عبدالرحمان کا مثبت ڈوپ ٹیسٹبورڈ نے تصدیق کردی
ٹی20 چیمپئنز لیگ کیلیے سیالکوٹ اسٹالینز کی ٹیم سے اسپنر کا نام واپس لے لیا گیا۔
ممنوعہ چیز استعمال نہیں کی،ڈوپنگ کیس پر خود بھی حیران ہوں، لیفٹ آرم بولر فوٹو اے ایف پی
GILGIT:
پاکستان کرکٹ بورڈ نے لیفٹ آرم اسپنر عبدالرحمان کے ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام رہنے کی تصدیق کردی۔
ٹوئنٹی 20 چیمپئنز لیگ کیلیے سیالکوٹ اسٹالینز کی ٹیم سے نام واپس لے لیا، ادھر عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ میں نے کوئی ممنوعہ چیز استعمال نہیں کی، ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر خود بھی حیران ہوں، پابندی لگی بھی تو دو ماہ سے زیادہ نہیں ہوگی۔ دوسری جانب انگلش بورڈ کے ترجمان نے 'ایکسپریس' سے بات چیت میں 24 گھنٹوں کے اندرمعاملے پر پریس ریلیز جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسپنر عبدالرحمان کا ڈوپنگ اسکینڈل سامنے آنے سے پاکستانی کرکٹ میں ہلچل مچ گئی، پی سی بی معاملے کو ٹوئنٹی 20 ورلڈکپ کے اختتام تک خفیہ رکھنا چاہتا تھا۔
تاہم ''ایکسپریس'' میں خبر کی اشاعت کے سبب ایسا نہ ہو سکا،غیرملکی خبررساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک اعلیٰ آفیشل نے تصدیق کی کہ عبدالرحمان کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا اس لیے ان کا نام 9 اکتوبر سے جنوبی افریقہ میں شروع ہونے والی چیمپئنز لیگ کیلیے سیالکوٹ اسٹالینز کے اسکواڈ سے واپس لے لیا گیا ہے۔ اس بارے میں عبدالرحمان نے ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کے دوران کہا کہ میں نے کوئی ممنوعہ چیز استعمال نہیں کی، ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر خود بھی حیران ہوں۔
میں جانتا ہوں اگر مجھ پر پابندی عائد کی بھی گئی تو وہ دو ماہ سے زیادہ نہیں ہوگی کیونکہ میں نے کوئی قوت بخش ادویہ استعمال نہیں کیں۔ دریں اثنا انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے ہیڈآف کارپوریٹ کمیونی کیشن اینڈریو والپول نے نمائندہ ''ایکسپریس'' کے استفسار پرکہا کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران جاری شدہ پریس ریلیز کے ذریعے تمام تفصیلات کا علم ہو جائے گا،انھوں نے معاملے پر مزید اظہار خیال سے معذرت کر لی،ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالرحمان پر غیرمعینہ مدت کیلیے پابندی عائد کر دی جائے گی۔
حتمی سزا کا فیصلہ معاملے کی سماعت کے بعد سنایا جا سکتا ہے، اگر لیفٹ آرام اسپنر یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے کہ نادانستگی میں ممنوعہ دوا استعمال کی تو کم سزا ہو گی بصورت دیگر دو برس کیلیے کھیل سے دور رہنا پڑ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ 2006 میں چیمپئنز ٹرافی سے قبل جب شعیب اختر اور محمد آصف ڈوپنگ پر دو سالہ پابندی کا شکار ہوئے تو اپیل پر سزا ختم کر دی گئی تھی، بعد میں ورلڈاینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) نے اس فیصلے کیخلاف کھیلوں کی عالمی عدالت میں اپیل دائر کی جسے خارج کر دیا گیا تھا۔
آئی سی سی نے دسمبر 2008 میں واڈا کا اینٹی ڈوپنگ کوڈ مکمل طور پر اپنا لیا جس کے تحت مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے بعدگذشتہ برس سری لنکن کرکٹر اپل تھارنگا کو 3 ماہ کیلیے معطل بھی کیا گیا، اب ہر کرکٹر کا کسی بھی وقت ٹیسٹ لیا جا سکتا ہے۔ کونسل کے قوانین کے تحت اگر کوئی ملک کسی کھلاڑی کو کرپشن، ڈسپلن ، ڈوپنگ یا کسی اور وجہ سے کوئی سزا سنائے تو دنیا بھر کے بورڈز کو اس پر عمل کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے لیفٹ آرم اسپنر عبدالرحمان کے ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام رہنے کی تصدیق کردی۔
