فکسنگ کیس سری لنکا پر چھان بین نہ کرنے کے لیے دباؤ پڑنے لگا
آئی سی سی نے بنگلہ دیشی پلیئر اشرفل کے شواہد پر کوئی ایکشن نہ لینے کا معاہدہ دستخط کیلیے بھجوا دیا، مقامی میڈیا
آئی سی سی نے بنگلہ دیشی پلیئر اشرفل کے شواہد پر کوئی ایکشن نہ لینے کا معاہدہ دستخط کیلیے بھجوا دیا، مقامی میڈیاکا دعویٰ. فوٹو؛ فائل
فکسنگ تحقیقات کے معاملے پر سری لنکا اور آئی سی سی میں تنازع ہوگیا۔
مقامی میڈیا نے دعویٰ کیاکہ پریمیئر لیگ میں کرپشن کی چھان بین نہ کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، سابق بنگلہ دیشی کپتان محمد اشرفل کے شواہد پر کوئی بھی ایکشن نہ لینے کا معاہدہ دستخط کیلئے بھجوا دیا۔ تفصیلات کے مطابق سری لنکا پریمیئر لیگ کا پہلا اور آخری ایڈیشن 2012 میں منعقد ہوا تھا، بعد میں بنگلہ دیش کے سابق کپتان محمد اشرفل نے آئی سی سی میں ایک بیان حلفی 23 مئی 2013 کو جمع کرایا، اس میں انھوں نے ایس ایل پی ایل کے راہونا رائلز اور ویمبا یونائیٹڈ کے درمیان میچ میں فکسنگ کا اعتراف کیا تھا۔ یہ فکسنگ معاملہ اس وقت سری لنکا کرکٹ میں ایک بڑا ایشو بن کر سامنے آیا جب یہ انکشاف ہوا کہ بورڈ کے صدر جیانتھا دھرما سینا نے نومبر 2014 کے آئی سی سی بورڈ اجلاس میں کونسل کو یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ اشرفل کی جانب سے دیئے جانے والے شواہد پر مزید کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔
ایس ایل سی کی ایگزیکٹیو کمیٹی اپنے صدر کے اس اقدام سے اس وقت تک لاعلم رہی جب آئی سی سی نے اس حوالے سے باقاعدہ ایگریمنٹ بناکر دستخط کیلیے انھیں بھیج نہیں دیا۔ جب سری لنکن آفیشلز نے پڑھا کہ آئی سی سی ایک جانب تو ان کے ایونٹ میں فکسنگ کا الزام عائد کررہی ہے اور دوسری جانب انھیں اس حوالے سے مزید تحقیقات کرنے سے بھی روک رہی ہے تو وہ بھڑک اٹھے، وکلا سے مشورے کے بعد ایگزیکٹیو بورڈ نے دستخط سے معذرت کرتے ہوئے ایگریمنٹ واپس بھیج دیا مگر وہاں سے اسے اس انکشاف کیساتھ واپس بھیجا گیا کہ دھرما داسا خود اتفاق کرچکے اس لیے دستخط کردیے جائیں۔
جب دھرما داسا سے استفسار کیا گیا کہ انھوں نے اس سلسلے میں ایگزیکٹیو کمیٹی کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا تو انھوں نے کہا کہ میںاس میٹنگ کے دستاویزات سامنے آنے پر مطلع کردیتا،بنگلہ دیشی بورڈ کے صدر نظم الحسن نے بھی ان سے مزید تحقیقات نہ کرنے کی درخواست کردی تھی۔ سری لنکن ایگزیکٹیو کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ دھرما داسا کے زبانی متفق ہونے کے باوجود آئی سی سی کی جانب سے بھیجے گئے اس ایگریمنٹ پر دستخط نہیں کیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ انڈین پریمیئر لیگ فکسنگ کیس کی تحقیقات کے دوران ممبئی پولیس نے انکشاف کیا تھا کہ 2 بھارتی بکیز نے جعلی ناموں سے سری لنکن لیگ میں فرنچائزز خریدی ہوئی تھیں۔
مقامی میڈیا نے دعویٰ کیاکہ پریمیئر لیگ میں کرپشن کی چھان بین نہ کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، سابق بنگلہ دیشی کپتان محمد اشرفل کے شواہد پر کوئی بھی ایکشن نہ لینے کا معاہدہ دستخط کیلئے بھجوا دیا۔ تفصیلات کے مطابق سری لنکا پریمیئر لیگ کا پہلا اور آخری ایڈیشن 2012 میں منعقد ہوا تھا، بعد میں بنگلہ دیش کے سابق کپتان محمد اشرفل نے آئی سی سی میں ایک بیان حلفی 23 مئی 2013 کو جمع کرایا، اس میں انھوں نے ایس ایل پی ایل کے راہونا رائلز اور ویمبا یونائیٹڈ کے درمیان میچ میں فکسنگ کا اعتراف کیا تھا۔ یہ فکسنگ معاملہ اس وقت سری لنکا کرکٹ میں ایک بڑا ایشو بن کر سامنے آیا جب یہ انکشاف ہوا کہ بورڈ کے صدر جیانتھا دھرما سینا نے نومبر 2014 کے آئی سی سی بورڈ اجلاس میں کونسل کو یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ اشرفل کی جانب سے دیئے جانے والے شواہد پر مزید کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔
ایس ایل سی کی ایگزیکٹیو کمیٹی اپنے صدر کے اس اقدام سے اس وقت تک لاعلم رہی جب آئی سی سی نے اس حوالے سے باقاعدہ ایگریمنٹ بناکر دستخط کیلیے انھیں بھیج نہیں دیا۔ جب سری لنکن آفیشلز نے پڑھا کہ آئی سی سی ایک جانب تو ان کے ایونٹ میں فکسنگ کا الزام عائد کررہی ہے اور دوسری جانب انھیں اس حوالے سے مزید تحقیقات کرنے سے بھی روک رہی ہے تو وہ بھڑک اٹھے، وکلا سے مشورے کے بعد ایگزیکٹیو بورڈ نے دستخط سے معذرت کرتے ہوئے ایگریمنٹ واپس بھیج دیا مگر وہاں سے اسے اس انکشاف کیساتھ واپس بھیجا گیا کہ دھرما داسا خود اتفاق کرچکے اس لیے دستخط کردیے جائیں۔
جب دھرما داسا سے استفسار کیا گیا کہ انھوں نے اس سلسلے میں ایگزیکٹیو کمیٹی کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا تو انھوں نے کہا کہ میںاس میٹنگ کے دستاویزات سامنے آنے پر مطلع کردیتا،بنگلہ دیشی بورڈ کے صدر نظم الحسن نے بھی ان سے مزید تحقیقات نہ کرنے کی درخواست کردی تھی۔ سری لنکن ایگزیکٹیو کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ دھرما داسا کے زبانی متفق ہونے کے باوجود آئی سی سی کی جانب سے بھیجے گئے اس ایگریمنٹ پر دستخط نہیں کیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ انڈین پریمیئر لیگ فکسنگ کیس کی تحقیقات کے دوران ممبئی پولیس نے انکشاف کیا تھا کہ 2 بھارتی بکیز نے جعلی ناموں سے سری لنکن لیگ میں فرنچائزز خریدی ہوئی تھیں۔