ایل پی جی آلات10فیصد ڈیوٹی پر درآمد کرنے کی اجازت
ایل پی جی اسٹیشنزکےقیام کے لیےکنٹرول پینلز،ایل پی جی پمپس سمیت دیگراشیارعایتی ڈیوٹی پردرآمد کرنےکی اجازت دی گئی ہے.
کوالٹی اور تھرڈ پارٹی انسپکیشن سرٹیفکیٹس پیش کرنا ہونگے، نوٹیفکیشن جاری، سی این جی گاڑیوں کو ایل پی جی پر منتقل کیا جائیگا، سینئر افسر وزارت پٹرولیم فوٹو:فائل
DHAKA:
وفاقی حکومت نے سی این جی گاڑیوں کو ایل پی جی پر لانے کے لیے مائع پٹرولیم گیس اسٹیشن کے قیام کے لیے 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی پر ایل پی جی پمپس،کنٹرول پینلز،ایل پی جی ڈسپنسرز سمیت دیگر آلات درآمد کرنے کی اجازت دیدی ہے۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن نمبر 1187(I)/2012 جاری کر دیا ہے جس کے تحت 5 جون 2006کو جاری کردہ ایس آر او نمبر 575(I)/2006 میںترمیم کردی گئی ہے۔ ترمیمی ایس آراو میں کہا گیا ہے کہ 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی پر ایل پی جی پمپس،کنٹرول پینلز، ایل پی جی ڈسپنسرز اور ایل پی جی وہیکل کنورژن کٹس سمیت دیگر آلات صرف ایل پی جی کا لائسنس رکھنے والی کمپنیاں درآمد کرسکیں گی۔
تاہم یہ بھی آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)کے منظور شدہ برانڈ اور ایف بی آر کے نوٹیفائیڈ ایل پی جی پمپس،کنٹرول پینلز، ایل پی جی ڈسپنسرز اور ایل پی جی وہیکل کنورشن کٹس درآمد کر سکیں گی، اس کے علاوہ ان کمپنیوں کو درآمدی ایل پی جی پمپس، کنٹرول پینلز، ایل پی جی ڈسپنسرز اور ایل پی جی وہیکل کنورشن کٹس کے بارے میں ان مصنوعات کے اصل مینوفیکچررزکا جاری کردہ اور تصدیق شدہ کوالٹی سرٹیفکیٹ بھی پیش کرنا ہوگا۔
ساتھ ہی درآمدی کمپنیوں کو ایل پی جی پراڈکشن اینڈ ڈسٹری بیوشن رولز2001 میں مقرر کردہ ایل پی جی سے متعلقہ حفاظتی معیار کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی طرف سے مقرر کردہ تھرڈ پارٹی انسپکٹرز کی طرف سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ بھی فراہم کرنا ہوگا۔ اس بارے میں وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے سینئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے توانائی بحران کے حل کے لیے ملک میں سی این جی کو بتدریج ختم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
جس کے تحت یہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں ایل پی جی اسٹیشنز کے قیام کے لیے کنٹرول پینلز، ایل پی جی پمپس سمیت دیگر اشیا رعایتی ڈیوٹی پر درآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے، ایل پی جی اسٹیشنز کے قیام کے ساتھ ہی سی این جی گاڑیوں کو ایل پی جی پر منتقل کرنے کا کام شروع ہو جائے گا اور ایل پی جی وہیکل کنورشن کٹس کی درآمد کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ ملک میںگاڑیوں میں ایل پی جی کو فروغ دیا جائے۔
وفاقی حکومت نے سی این جی گاڑیوں کو ایل پی جی پر لانے کے لیے مائع پٹرولیم گیس اسٹیشن کے قیام کے لیے 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی پر ایل پی جی پمپس،کنٹرول پینلز،ایل پی جی ڈسپنسرز سمیت دیگر آلات درآمد کرنے کی اجازت دیدی ہے۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن نمبر 1187(I)/2012 جاری کر دیا ہے جس کے تحت 5 جون 2006کو جاری کردہ ایس آر او نمبر 575(I)/2006 میںترمیم کردی گئی ہے۔ ترمیمی ایس آراو میں کہا گیا ہے کہ 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی پر ایل پی جی پمپس،کنٹرول پینلز، ایل پی جی ڈسپنسرز اور ایل پی جی وہیکل کنورژن کٹس سمیت دیگر آلات صرف ایل پی جی کا لائسنس رکھنے والی کمپنیاں درآمد کرسکیں گی۔
تاہم یہ بھی آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)کے منظور شدہ برانڈ اور ایف بی آر کے نوٹیفائیڈ ایل پی جی پمپس،کنٹرول پینلز، ایل پی جی ڈسپنسرز اور ایل پی جی وہیکل کنورشن کٹس درآمد کر سکیں گی، اس کے علاوہ ان کمپنیوں کو درآمدی ایل پی جی پمپس، کنٹرول پینلز، ایل پی جی ڈسپنسرز اور ایل پی جی وہیکل کنورشن کٹس کے بارے میں ان مصنوعات کے اصل مینوفیکچررزکا جاری کردہ اور تصدیق شدہ کوالٹی سرٹیفکیٹ بھی پیش کرنا ہوگا۔
ساتھ ہی درآمدی کمپنیوں کو ایل پی جی پراڈکشن اینڈ ڈسٹری بیوشن رولز2001 میں مقرر کردہ ایل پی جی سے متعلقہ حفاظتی معیار کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی طرف سے مقرر کردہ تھرڈ پارٹی انسپکٹرز کی طرف سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ بھی فراہم کرنا ہوگا۔ اس بارے میں وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے سینئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے توانائی بحران کے حل کے لیے ملک میں سی این جی کو بتدریج ختم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
جس کے تحت یہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں ایل پی جی اسٹیشنز کے قیام کے لیے کنٹرول پینلز، ایل پی جی پمپس سمیت دیگر اشیا رعایتی ڈیوٹی پر درآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے، ایل پی جی اسٹیشنز کے قیام کے ساتھ ہی سی این جی گاڑیوں کو ایل پی جی پر منتقل کرنے کا کام شروع ہو جائے گا اور ایل پی جی وہیکل کنورشن کٹس کی درآمد کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ ملک میںگاڑیوں میں ایل پی جی کو فروغ دیا جائے۔