھیں اور آگ اس قدر کیوں پھیلی۔ انھوں نے متعلقہ انتظامیہ کو یہ بھی ہدایت کی کہ شہر میں کہیں بھی اس قسم کی ناگہانی صورتحال پیدا ہونے کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو کارروائی ہونی چاہیے تاکہ صورتحال پر فوری قابو پایا جاسکے۔ ریسکیو ٹیموں نے تمام جگہوں پر پہنچ کر آگ پر قابو پالیا۔ ٹمبر مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر سلیمان سومرو نے کہا ہے کہ ٹمبر مارکیٹ میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا فوری ازالہ نہ کیا تو بھرپور احتجاج اور متاثرین کے ہمراہ وزیراعلیٰ ہاؤس کا بھی گھیراؤ کیا جائے گا، کروڑوں نہیں اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے، ساڑھے 4 سو سے زائد دکانیں اور 25 سے زائد گودام مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئے۔
ٹمبر مارکیٹ پیر کو مکمل طور پر بند رہی۔حکمراں کب تک ہائی ویز قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں سے چشم پوشی کرتے رہیں گے اور کب عمارتوں، فیکٹریز، تجارتی پلازاؤں اور رہائشی علاقوں میں آتشزدگی کے واقعات پر روایتی اقدامات اور ہر سانحہ پر صرف مذمتی بیانات دیتے رہیں گے۔ کراچی ٹمبر مارکیٹ سانحہ معمولی نہیں، اس آگ سے نہ صرف لکڑ انڈسٹری کو دھچکا لگا ہے بلکہ اس سے کئی گھر اجڑ گئے ہیں، بچیوں کے جہیز جل گئے، ان کے مستقبل کے خواب تک بکھرگئے ہیں، اور ماضی کے سانحات کے متاثرین ابھی تک معاوضوں اور مالی امداد کے منتظر ہیں، اربوں روپے کی قیمتی لکڑی اور دیدہ زیب مصنوعات خاکستر ہوگئیں، اس آتشزدگی سے فرنیچر سازی اور تعمیراتی سرگرمیاں شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لیے ارباب اختیار متاثرین کے لیے امدادی پیکیج کا جلد اعلان کریں۔
آتشزدگی کے واقعات ملک بھر میں کئی پہلوؤں سے الم ناک ہوتے ہیں، اس میں شک نہیں کہ آگ لگنے کی وجہ ایک نہیں بلکہ اس کے کئی اسباب ہوتے ہیں تاہم اسے بجھانے کے لیے ریاستی اور حکومتی سطح پر جن بنیادی سہولتوں کی فراہمی، فوری انتظامی اقدامات اور فائر بریگیڈ گاڑیوں کی جائے وقوعہ پر فوری رسائی اور آگ بجھانے میں تیزی و مہارت کی ضرورت ہوتی ہے، اس میں ہمہ گیر غفلت، انفرااسٹرکچر کے فقدان، فائر مینوں کی عدم تربیت اور گاڑیوں میں ڈیزل یا پانی تک نہ ہونے کی افسوس ناک مثالیں سامنے آتی رہی ہیں۔
اس لیے جب تک ان درد انگیز کوتاہیوں، انتظامی اور عملی خامیوں کو دور کرتے ہوئے فائرمین عملے کی جدید خطوط پر تربیت نہیں کی جاتی، اس قسم کے سانحے وقوع پذیر ہوتے رہیں گے۔ یہ حقیقت ہر قسم کے شک و شبہ سے ماورا ہے کہ فائر مین ٹیمیں پرجوش اور انسانی ہمدردی اور احساس فرض کے جذبہ سے سرشار ہوتی ہیں مگر بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی ان کے لیے مسائل پیدا کرتی رہی ہے، چنانچہ یہ اطلاع کہ منی پاکستان کی ٹمبر مارکیٹ سے متصل گھر بھی جل کر خاک ہوگئے اور آگ کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد اپنی جمع پونجی اپنی آنکھوں کے سامنے جلتا دیکھ کر غم سے نڈھال تھے جب کہ فائر بریگیڈ والوں کے پاس آگ بجھانے کے لیے کسی قسم کا انتطام نہ تھا اور پانی تھا تو پائپ یا گاڑیوں میں ڈیزل نہ تھا۔
پوری دنیا میں آتش زدگی کے خطرے کے پیش نطر انتہائی درجہ کی ریڈالرٹ دی جاتی ہے، چوکسی اس عملے کا طرہ امتیاز ہے، مگر پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں آتشزدگی کے بے شمار چھوٹے بڑے واقعات میں اجتماعی بے بسی، ناکامی اور نام نہاد تحقیقاتی رپورٹوں پر عمل نہ ہونے کے بعد کی صورتحال سخت تشویش ناک ہے۔ کراچی ٹمبر مارکیٹ میںِ آگ بجھانے والے عملے کی انتظامی یتیمی اور سہولتوں کی لاوارثی دہکتا ہوا سوالیہ نشان ہے۔ مثال کے طور پر سمتبر 2012 میں کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگی جس میں 289 محنت کش اور عملے کے افراد جھلس کو جاں بحق ہوگئے جن میں خواتین ورکرز کی بڑی تعداد شامل تھی، اس فیکٹری کے بالائی ایگزٹ دروازے اور کھڑکیاں بند تھیں، ستم ظریفی یہ ہوئی کہ اس سانحہ سے کچھ روز قبل فیکٹری کو سیفٹی ٹیسٹ پاس کرنے کی سند ملی، جب کہ فیکٹری مالکان نے ایک عالمی ادارے کو فیکٹری کے معائنہ کی اجازت دینے میں لیت و لعل سے کام لیا۔