ٹوئنٹی 20 چیمپئنز لیگ کیلیے سیالکوٹ اسٹالینز کی ٹیم سے نام واپس لے لیا، ادھر عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ میں نے کوئی ممنوعہ چیز استعمال نہیں کی، ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر خود بھی حیران ہوں، پابندی لگی بھی تو دو ماہ سے زیادہ نہیں ہوگی۔ دوسری جانب انگلش بورڈ کے ترجمان نے 'ایکسپریس' سے بات چیت میں 24 گھنٹوں کے اندرمعاملے پر پریس ریلیز جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسپنر عبدالرحمان کا ڈوپنگ اسکینڈل سامنے آنے سے پاکستانی کرکٹ میں ہلچل مچ گئی، پی سی بی معاملے کو ٹوئنٹی 20 ورلڈکپ کے اختتام تک خفیہ رکھنا چاہتا تھا۔
تاہم ''ایکسپریس'' میں خبر کی اشاعت کے سبب ایسا نہ ہو سکا،غیرملکی خبررساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک اعلیٰ آفیشل نے تصدیق کی کہ عبدالرحمان کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا اس لیے ان کا نام 9 اکتوبر سے جنوبی افریقہ میں شروع ہونے والی چیمپئنز لیگ کیلیے سیالکوٹ اسٹالینز کے اسکواڈ سے واپس لے لیا گیا ہے۔ اس بارے میں عبدالرحمان نے ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کے دوران کہا کہ میں نے کوئی ممنوعہ چیز استعمال نہیں کی، ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر خود بھی حیران ہوں۔
میں جانتا ہوں اگر مجھ پر پابندی عائد کی بھی گئی تو وہ دو ماہ سے زیادہ نہیں ہوگی کیونکہ میں نے کوئی قوت بخش ادویہ استعمال نہیں کیں۔ دریں اثنا انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے ہیڈآف کارپوریٹ کمیونی کیشن اینڈریو والپول نے نمائندہ ''ایکسپریس'' کے استفسار پرکہا کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران جاری شدہ پریس ریلیز کے ذریعے تمام تفصیلات کا علم ہو جائے گا،انھوں نے معاملے پر مزید اظہار خیال سے معذرت کر لی،ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالرحمان پر غیرمعینہ مدت کیلیے پابندی عائد کر دی جائے گی۔
حتمی سزا کا فیصلہ معاملے کی سماعت کے بعد سنایا جا سکتا ہے، اگر لیفٹ آرام اسپنر یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے کہ نادانستگی میں ممنوعہ دوا استعمال کی تو کم سزا ہو گی بصورت دیگر دو برس کیلیے کھیل سے دور رہنا پڑ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ 2006 میں چیمپئنز ٹرافی سے قبل جب شعیب اختر اور محمد آصف ڈوپنگ پر دو سالہ پابندی کا شکار ہوئے تو اپیل پر سزا ختم کر دی گئی تھی، بعد میں ورلڈاینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) نے اس فیصلے کیخلاف کھیلوں کی عالمی عدالت میں اپیل دائر کی جسے خارج کر دیا گیا تھا۔
آئی سی سی نے دسمبر 2008 میں واڈا کا اینٹی ڈوپنگ کوڈ مکمل طور پر اپنا لیا جس کے تحت مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے بعدگذشتہ برس سری لنکن کرکٹر اپل تھارنگا کو 3 ماہ کیلیے معطل بھی کیا گیا، اب ہر کرکٹر کا کسی بھی وقت ٹیسٹ لیا جا سکتا ہے۔ کونسل کے قوانین کے تحت اگر کوئی ملک کسی کھلاڑی کو کرپشن، ڈسپلن ، ڈوپنگ یا کسی اور وجہ سے کوئی سزا سنائے تو دنیا بھر کے بورڈز کو اس پر عمل کرنا پڑتا ہے۔