ایک عظیم الشان حقیقی کشتی کا حال

تھوڑی سی ’’روشنی‘‘ کشتیوں کی اقسام پر بھی ڈالنا ضروری ہے لیکن چونکہ روشنی ڈالنے کے لیے ’’بجلی‘‘ دستیاب نہیں ہے۔

barq@email.com

یہ تو ایک دنیا جانتی ہے کہ مملکت اللہ داد ناپرسان کا قومی کھیل ''کُشتی'' ہے جس کے خاص خاص ایونٹ کو ''دنگل'' کہا جاتا ہے مملکت اللہ داد ناپرسان میں اس کھیل یعنی کشتی کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ جہاں دیکھیے ادھر تُو ہی تُو ہے ہر ہر جگہ ہر ہر مقام پر طرح طرح کی کشتیاں تقریباً دن کے چوبیس گھنٹے، ہفتے کے سات دن، مہینے کے تیس دن اور سال کے بارہ مہینے یہ کشتیاں چلتی رہتی ہیں، گھر میں اگر میاں بیوی کے درمیان کشتی کا میچ چل رہا ہے تو بازار میں دکان دار اور خریدار کا دنگل برپا ہے۔

بسوں میں سواریوں اور کلینروں میں کشتی ہو رہی ہے تو دفاتر میں سرکاریوں اور ترکاریوں یعنی عوام کے درمیان بھی ایک مستقل دنگل چل رہا ہے، کشتی کی اس ہمہ گیر مقبولیت کے پیش نظر پچھلے دنوں مملکت اللہ داد ناپرسان کی ایک ولایت یعنی ریاست ''خیر پخیر'' میں ایک بہت بڑے ایونٹ کا اہتمام کیا گیا تھا جس کا آنکھوں دیکھا حال ہم ابھی تھوڑی دیر میں آپ کو سنانے والے ہیں لیکن اس سے پہلے تھوڑی سی ''روشنی'' کشتیوں کی اقسام پر بھی ڈالنا ضروری ہے لیکن چونکہ روشنی ڈالنے کے لیے ''بجلی'' دستیاب نہیں ہے۔

اس لیے ہم یہ روشنی ماچس کی تیلیاں جلا جلا کر ڈالیں گے، ظاہر ہے کہ اس میں ماچسوں اور تیلیوں کا خرچہ بہت زیادہ ہو گا اس لیے ہم بس تھوڑی سی گزارے لائق روشنی ڈال پائیں گے آگے آپ بصارت کے بجائے بصیرت سے کام چلایئے، ویسے تو دنیا میں کھیلوں کی بہت ساری اقسام پائی جاتی ہیں لیکن اگر تھوڑا سا فلسفیانہ چشمہ لگا کر دیکھا جائے تو ہر کھیل ایک کشتی ہی ہوتی ہے چاہے اس کا نام کرکٹ رکھیے، ہاکی کہیے، ٹینس سمجھیے یا سیاست کا نام رکھ دیجیے، سب کا ایک ہی انجام ہوتا ہے ایک کی شکست اور دوسرے کی فتح، یعنی ایک ''اجے'' ہوتا ہے تو دوسرا ''وجئے'' بن جاتا ہے چاہے وہ ٹیمیں ہوں افراد ہوں جوڑے ہوں سیاسی پارٹیاں ہوں یا میاں بیوی کے درمیان ''دشمنانہ'' میچ ہوں، مطلب یہ کہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہر کھیل کشتی ہو سکتا ہے اور ہر کشتی بھی کھیل ہی ہوتی ہے۔

مملکت اللہ داد ناپرسان میں ان گونا گوں کشتیوں کی اتنی بہتات ہو گئی تھی کہ کشتیاں زیادہ اور لوگ کم پڑنے لگے تب کسی زبردست موجد نے کشتی کی ایک عظیم الشان قسم ایجاد کی جسے لوگ ''نورا کشتی'' کے نام سے پکارتے ہیں یہ کشتی چونکہ نہایت ہی کم خرچ اور بالا نشین تھی اس لیے بے انتہاء مقبول ہو گئی خاص طور پر اونچی سطح یعنی سیاست میں تو اس نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ چکنا چور کر دیے ویسے تو ہر ہر وقت ہر ہر سطح پر، ہر ہر میدان میں ہر ہر قسم کی نورا کشتیاں چلتی رہتی تھیں لیکن اولمپک یا فٹ بال یا کرکٹ عالمی کپ یا کُمبھ میلے کی طرز پر ان کا ایک بڑا ایونٹ چار پانچ سال کے عرصے میں کھیلا جانے لگا، ویسے تو مقابلوں سے پہلے سارے پہلوان بڑے ڈولے سولے اور مچھلیاں وغیرہ دکھاتے تھے لیکن اصل میں سب کچھ پہلے ہی سے طے شدہ ہوتا تھا، کہ اس مرتبہ کون پہلوان جیتے گا اور کون ہارے گا۔

