غدارکہنے والے جلال محموداپنے گریبان میں جھانکیں نثارکھوڑو

متحدہ وجی ایم سیدمیںصلح جلال محمودنے کرائی تھی، بلدیاتی نظام کابل اسمبلی سے منظورہوا

کسی کوبل پراعتراضات تھے توانھیں اسمبلی میں ترمیمی درخواست جمع کرانی چاہیے تھی۔ فوٹو: آن لائن/فائل

اسپیکرسندھ اسمبلی نثار کھوڑو نے کہاہے کہ بلدیاتی نظام سے متعلق بل پرمخالف ارکان نے اپنی نشستوں پرسے اعتراض نہ کرکے پیپلزپارٹی اورایم کیوایم کومتفقہ طورپربل منظورکرنے میں مدد کی۔

جلال محمودشاہ مجھے غدارکہنے سے پہلے اپنے گریباں میں جھانکھیں،ایم کیو ایم کو برا بھلا کہنے والے جلال محمودشاہ نے اپنی ہی رہائش گاہ پرایم کیو ایم اورجی ایم سیدکی پارٹی کے درمیان صلح کرائی تھی۔منگل کوسندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسپیکرسندھ اسمبلی نثاراحمد کھوڑو نے کہاکہ جلال محمود شاہ کے بیان پرافسوس ہوا،وہ پیپلزپارٹی کے اچھے کاموںکی بھی حمایت نہیں کرتے،1997میں نوازشریف کی حکومت میں کالاباغ ڈیم کی حمایت کرنے والے جلال محمودشاہ کس منہ سے انہیں غدارکہہ رہے ہیں، سندھ کے اصل غدارجلال محمود شاہ ہیں۔


جس بل کے حوالے سے جلال محمود شاہ و دیگرانہیں غدار کا لیبل د ے رہے ہیں وہ لوگ پرویزمشرف کے دورمیں ناظمین کے الیکشن لڑرہے تھے اس وقت انھوں نے پرویز مشرف کے دہر ے قانون کے خلاف آوازکیوں نہیں اٹھائی۔نثارکھوڑو نے کہاکہ اگر کسی کواس بل پراعتراضات تھے توانہیں اسمبلی میں ترمیمی درخواست جمع کرانی چاہیے تھی لیکن انھوں نے اجلاس میں اپنی نشستوں سے اعتراضات نہ اٹھاکرپیپلزپارٹی اورایم کیوایم کو تفقہ طور پر کثرت رائے سے بل منظور کرانے میں مددکی ہے۔

اسپیکر نے کہا کہ اگرکسی کو بلدیاتی نظام کے بل پراعتراض ہیں تو وہ الیکشن کا بائیکاٹ کر کے دکھائیں احتجاج بھی جمہوری طریقہ سے ہوناچاہیے،بل کی تشکیل کے وقت تمام جماعتوں نے اپنے پروپوزل جمع کرائے تھے جن کی روشنی میں حکومت نے بل تیارکیاہے لہٰذا اب احتجاج کاجواز ہی پیدا نہیں ہوتا،کسی وزیر کو مخالف بینچوں پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دے سکتااس سے اسمبلی قواعد کی خلاف ورزی ہوتی،ان کے استعفے اب تک منظورنہیں ہوئے لہٰذاانہیں اپوزیشن نشستیں بھی الاٹ نہیں کی جاسکتیں۔ اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہاکہ سندھ کافیصلہ اسمبلی میں پانچ منٹ میں نہیں بلکہ ڈھائی گھنٹے میں کیاگیا ے اور ڈھائی گھنٹے میںکیاجانے والافیصلے اس وقت سودمند ثابت ہوجائے گاجب فیصلے کی روشنی میں عوام کو سہولت ہوگی۔
Load Next Story