بلدیاتی نظام سے سندھ میں کوئی تفریق نہیں ہوگیگورنرسندھ

مخالفت محض بل کوجاری کرنے کے طریقہ کارپرہورہی ہے اس کی شق پرنہیں،عشرت العباد

جولوگ نئے بلدیاتی قانون کی مخالفت کررہے ہیں وہ2001کے بلدیاتی نظام کاحصہ رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد نے واضح کیاہے کہ صوبہ سندھ میں نافذکیے جانیوالے بلدیاتی قانون میں ایسی ایک بھی شق نہیں ہے جوصوبے میں کسی تفریق کاسبب بنے یایکجہتی کے خلاف ہو۔

بلدیاتی قانون کی مخالفت محض اس کوجاری کرنے کے طریقہ کارپرکی جا رہی ہے جبکہ اس کی کسی شق پرکوئی اعتراض سامنے نہیں آرہا،قانون نافذکرنے کے طریقہ کارمیں بھی کوئی غیرآئینی قدم نہیں اٹھایا گیا۔یہ بات انھوں نے نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہورکے97ویں نیشنل منیجمنٹ کورس کے شرکاسے خطاب کرتے کہی،جنھوں نے گورنر ہائوس میں ان سے ملاقات کی ۔گورنرنے اس تاثرکومستردکردیاکہ بلدیاتی قانون کے تحت صوبے میں دومختلف نظام متعارف کروائے گئے ہیں۔


انھوں نے کہاکہ کمشنر ی نظام اوربلدیاتی نظام2مختلف قوانین کے تحت قائم ہیں،صوبے میں لینڈریونیو ایکٹ کے تحت کمشنری نظام قائم ہے اورکراچی ایک ضلع نہیں بلکہ یہاں5اضلاع بدستورقائم ہیں،نئے بلدیاتی قانون کے تحت صوبے میں ایک نہیں پانچ میٹروپولیٹن کارپوریشنز قائم کی گئی ہیں اورقانون میںاس بات کی مزیدگنجائش رکھی گئی ہے کہ جومقام بھی مطلوبہ معیارپرآئے گااسے میٹرو پولیٹن کادرجہ مل سکے گا۔

گورنرنے کہاکہ جولوگ نئے بلدیاتی قانون کی مخالفت کررہے ہیں وہ2001کے بلدیاتی نظام کاحصہ رہے ہیں،2001کاقانون دس سال تک نافذرہاہے اور پنجاب میں آج بھی جاری ہے،صوبے میں جاری کیے جانیوالے نئے بلدیاتی قانون میں 1979 اور 2001 کے نظام کے اچھے نکات شامل کیے گئے ہیں اوریہ حرف آخرنہیں ہے، آئین کے مطابق اس میں مزیدبہتری لائی جاسکتی ہے اورعوام کی یکجہتی و فلاح کیلیے اگرکوئی ترمیم سامنے لائی جائیںگی وہ شامل کی جاسکتی ہیں۔
Load Next Story