ناجائز اسلحہ اور جرائم کلچر
ملک میں جرائم اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ناجائز یا غیر قانونی اسلحے کی بھرمار ہے۔
اگر لاہور یا کراچی جیسے بڑے شہروں میں ناجائز اسلحے کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے اور اس میں سے کچھ واپس بھی لے لیا جاتا ہے تو پھر بھی لاقانونیت پر قابو نہیں پایا جا سکے گا، فوٹو : فائل
KARACHI:
ملک میں جرائم اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ناجائز یا غیر قانونی اسلحے کی بھرمار ہے۔ اگلے روز پنجاب کے وزیرداخلہ شجاع خانزادہ نے ایوان کو بتایاکہ پنجاب میں جاری ہونیوالے 18لاکھ اسلحہ لائسنسوں میں سے50 فیصد جعلی ہیں۔ نکتہ اعتراض پر انھوں نے کہا ہے کہ اس وقت 18لاکھ اسلحہ لائسنس جاری ہو چکے ہیں۔50فیصد کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ 15فروری سے اسلحہ لائسنس پر عائد پابندی اٹھا لی جائے گی اور 15 دن کے اندر اسلحہ لائسنس مل سکے گا جن کا ڈیٹا نادرا سے نہیں ملے گا انھیں اسلحہ لائسنس جاری نہیںہو گا۔ پرانے جاری شدہ اسلحہ لائسنسوں کا ڈیٹا بھی نادرا کے ساتھ کمپیٹ کررہے ہیں۔
جس طرح سندھ میں 50ہزار لوگوں سے اسلحہ واپس لیا گیا اسی طرح پنجاب میں بھی ہم جعلی لائسنس والوں سے اسلحہ واپس لیں گے۔مہذب اور پرامن معاشرے میں اول تو عوام کے پاس اسلحہ موجود ہی نہیں ہوتا چاہے وہ قانونی ہو یا غیر قانونی لیکن پاکستان کی صورت حال مختلف ہے۔ یہاں قبائلی علاقوں میں عام آدمی کے پاس بھی اسلحہ ہونا باعث فخر سمجھا جاتا ہے'اس کا کوئی لائسنس بھی نہیں ہوتا۔ان علاقوں میں اسلحہ تیار بھی ہوتا ہے ۔اس کے برعکس ملک کے دوسرے علاقوں اور شہروں میں ناجائز اسلحہ رکھنا جرم ہے۔ پھر جیسے جیسے جرائم بڑھتے گئے اور بعد میں دہشت گردی بھی اس میں شامل ہو گئی تو پھر حفاظتی نقطہ نظر کے تحت لوگوں کو اسلحہ کے لائسنس جاری ہونا شروع ہو گئے۔ اب جدید اسلحہ کے لائسنس بھی دیے جا رہے ہیں ۔اس قسم کی صورت حال میں ناجائز یا غیر قانونی اسلحہ کا عام ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
اگر لاہور یا کراچی جیسے بڑے شہروں میں ناجائز اسلحے کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے اور اس میں سے کچھ واپس بھی لے لیا جاتا ہے تو پھر بھی لاقانونیت پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔ اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہیے کہ ملک بھر میں بشمول قبائلی علاقہ جات نجی سطح پر اسلحہ تیار کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔ جن لوگوں کو اسلحہ لائسنس جاری کیا گیا 'ان کی مکمل چھان بین کی جائے۔ انھیں ایک معینہ مدت کے اندر اندر اپنا لائسنس متعلقہ تھانے میں جا کر چیک کرانے کا پابند کرایا جائے۔ اس طریقے سے ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو گی اور وہ قانون کی گرفت میں بھی آ جائیں گے۔
ملک میں جرائم اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ناجائز یا غیر قانونی اسلحے کی بھرمار ہے۔ اگلے روز پنجاب کے وزیرداخلہ شجاع خانزادہ نے ایوان کو بتایاکہ پنجاب میں جاری ہونیوالے 18لاکھ اسلحہ لائسنسوں میں سے50 فیصد جعلی ہیں۔ نکتہ اعتراض پر انھوں نے کہا ہے کہ اس وقت 18لاکھ اسلحہ لائسنس جاری ہو چکے ہیں۔50فیصد کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ 15فروری سے اسلحہ لائسنس پر عائد پابندی اٹھا لی جائے گی اور 15 دن کے اندر اسلحہ لائسنس مل سکے گا جن کا ڈیٹا نادرا سے نہیں ملے گا انھیں اسلحہ لائسنس جاری نہیںہو گا۔ پرانے جاری شدہ اسلحہ لائسنسوں کا ڈیٹا بھی نادرا کے ساتھ کمپیٹ کررہے ہیں۔
جس طرح سندھ میں 50ہزار لوگوں سے اسلحہ واپس لیا گیا اسی طرح پنجاب میں بھی ہم جعلی لائسنس والوں سے اسلحہ واپس لیں گے۔مہذب اور پرامن معاشرے میں اول تو عوام کے پاس اسلحہ موجود ہی نہیں ہوتا چاہے وہ قانونی ہو یا غیر قانونی لیکن پاکستان کی صورت حال مختلف ہے۔ یہاں قبائلی علاقوں میں عام آدمی کے پاس بھی اسلحہ ہونا باعث فخر سمجھا جاتا ہے'اس کا کوئی لائسنس بھی نہیں ہوتا۔ان علاقوں میں اسلحہ تیار بھی ہوتا ہے ۔اس کے برعکس ملک کے دوسرے علاقوں اور شہروں میں ناجائز اسلحہ رکھنا جرم ہے۔ پھر جیسے جیسے جرائم بڑھتے گئے اور بعد میں دہشت گردی بھی اس میں شامل ہو گئی تو پھر حفاظتی نقطہ نظر کے تحت لوگوں کو اسلحہ کے لائسنس جاری ہونا شروع ہو گئے۔ اب جدید اسلحہ کے لائسنس بھی دیے جا رہے ہیں ۔اس قسم کی صورت حال میں ناجائز یا غیر قانونی اسلحہ کا عام ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
اگر لاہور یا کراچی جیسے بڑے شہروں میں ناجائز اسلحے کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے اور اس میں سے کچھ واپس بھی لے لیا جاتا ہے تو پھر بھی لاقانونیت پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔ اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہیے کہ ملک بھر میں بشمول قبائلی علاقہ جات نجی سطح پر اسلحہ تیار کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔ جن لوگوں کو اسلحہ لائسنس جاری کیا گیا 'ان کی مکمل چھان بین کی جائے۔ انھیں ایک معینہ مدت کے اندر اندر اپنا لائسنس متعلقہ تھانے میں جا کر چیک کرانے کا پابند کرایا جائے۔ اس طریقے سے ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو گی اور وہ قانون کی گرفت میں بھی آ جائیں گے۔