جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا
پینٹنگولر کپ سے زیادہ کرائوڈ تو کراچی میں رمضان کرکٹ ٹورنامنٹس کے میچز دیکھنے ہی آ جاتا ہے
skhaliq@express.com.pk
''جناب یہ ٹورنامنٹ کرانے کا کوئی مقصد بھی ہے یا ویسے ہی بورڈگنتی پوری کر دیتا ہے کہ سال میں اتنے ایونٹس کا انعقاد کرنا ہے، کوئی بڑا کھلاڑی کھیل نہیں رہا، ایونٹ کی تشہیر بھی نہیں ہوئی، کون میچز دیکھنے آئے گا؟''
نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پینٹنگولر کپ کی افتتاحی پریس کانفرنس سے قبل بورڈ کے ڈائریکٹر ڈومیسٹک انتخاب عالم سے جب میں نے یہ بات کہی تو شاید انھیں پسند نہ آئی، انھوں نے جواب دیا کہ ''ایسا نہیں ہے، اس ٹورنامنٹ سے بھی نئے کھلاڑیوں کو سامنے آنے کا موقع ملے گا اور ورلڈکپ کی تیاریاں ہوں گی''
مگر کیسے، یہ میرا اگلا سوال تھا، تمام بڑے کھلاڑیوں کوتو آپ نے آرام دے دیا، ابھی انتخاب عالم کچھ کہنا ہی چاہتے تھے کہ پی آر او شعیب احمد انھیں پریس کانفرنس کیلئے لے گئے۔
اس کے بعد بدھ کو پینٹنگولر کپ کے پہلے میچ میں تمام اندیشے درست ثابت ہوئے، چند سو افراد کو ہی موٹر سائیکل کی لالچ میں اسٹیڈیم لایا گیا، کتنے افسوس کی بات ہے کہ شعیب ملک، فواد عالم، اسد شفیق اور انور علی کو عمدہ اسٹروکس پر تالیوں کی کوئی آواز تک سنائی نہ دی، ٹی وی کیمرے جب خالی اسٹینڈز دکھاتے تو سب ہی کو افسوس ہوتا، اس سے زیادہ کرائوڈ تو کراچی میں رمضان کرکٹ ٹورنامنٹس کے میچز دیکھنے ہی آ جاتا ہے، یہ کہنا کہ ایونٹ کو عجلت میں یہاں منتقل کیا گیا درست نہیں، کئی روز پہلے ہی یہ اطلاعات سامنے آرہی تھیں کہ ایسا ہوگا۔
ایک اسکول کا بچہ بھی جانتا ہے کہ ان دنوں ہر سال پنجاب میں دھند کا مسئلہ ہوتا ہے تو پی سی بی آفیشلز نے اس کے باوجود ملتان میں ایونٹ کیوں شیڈول کیا؟ پہلے ہی شہرقائد کو ذمہ داری سونپ دی جاتی مگر ایسا نہ کرنا منصوبہ بندی کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے، اسی طرح جب یہ طے ہو گیا کہ میچز کراچی میں ہونے ہیں تو پلیئرز کے سفری انتظامات میں تاخیر کیوں کی گئی جس کی وجہ سے دوسرے میچ کا شیڈول بدلنا پڑا، دبئی میں میچز ہوئے توتقریباً ہر اعلیٰ آفیشل سیر کر کے آ گیا، کراچی میں اب تک2،3چہرے ہی نظر آئے ہیں،افسوس بورڈ نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
گذشتہ برس یہاں ٹی ٹوئنٹی ایونٹ شائقین کے نقطہ نظر سے فلاپ ثابت ہوا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اب کچھ ایسے اقدامات کیے جاتے جن سے لوگوں کو اسٹیڈیم کھینچا جا سکے مگر تاحال ایسا نہیں ہوا، دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر روز موٹر سائیکل اور فوڈ فیکٹری کے انعامات دینے کا بھی بورڈ نے پہلے نہیں سوچا تھا، عمر کلب کے روح رواں ندیم عمر نے یہ تجویز دی اور پھر انھیں ہی اسپانسر شپ کیلیے آگے بڑھنا پڑا، اب اس کی تشہیر کرنا تو حکام کا ہی کام تھا مگر تاحال وہ بھی نہیں کی گئی۔
