سری لنکن کپتان کی اچانک تبدیلی شبہات کو جنم دینے لگی
انگلینڈ سے میچ میں ٹاس کے وقت مہیلاکی جگہ سنگاکاراکودیکھ کرشائقین حیران رہ گئے۔
سلواوورریٹ پر پابندی سے بچنے کیلیے فیصلہ کیا(ریگولرقائد)آئی سی سی قانون بدل دیگی فوٹو فائل
ISLAMABAD:
انگلینڈ کے خلاف میچ میں سری لنکن کپتان کی اچانک تبدیلی شبہات کو جنم دینے لگی۔
ٹاس کے موقع پر مہیلا جے وردنے کے بجائے کمارسنگاکارا کو دیکھ کر شائقین کو حیرت کا شدید دھچکا لگا، فیلڈ میں ہونے والی ہر حرکت پر لگا لاکھوں کا دائو معاملے کو مشکوک بنانے لگا۔ادھر مہیلا جے وردنے کا کہنا ہے کہ سلو اوور ریٹ پر پابندی سے بچنے کیلیے قیادت سنگاکارا کو دی، آئی سی سی ترجمان کے مطابق ایونٹ کے بعد کوڈ آف کنڈکٹ پر نظر ثانی کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق سری لنکا نے انگلینڈ سے سپر ایٹ رائونڈ کے آخری میچ میں مہیلا جے وردنے کے بجائے کمارسنگاکارا کو قیادت سونپی، جب وہ حریف قائد اسٹورٹ براڈ کے ساتھ ٹاس کیلیے آئے تو ان کو دیکھ کر شائقین اور مختلف چیزوں پر جوا کھیلنے والوں کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا، اس وقت صرف میچ کے نتیجے پر ہی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کی کیپ اور چشمے سے لے کر ایک اوور میں بننے والے رنز اور چھکوں چوکوں تک پر جوا لگا ہوا ہوتا ہے۔
دوسری جانب مہیلا جے وردنے نے وضاحت کی کہ ٹیم مینجمنٹ نے یہ اقدام انھیں سلو اوور ریٹ پر ممکنہ پابندی سے بچانے کیلیے اٹھایا،ویسٹ انڈیز سے میچ میں مقررہ وقت سے ایک اوور پیچھے رہنے کی وجہ سے ان پر جرمانہ کیا گیا تھا۔ جے وردنے نے کہاکہ یہ تجویز منیجر چارتھ سینانائیکے نے دی، ہم نے آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کا جائزہ لینے کے بعد اپنے منصوبے پر عمل کیا، نائب کپتان انجیلو میتھیوز کو بھی قیادت اس لیے نہیں دی گئی کیونکہ وہ بھی پاکستان سے سیریز میں ایک میچ کے دوران کپتانی کرتے ہوئے سلو اوور ریٹ کی وجہ سے جرمانے کا شکار ہوئے تھے۔
ہمارے پاس سنگاکارا ایک ایسے پلیئر تھے جن پر اس جرم میں گذشتہ 12 ماہ کے دوران جرمانہ نہیں ہوا تھا،اگر میں یا انجیلو میتھیوز ایک اور سلواوور ریٹ کا شکار ہوتے تو سیمی فائنل میں باہر بیٹھنا پڑتا، مجھے لگتا ہے کہ اب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ضرور اپنے کوڈ آف کنڈکٹ پر نظر ثانی کرے گی، مگر امید ہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران ایسا نہیں ہوگا۔آئی سی سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ایونٹ کے اختتام پر پلیئنگ کنڈیشنز اور کوڈ آف کنڈکٹ پر نظر ثانی کی جائے گی۔
انگلینڈ کے خلاف میچ میں سری لنکن کپتان کی اچانک تبدیلی شبہات کو جنم دینے لگی۔
ٹاس کے موقع پر مہیلا جے وردنے کے بجائے کمارسنگاکارا کو دیکھ کر شائقین کو حیرت کا شدید دھچکا لگا، فیلڈ میں ہونے والی ہر حرکت پر لگا لاکھوں کا دائو معاملے کو مشکوک بنانے لگا۔ادھر مہیلا جے وردنے کا کہنا ہے کہ سلو اوور ریٹ پر پابندی سے بچنے کیلیے قیادت سنگاکارا کو دی، آئی سی سی ترجمان کے مطابق ایونٹ کے بعد کوڈ آف کنڈکٹ پر نظر ثانی کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق سری لنکا نے انگلینڈ سے سپر ایٹ رائونڈ کے آخری میچ میں مہیلا جے وردنے کے بجائے کمارسنگاکارا کو قیادت سونپی، جب وہ حریف قائد اسٹورٹ براڈ کے ساتھ ٹاس کیلیے آئے تو ان کو دیکھ کر شائقین اور مختلف چیزوں پر جوا کھیلنے والوں کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا، اس وقت صرف میچ کے نتیجے پر ہی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کی کیپ اور چشمے سے لے کر ایک اوور میں بننے والے رنز اور چھکوں چوکوں تک پر جوا لگا ہوا ہوتا ہے۔
دوسری جانب مہیلا جے وردنے نے وضاحت کی کہ ٹیم مینجمنٹ نے یہ اقدام انھیں سلو اوور ریٹ پر ممکنہ پابندی سے بچانے کیلیے اٹھایا،ویسٹ انڈیز سے میچ میں مقررہ وقت سے ایک اوور پیچھے رہنے کی وجہ سے ان پر جرمانہ کیا گیا تھا۔ جے وردنے نے کہاکہ یہ تجویز منیجر چارتھ سینانائیکے نے دی، ہم نے آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کا جائزہ لینے کے بعد اپنے منصوبے پر عمل کیا، نائب کپتان انجیلو میتھیوز کو بھی قیادت اس لیے نہیں دی گئی کیونکہ وہ بھی پاکستان سے سیریز میں ایک میچ کے دوران کپتانی کرتے ہوئے سلو اوور ریٹ کی وجہ سے جرمانے کا شکار ہوئے تھے۔
ہمارے پاس سنگاکارا ایک ایسے پلیئر تھے جن پر اس جرم میں گذشتہ 12 ماہ کے دوران جرمانہ نہیں ہوا تھا،اگر میں یا انجیلو میتھیوز ایک اور سلواوور ریٹ کا شکار ہوتے تو سیمی فائنل میں باہر بیٹھنا پڑتا، مجھے لگتا ہے کہ اب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ضرور اپنے کوڈ آف کنڈکٹ پر نظر ثانی کرے گی، مگر امید ہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران ایسا نہیں ہوگا۔آئی سی سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ایونٹ کے اختتام پر پلیئنگ کنڈیشنز اور کوڈ آف کنڈکٹ پر نظر ثانی کی جائے گی۔