خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدامات

دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے تاکہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو پرامن اور خوشحال پاکستان دے سکیں۔

متاثرین وزیرستان کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے پانچ سو پولیس اہلکار بھرتی کرنے کی منظوری دیدی ہے جس پر عملدرآمد جاری ہے۔ فوٹو:فائل

خیبرپختونخوا اسمبلی نے آرمی پبلک اسکول کے واقعے کے حوالے سے متفقہ طور پر قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آرمی پبلک اسکول واقعے کے حوالے سے ملک میں پیدا ہونے والے قومی اتفاق رائے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے تاکہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو پرامن اور خوشحال پاکستان دے سکیں۔

یہ قرارداد بلاشبہ تقاضائے وقت ہے اور اسی کی روشنی میں خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کی مساجد اور مدارس میں فرائض انجام دینے والے 226افغان آئمہ اور اساتذہ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے، اس ضمن میں صوبائی محکمہ داخلہ کے حکام کے مطابق افغان آئمہ اور اساتذہ کو ہٹانے کے لیے آئی جی پولیس اور کمشنرز کو ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں تاکہ افغان آئمہ اور اساتذہ کی جگہ پر مقامی افراد کو تعینات کیا جائے، یہ حقیقت ہے کہ تبلیغ و خطاب کے شعبے میں بھی خیر سگالی، اسلام کی امن ، رواداری، اخوت اور انسانیت پر مبنی تعلیمات کو اجاگر کیا جائے نہ کہ خطے کو جنگجوئی کی آگ میں جھونکنے کے لیے انتہا پسندی کا سہارا لیا جائے ۔


چنانچہ پولیس کا غیر قانونی افراد اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہے جس میں 45 مشکوک، دو اشتہاری گرفتار بھی ہوئے ہیں، ادھر پاک افغان سرحد پر غیر قانونی راستوں کو بند کرنے کے لیے ایک سال قبل شروع کی گئی آٹھ فٹ گہری اور دس فٹ چوڑی خندق کی کھدائی مکمل کرلی گئی ، ایف سی کی زیر نگرانی 470 کلو میٹر اس طویل خندق کی کھدائی کا کا م بھاری مشینری کے ذریعے مکمل کیا گیا ، کھدائی سے حاصل ہونے والی مٹی کے بند بنانے سے اب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی حدود واضح ہوگئی ہیں۔جمعہ کو یہاں ایف سی بلوچستان کے ترجمان نے بتایا کہ پاک افغان سرحد پر خندق ان علاقوں میں کھودی گئی ہے جہاں سے سرحد کے دونوں طرف دراندازی ہوتی ہے۔

اب یقین کیا جاسکتا ہے یہ سلسلہ بھی بند ہوگا ،جب کہ پشاور میں نماز جمعہ کے موقع پر دہشت گرد ی کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے پشاور کے نواحی علاقے واحد گڑھی میں خود کش جیکٹ کو ناکارہ بنا دیا گیا جب کہ سرچ آپریشن کے دوران مبینہ مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جس سے دہشت گردی کے خلاف کارروائی مین تسلسل کا مثبت احساس ملتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ وزارت سیفران نے شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کو چھٹی امدادی قسط اور سردیوں سے بچاؤ کی اشیاء فراہم کرنے کے لیے وزارت خزانہ سے فوری طور پر ایک ارب ستر کروڑ روپے کی گرانٹ بھی طلب کی ہے ، متاثرین شمالی وزیرستان کی رجسٹرڈ تعداد25 لاکھ ہوگئی ہے ۔

متاثرین وزیرستان کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے پانچ سو پولیس اہلکار بھرتی کرنے کی منظوری دیدی ہے جس پر عملدرآمد جاری ہے ۔ وفاقی حکومت نے اب تک متاثرین کو امداد کی پانچ اقساط تقسیم کی ہیں ۔ تاہم متاثرین کی بحالی کے لیے عالمی ڈونر ایجنسیوں کو متوجہ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اس ضمن میں جلد سفارتکاروں کو بنوں کے متاثرین کمپوں کا دورہ کرائے جانے کی جو تجویز ہے اس پر فوری عمل کیا جائے ۔امید کی جانی چاہیے کہ مربوط اقدامات اورٹھوس کارروائی کے ذریعے دہشت گردوں کو کہیں پناہ نہیں مل سکے گی ۔
Load Next Story