مجھے یاد ہے کہ چند برس قبل اسی نیشنل اسٹیڈیم میں ایک ٹی ٹوئنٹی ایونٹ ہوا اس میں اتنے لوگ آئے کہ دیوار تک ٹوٹ گئی، میں خود اسٹیڈیم میں داخل نہ ہو سکا اور باہر روڈ سے ہی واپس جا کر ٹی وی پرفائنل دیکھا تھا، حالات اب بھی ویسے ہی ہیں مگر لوگ نہیں آ رہے، اس کی بڑی وجہ تشہیر کی کمی ہے، بورڈ کو بڑے پیمانے پر شہر بھر میں ہورڈنگز لگوانے چاہئیں، بڑے شاپنگ مالز میں اسٹال لگا کر عوام کو ایونٹ سے آگاہ کیا جائے، مختلف ٹی وی چینلز و اخبارات میں بڑی تشہیری مہم شروع ہو، جس طرح ندیم عمر نے انعامات کا اعلان کیا پی سی بی اپنے اسپانسرز سے بھی ایسا کرائے۔
میچ کے درمیانی وقفے میں کسی گلوکار کی پرفارمنس رکھی جا سکتی ہے، کھانے پینے کے اسٹال اور بچوں کی دلچسپی کیلیے دیگر سرگرمیوں کا انعقاد بھی ناممکن نہیں، ہر روز کسی ایک کرکٹر کے ساتھ شائقین کو ملاقات کا موقع فراہم کیا جائے جس سے وہ قطار میں لگ کر آٹوگراف لیں اور تصاویر بنوائیں، میں نے آسٹریلیا و دیگر ممالک میں ٹیسٹ میچز کے دوران ایسا ہوتا دیکھا ہے، کسی بھی ایونٹ کی کامیابی کیلیے اس میں اسٹارکرکٹرز کی شرکت ضروری ہوتی ہے، تمام میچز نہیں تو بڑے پلیئرزکو ایک، ایک میچ کھیلنے کا تو کہا جائے، پھر ایونٹ ضرور کامیاب ہوگا۔
اب بھی وقت ہے ابتدائی میچز سے سبق سیکھتے ہوئے اگر اقدامات کیے گئے تو یقیناً اگلے مقابلوں میں کراؤڈ ضرور آئے گا، اسی کے ساتھ بورڈ کو نیشنل اسٹیڈیم کی حالت زار پر بھی توجہ دینی چاہیے، افتتاحی تقریب اور پریس کانفرنس میں تصاویر بنوانے میں پیش پیش آفیشلز اپنے اصل فرائض سے غافل ہیں، انھیں کوئی پوچھنے والا بھی نہیں، ایک طرف ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ واپس لانے کی باتیں ہو رہی ہیں اور وینیوز کا اتنا برا حال ہے، کیا ہم غیر ملکی کرکٹرز کو ان ٹوٹے پھوٹے اسٹیڈیمز میں کھلائیں گے حکام کو اس بارے میں کچھ سوچنا چاہیے۔
نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پینٹنگولر کپ کی افتتاحی پریس کانفرنس سے قبل بورڈ کے ڈائریکٹر ڈومیسٹک انتخاب عالم سے جب میں نے یہ بات کہی تو شاید انھیں پسند نہ آئی، انھوں نے جواب دیا کہ ''ایسا نہیں ہے، اس ٹورنامنٹ سے بھی نئے کھلاڑیوں کو سامنے آنے کا موقع ملے گا اور ورلڈکپ کی تیاریاں ہوں گی''
مگر کیسے، یہ میرا اگلا سوال تھا، تمام بڑے کھلاڑیوں کوتو آپ نے آرام دے دیا، ابھی انتخاب عالم کچھ کہنا ہی چاہتے تھے کہ پی آر او شعیب احمد انھیں پریس کانفرنس کیلئے لے گئے۔
اس کے بعد بدھ کو پینٹنگولر کپ کے پہلے میچ میں تمام اندیشے درست ثابت ہوئے، چند سو افراد کو ہی موٹر سائیکل کی لالچ میں اسٹیڈیم لایا گیا، کتنے افسوس کی بات ہے کہ شعیب ملک، فواد عالم، اسد شفیق اور انور علی کو عمدہ اسٹروکس پر تالیوں کی کوئی آواز تک سنائی نہ دی، ٹی وی کیمرے جب خالی اسٹینڈز دکھاتے تو سب ہی کو افسوس ہوتا، اس سے زیادہ کرائوڈ تو کراچی میں رمضان کرکٹ ٹورنامنٹس کے میچز دیکھنے ہی آ جاتا ہے، یہ کہنا کہ ایونٹ کو عجلت میں یہاں منتقل کیا گیا درست نہیں، کئی روز پہلے ہی یہ اطلاعات سامنے آرہی تھیں کہ ایسا ہوگا۔