یوں کہیے کہ پہلے اس کشتی کا اسکرپٹ لکھا جاتا تھا پھر سارے حصہ لینے والے اس اسکرپٹ کے مطابق چلتے تھے کہیں پر ایک بھی مکا یا پٹخنی یا لات اسکرپٹ سے باہر نہیں ہو سکتی تھی حتیٰ کہ مقابلے کے دوران پہلوان لوگ ایک دوسرے کو گالیاں بھی اسکرپٹ کے مطابق دیا کرتے تھے، جب سارے لوگوں کو اس کا پتہ چل گیا کہ یہ سارے دنگل جھوٹے ہیں اور تمام کشتیاں ''نورا اینڈ نورا'' یعنی اسکرپٹڈ اور انجینئرڈ ہیں تو لوگ اکتا گئے، بور ہو گئے اور کسی نئے کھیل کا تقاضا کرنے لگے، یہ کیا کہ یہ بڑی بڑی توپیں میدان میں لائی جاتی ہیں دونوں طرف کے لشکر صف آرا ہو جاتے ہیں گولہ بارود جمع کر لیا جاتا ہے اور پھر جب جنگ چھڑ جاتی ہے تو چاروں طرف دھواں ہی دھواں پھیل جاتا ہے اس دھوئیں کے بادل جب چھٹ جاتے ہیں تو اسٹیج پر ریفری کسی ایک کا ہاتھ پکڑ کر جیت کا اعلان کرتا ہے، گویا کھیل ختم پیسہ ہضم، چار پانچ سال محنت کر کے ٹکٹ کے لیے رقم جمع کرنے والے تماشائی سوائے ''دھوئیں'' اور جانے مانے پہلوانوں کے منحوس چہروں کے علاوہ کچھ بھی دیکھ نہیں پاتے یعنی ہر ایک تماشائی یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ


تھی خبر گرم کے غالبؔ کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا

کیوں کہ دونوں پہلوان اسٹیج سے اترتے ہی اچانک ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے اور سب کو ایک ہی چہرہ نظر آتا ایک ہی جیسے خون خوار دانت ایک ہی جیسی خون ٹپکاتی زبان اور ایک ہی بہت بڑا سا پیٹ جس کے اندر سے نگلے ہوؤں کی درد ناک چیخیں نکل رہی ہوتیں، پر ایک نیا پہلوان میدان میں اترا اور اعلان کیا کہ آج سے نورا کشتی ختم اب کے کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے، پورے مملکت اللہ داد ناپرسان میں تو ایسا نہ ہو سکا ۔۔۔ لیکن مملکت کی ایک ریاست خیر پخیر کے پی کے میں اعلان کیا گیا کہ اب نورا کشتی کوئی نہیں ہو گی اور جو بھی کشتی ہو گی وہ اصل کشتی ہو گی، نہ صرف اعلان ہوا بلکہ کشتی کی ابتداء بھی ہو گئی، اس سلسلے میں پہلی کشتی انصاف اور کرپشن نامی پہلوانوں کے درمیان ہوئی۔

جس میں نئے پہلوان انصاف نے پرانے گھاک پہلوان کرپشن کو نہ صرف چاروں خانے چت کر دیا بلکہ کرپشن ایسا غائب ہو گیا کہ آج تک اس کے مرنے جینے کی کوئی خبر نہیں ہے، لوگوں کو یقین ہے کہ جس طرح ہٹلر کا آج تک ویئراباؤٹ معلوم نہیں ہو سکا ٹھیک اسی طرح کرپشن نے بھی کہیں کسی خفیہ مقام پر خودکشی کر لی ہو گی اور اپنی لاش بھی خود ہی غائب کر لی ہو گی، یہ آخری اندازہ یعنی اپنی لاش خود غائب کرنے کا نظریہ پولیس کا ہے کیوں کہ تھانوں میں پولیس والوں کے پاس اکثر ایسے کیس آتے رہتے ہیں جن میں تفتیش کے بعد پتہ چلتا ہے کہ مقتول نے دراصل خود ہی اپنے اپ کو قتل کیا تھا اور چوری کی رپورٹ کرنے والا خود ہی اپنے گھر میں چوری کا مرتکب ہوا تھا، خیر پہلی کشتی کے بعد اور بھی کئی کشتیاں ہوئیں جن میں بھی انصاف نے کامیابی حاصل کی ۔۔۔۔ اور انصاف کو صوبے کا بلیک بیلٹ قرار دیا گیا۔

چونکہ اب صوبے میں انصاف کے مقابل کوئی بھی چھوٹا بڑا پہلوان باقی نہیں رہا تھا جب کہ عوام کو ''کشتی'' دیکھنے کا چسکہ پڑ گیا تھا، اس لیے ریاستی حکومت کے وزیروں مشیروں شیروں بھیروں کبیروں صغیروں نے آپس میں سر جوڑ لیے اور یہ اعلان برآمد کیا کہ کشتی کا ایک بہت بڑا ایونٹ برپا کیا جا رہا ہے جس میں ملک بھر کے مشہور جانے مانے اور پہچانے دو پہلوان حصہ لیں گے پہلوانوں کے نام آخر تک صیغہ راز میں رکھے گئے تھے اور عین اس وقت اعلان کیا گیا جب ہال تماشائیوں سے بھر چکا تھا سارے ٹکٹ بک چکے تھے تمام کیمروں کی آنکھیں اسٹیج یا رنگ پر مرکوز ہو چکی تھیں یہ دو نامی گرامی پہلوان دراصل ''مینڈیٹ'' اور میرٹ تھے میرٹ اور مینڈیٹ جب اپنی اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے نمودار ہوئے تو لاکھوں تماشائیوں کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی۔

مقابلہ شروع ہوا تو زیادہ تر لوگوں کو یقین تھا کہ ''میرٹ'' میدان مار لے گا اور اچھل کود بھی بہت رہا تھا لیکن ابھی اس نے ہاتھ بھی نہیں ہلایا کہ مینڈیٹ اس پر پل پڑا ادھر سے گھونسے ادھر سے لات بے چارے میرٹ کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا ۔۔۔۔ سارے کے سارے پوائنٹ مینڈیٹ نے حاصل کر لیے اور بے چارا میرٹ کچلی ہوئی چھپکلی کی طرح پڑا رہا بعد میں منتظمین نے اسے ہاتھ پیروں سے ڈنڈا ڈولی کر کے اٹھایا اور کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا، جہاں شہر کے آوارہ کتے اس کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔
Load Next Story