بلوچستان سے فورسز کو ہٹا دیا جائے نواز شریف

بلوچستان میں امن اور حقیقی قیادت کو آگے لانے کیلیے گرینڈ الائنس بنانا پڑا تو بنائینگے،صدر ن لیگ ،میڈیا سے گفتگو

ایسا آئندہ عام انتخابات سے قبل ہوجانا چاہیے،بلوچستان میں امن اور حقیقی قیادت کو آگے لانے کیلیے گرینڈ الائنس بنانا پڑا تو بنائینگے،صدر ن لیگ ،میڈیا سے گفتگو. فوٹو: اے ایف پی/ فائل

مسلم لیگ (ن) کے صدروسابق وزیر اعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ اگر بلوچ قیادت سمجھتی ہے کہ فوج اور ایف سی کی موجودگی عام انتخابات کے راستے میں رکاوٹ ہے تواسے ہٹا دیناچاہیے۔

بلوچستان میں امن کے قیام اور بلوچستان کی حقیقی قیادت کو آگے لانے کیلیے گرینڈ الائنس بنانا پڑا تو ضروربنائیں گے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار سپریم کورٹ بارکی سابق صدرعاصمہ جہانگیرکی رہائش گاہ پر ان کی والدہ کی وفات پر اظہار تعزیت کے بعد میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ثنانیوز کے مطابق میاں نوازشریف نے کہاکہ بلوچستان کا مسئلہ بہت حساس ہے اس لیے وہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے اپنی ذمے داری پوری اورکردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بطور پاکستانی ان کی ڈیوٹی ہے۔

انھوں نے کہاکہ میں حکومت پر واضح کرناچاہتا ہوں کہ گذشتہ دو تین روز سے بلاوجہ اس پرتنقید نہیںکر رہا، بلوچستان کا مسئلہ حل طلب ہے جس کے حل میں پہلے ہی بہت تاخیر ہوچکی ہے، حکومت کو ساڑھے چار سال میں اس مسئلے کے حل کیلیے بہت کچھ کرلیناچاہیے تھا۔ انھوں نے کہا کہ اکبر بگٹی کوفوجی آپریشن میں مارا گیا، حکومت کا فرض تھا کہ ان کے قاتلوں کوکیفر کردارتک پہنچاتی یا کم از کم عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرتی، بلوچ عوام کے زخموں کو ہمیں بھرنا ہوگا۔


انھوںنے کہا کہ بلوچستان کا دوسرا بڑا مسئلہ لاپتہ افراد کاہے، لاپتہ ہونے والے بھی بہن بھائی ہیں ان کے گھر والے آج تک ان کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے سوال کیا کہ انھیں کس قانون اور آئین کے تحت اغواکیاگیاہے اورانھیں بازیاب کرنا کسی کی ذمے داری ہے ان کے مطالبات پورے کیے جا سکتے ہیں ایسا نہ ہو کہ کل ہم ان کے ہر مطالبات پورے کرنے کی پوزیشن میں نہ رہیں۔ انھوںنے کہا کہ بلوچ لیڈر کہتے ہیں کہ 2008کے انتخابات شفاف نہیں تھے، انھیں انتخابات سے دور رکھا گیا، بلوچ عوام صاف اور شفاف انتخابات چاہتے ہیں تاکہ ان کی حقیقی قیادت آگے آئے، اگر ایف سی اور سیکیورٹی کی موجودگی میں الیکشن میں رکاوٹ ہے تو اس رکاوٹ کو دورکیاجانا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں میاں نواز شریف نے کہا کہ بلوچستان میں امن کے قیام کیلیے اگر گرینڈ الائنس بنانا پڑا تو وہ اس کے حق میں ہیں اور گرینڈ الائنس ضرور بنائیں گے تاکہ بلوچستان کی حقیقی قیادت کو آگے آنے کا موقع ملے جو وہاں امن قائم کرنے میں اپناکردار ادا کرے۔اس موقع پر عاصمہ جہانگیر نے میاں نواز شریف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت پنجاب کا سب سے بڑا لیڈر بلوچستان میںلگی آگ ٹھنڈی کرنے کیلیے اپنی آواز بلندکررہاہے، پہلے کسی پنجابی لیڈر نے یہ کردار ادا نہیں کیا اور اس سے بلوچستان میں پنجاب کی جانب سے اچھا پیغام جا رہا ہے، مشرقی پاکستان میں ایسا کردارکسی نے ادا نہیں کیا تھا۔

انھوںنے کہا کہ وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کا یہ بیان عجیب ہے کہ اگر نوازشریف بلوچستان میں امن کے قیام کی ضمانت دیں تو ایف سی کوواپس بلا لیںگے جب وہ حکومت میں آئیں گے تو یہ ذمے داری بھی لے لیںگے لیکن اس وقت حکومت میں وہ خود ہیں اورذمے داری بھی انہی کی ہے۔ نواز شریف نے کوئٹہ میں صحافیوں کیخلاف مقدمات قائم کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں پر قائم کیے گئے مقدمات انتہائی افسوسناک امر ہے، یہ مقدمات فوری ختم کیے جائیں اور عبدالحق شہید کے قاتل کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ آئی این پی کے مطابق مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کے بعد میاں عالم داد لالیکا نے نواز شریف سے ایک ماہ میں دوسری تفصیلی ملاقات کی اور حلقہ سمیت ضلع بہاولنگرکی سیاسی صورتحال اور لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا۔

Recommended Stories

Load Next Story