ایک اسکول کا بچہ بھی جانتا ہے کہ ان دنوں ہر سال پنجاب میں دھند کا مسئلہ ہوتا ہے تو پی سی بی آفیشلز نے اس کے باوجود ملتان میں ایونٹ کیوں شیڈول کیا؟ پہلے ہی شہرقائد کو ذمہ داری سونپ دی جاتی مگر ایسا نہ کرنا منصوبہ بندی کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے، اسی طرح جب یہ طے ہو گیا کہ میچز کراچی میں ہونے ہیں تو پلیئرز کے سفری انتظامات میں تاخیر کیوں کی گئی جس کی وجہ سے دوسرے میچ کا شیڈول بدلنا پڑا، دبئی میں میچز ہوئے توتقریباً ہر اعلیٰ آفیشل سیر کر کے آ گیا، کراچی میں اب تک2،3چہرے ہی نظر آئے ہیں،افسوس بورڈ نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
گذشتہ برس یہاں ٹی ٹوئنٹی ایونٹ شائقین کے نقطہ نظر سے فلاپ ثابت ہوا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اب کچھ ایسے اقدامات کیے جاتے جن سے لوگوں کو اسٹیڈیم کھینچا جا سکے مگر تاحال ایسا نہیں ہوا، دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر روز موٹر سائیکل اور فوڈ فیکٹری کے انعامات دینے کا بھی بورڈ نے پہلے نہیں سوچا تھا، عمر کلب کے روح رواں ندیم عمر نے یہ تجویز دی اور پھر انھیں ہی اسپانسر شپ کیلیے آگے بڑھنا پڑا، اب اس کی تشہیر کرنا تو حکام کا ہی کام تھا مگر تاحال وہ بھی نہیں کی گئی۔
مجھے یاد ہے کہ چند برس قبل اسی نیشنل اسٹیڈیم میں ایک ٹی ٹوئنٹی ایونٹ ہوا اس میں اتنے لوگ آئے کہ دیوار تک ٹوٹ گئی، میں خود اسٹیڈیم میں داخل نہ ہو سکا اور باہر روڈ سے ہی واپس جا کر ٹی وی پرفائنل دیکھا تھا، حالات اب بھی ویسے ہی ہیں مگر لوگ نہیں آ رہے، اس کی بڑی وجہ تشہیر کی کمی ہے، بورڈ کو بڑے پیمانے پر شہر بھر میں ہورڈنگز لگوانے چاہئیں، بڑے شاپنگ مالز میں اسٹال لگا کر عوام کو ایونٹ سے آگاہ کیا جائے، مختلف ٹی وی چینلز و اخبارات میں بڑی تشہیری مہم شروع ہو، جس طرح ندیم عمر نے انعامات کا اعلان کیا پی سی بی اپنے اسپانسرز سے بھی ایسا کرائے۔
میچ کے درمیانی وقفے میں کسی گلوکار کی پرفارمنس رکھی جا سکتی ہے، کھانے پینے کے اسٹال اور بچوں کی دلچسپی کیلیے دیگر سرگرمیوں کا انعقاد بھی ناممکن نہیں، ہر روز کسی ایک کرکٹر کے ساتھ شائقین کو ملاقات کا موقع فراہم کیا جائے جس سے وہ قطار میں لگ کر آٹوگراف لیں اور تصاویر بنوائیں، میں نے آسٹریلیا و دیگر ممالک میں ٹیسٹ میچز کے دوران ایسا ہوتا دیکھا ہے، کسی بھی ایونٹ کی کامیابی کیلیے اس میں اسٹارکرکٹرز کی شرکت ضروری ہوتی ہے، تمام میچز نہیں تو بڑے پلیئرزکو ایک، ایک میچ کھیلنے کا تو کہا جائے، پھر ایونٹ ضرور کامیاب ہوگا۔
اب بھی وقت ہے ابتدائی میچز سے سبق سیکھتے ہوئے اگر اقدامات کیے گئے تو یقیناً اگلے مقابلوں میں کراؤڈ ضرور آئے گا، اسی کے ساتھ بورڈ کو نیشنل اسٹیڈیم کی حالت زار پر بھی توجہ دینی چاہیے، افتتاحی تقریب اور پریس کانفرنس میں تصاویر بنوانے میں پیش پیش آفیشلز اپنے اصل فرائض سے غافل ہیں، انھیں کوئی پوچھنے والا بھی نہیں، ایک طرف ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ واپس لانے کی باتیں ہو رہی ہیں اور وینیوز کا اتنا برا حال ہے، کیا ہم غیر ملکی کرکٹرز کو ان ٹوٹے پھوٹے اسٹیڈیمز میں کھلائیں گے حکام کو اس بارے میں کچھ سوچنا چاہیے۔