شمالی وزیرستان جرائم کاگڑھآپریشن کی تیاری نظرنہیں آتی

علاقے میں فورسز موجود ہیں لیکن آپریشن کافیصلہ اسلام آباد میں ہی ہو گا، کور کمانڈرپشاور

علاقے میں فورسز موجود ہیں لیکن آپریشن کافیصلہ اسلام آباد میں ہی ہو گا، کور کمانڈرپشاور , فوٹو: فائل

شمالی وزیرستان جرائم کا گڑھ بن چکا ہے،کئی اہم اغوا کے واقعات اورقتل کی منصوبہ بندی کی کڑیاں اسی علاقے سے ملتی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کو بھی اغوا کرکے اسی علاقے میں کہیں رکھا گیا ہے۔ اسمگلنگ،سرحد کے آر پاردہشت گردی کی پلاننگ اسی جگہ پرکی جاتی ہے۔شمالی وزیرستان طالبان کا جنرل ہیڈکوارٹر بن چکا ہے۔ یہ باتیں ایکسپریس نیوز کے پروگرام لائیو ود طلعت کے میزبان طلعت حسین نے شمالی وزیرستان کی تحصیل غلام خان کے علاقے طور خم میں کیے گئے خصوصی پروگرام میں بتائیں۔ طلعت حسین نے بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان کا ایک ہی عزم ہے کہ وہ پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچائے۔


شمالی وزیرستان میں حکومت سے بہت سی غلطیاں ہوئی ہیں،شمالی وزیرستان خطرات سے بھراپڑاہے،لیکن پالیسی جوں کی توں ہے اور اس بارے میں کوئی بھی جواب نہیں دے رہا ۔شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان بھی موجود ہیں، یہاں پرگل بہادر نیٹ ورک کے قصے بھی چل رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں جب بھی آپریشن کی بات ہوتی ہے توامریکا اس میں اپنے کردارکی بات کرتا ہے۔ہمیں کسی بھی آپریشن کی کوئی تیاری نظرنہیں آرہی۔ لیونگ انڈرڈرونز تھیوری میں بتایا گیا کہ جون 2004ء سے تین ہزار325 افراد ڈرون حملوںمیں مارے جاچکے ہیں۔881 سویلین مارے گئے اور 176 بچے شامل ہیں۔

اس تھیوری میں بتایا گیا کہ ڈرونز حملوں کے بارے میں امریکا کے سارے بیانات مضحکہ خیزاورجھوٹ پر مبنی ہیں۔ ڈرونزحملوں میں امریکا نے اپنے قوانین کی بھی شدید خلاف ورزی کی ہے۔ درجنوں حملے صرف شک کی بنیاد پر کیے گئے جس سے عام شہریوں کی جانیں بھی ضائع ہوئی ہیں۔پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی نے کہا کہ نائن الیون کے بعد سب سے پہلی بمباری تورا بورا میں کی گئی تھی اور پھر اس کے بعد سے ان لوگوں نے مزاحمت کی راہ اختیار کرلی ۔ یہاں کے لوگوں کے حلیے اور چال ڈھال ایک جیسے ہی ہیں، شمالی وزیرستان میں فورسز موجود ہیں لیکن آپریشن کا فیصلہ اسلام آباد میں ہی ہوگا، یعنی دوسرے لفظوں میں ٹریگرسیاسی جماعتوں کے ہاتھ میں ہے۔
Load Next Story