فیکٹری کے متاثرین آج بھی انصاف کے لیے دھکے کھا رہے ہیں۔ سوگوار خاندانوں کا کہنا تھا کہ یہ فیکٹری مزدوروں کے لیے ایک قید خانہ اور موت کا کنواں ثابت ہوئی، اسی طرح لاہور کے ایک جوتا ساز کارخانہ میں آگ لگنے سے 25 افراد جل کر موت کی وادی میں پہنچ گئے تھے، آگ جنریٹر سے لگی، اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات جسٹس زاہد قربان کی سربراہی میں کی گئی، جس نے اپنے رپورٹ میں لکھا کہ آگ شارٹ سرکٹ سے لگی جب کہ عوام کے اژدہام، پانی کے فقدان اور فائر بریگیڈ کی تاخیر اس ہولناکی کا سبب بنی۔ سندھ میں خیرپور، نواب شاہ جب کہ بلوچستان میں خضدار اور دیگر کئی مقامات پر مخالف سمت سے آنے والی مسافر بسوں میں ہولناک تصادم کے نتیجے میں آگ لگنے اور مسافروں کے جھلس کر ہلاک ہونے کے کئی سانحے فائر فائٹ، انفرااسٹرکچر کی عدم موجودگی، فائر رسک منیجمنٹ کے فقدان، حادثات کے نتیجہ میں آتشزدگی یا ٹریفک حادثوں میں بسیں عموماً شعلوں کا کفن اوڑھ لیتی ہیں، ان بسوں سے نکلنے کے ایمرجنسی راستے تک بند رہتے ہیں۔ کراچی کے سانحے پر وزیراعظم نواز شریف نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
متحدہ کے قائد الطاف حسین نے آگ کے واقعے پر سندھ حکومت کی نااہلی کی مذمت کی ۔ جب کہ متحدہ کی رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ آگ سے ثابت ہوگیا ہے کراچی لاوارثوں کا شہر ہے، صوبائی وزیر بلدیات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ متاثرین کے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے گورنر سندھ کو فون کرکے ٹمبر مارکیٹ کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروا دی ۔ وزیر بلدیات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ کہا اس قسم کے واقعات پر سیاست نہیں کرنا چاہیے، یہ کہنا کہ سرکار نیند کی گولیاں کھا کر سوگئی، غلط ہے۔ انھوں نے کہا کہ سانحہ ٹمبر مارکیٹ کی مکمل تحقیقات کرائی جائے گی اور نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا، متحدہ کے قائد الطاف حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ آگ کے واقعہ پر سندھ حکومت کو نااہلی کا ایوارڈ ملنا چاہیے۔
دریں اثناء وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے الطاف حسین سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے کراچی کی ٹمبر مارکیٹ میں آتشزدگی سے ہونے والے مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ سندھ حکومت نے کمشنر کراچی اور ایڈمنسٹریٹر کراچی کو ہدایت کی کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کریں کہ آگ لگنے کی کیا وجوہات تھیں اور آگ اس قدر کیوں پھیلی۔ انھوں نے متعلقہ انتظامیہ کو یہ بھی ہدایت کی کہ شہر میں کہیں بھی اس قسم کی ناگہانی صورتحال پیدا ہونے کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو کارروائی ہونی چاہیے تاکہ صورتحال پر فوری قابو پایا جاسکے۔ ریسکیو ٹیموں نے تمام جگہوں پر پہنچ کر آگ پر قابو پالیا۔ ٹمبر مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر سلیمان سومرو نے کہا ہے کہ ٹمبر مارکیٹ میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا فوری ازالہ نہ کیا تو بھرپور احتجاج اور متاثرین کے ہمراہ وزیراعلیٰ ہاؤس کا بھی گھیراؤ کیا جائے گا، کروڑوں نہیں اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے، ساڑھے 4 سو سے زائد دکانیں اور 25 سے زائد گودام مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئے۔
ٹمبر مارکیٹ پیر کو مکمل طور پر بند رہی۔حکمراں کب تک ہائی ویز قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں سے چشم پوشی کرتے رہیں گے اور کب عمارتوں، فیکٹریز، تجارتی پلازاؤں اور رہائشی علاقوں میں آتشزدگی کے واقعات پر روایتی اقدامات اور ہر سانحہ پر صرف مذمتی بیانات دیتے رہیں گے۔ کراچی ٹمبر مارکیٹ سانحہ معمولی نہیں، اس آگ سے نہ صرف لکڑ انڈسٹری کو دھچکا لگا ہے بلکہ اس سے کئی گھر اجڑ گئے ہیں، بچیوں کے جہیز جل گئے، ان کے مستقبل کے خواب تک بکھرگئے ہیں، اور ماضی کے سانحات کے متاثرین ابھی تک معاوضوں اور مالی امداد کے منتظر ہیں، اربوں روپے کی قیمتی لکڑی اور دیدہ زیب مصنوعات خاکستر ہوگئیں، اس آتشزدگی سے فرنیچر سازی اور تعمیراتی سرگرمیاں شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لیے ارباب اختیار متاثرین کے لیے امدادی پیکیج کا جلد اعلان کریں۔