25 ہزار کانسٹیبل کی بھرتیاں میرٹ ناگزیر
حکومت سندھ نے آئندہ مالی سال میں محکمہ پولیس کے لیے 25 ہزار کانسٹیبل کی بھرتی کی منظوری دے دی ہے۔
یہ حقیقت تکلیف دہ ہے کہ صرف 2014 میں 17 ڈاکٹرز قتل کردیے گئے، عدم تحفظ پر گزشتہ برس 3ہزار ڈاکٹر بیرون ملک منتقل ہوگئے۔ فوٹو : فائل
اخباری اطلاعات کے مطابق سینٹرل پولیس آفس کراچی میں ہونے والے اجلاس میں آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے آئندہ مالی سال میں محکمہ پولیس کے لیے 25 ہزار کانسٹیبل کی بھرتی کی منظوری دے دی ہے جو کہ دو مختلف مراحل میں مکمل کی جائے گی۔ یہ فیصلہ نہ صرف ادارے کو مستحکم کرے گا بلکہ 25 ہزار اسامیوں پر بے روزگار نوجوانوں کو روزگار بھی فراہم ہوسکے گا ۔ لیکن گزشتہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے اس بات پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا ازحد ضروری ہے کہ یہ بھرتیاں مکمل طور پر میرٹ کے مطابق ہوں اور کسی طور پر سیاسی اجارہ داری کو ان بھرتیوں پر اثر انداز نہ ہونے دیا جائے۔
سینٹرل پولیس آفس کے اعلامیے کے مطابق آئی جی سندھ نے مزید کہا ہے کہ حکومت پولیسنگ کو موثر بنانے کے لیے تھانوں کی افرادی قوت میں اضافہ چاہتی ہے، یہ منظوری اسی امر کا تسلسل ہے، پولیس رولز میں اصلاحات متعارف کرائی جارہی ہیں، حکومت کو ارسال کیا جانے والا مسودہ تیاری کے قریب ہے ۔ دوسری جانب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ شہر میں ڈاکٹروں کو بھتے کے لیے فون اور ای میلز کے ذریعے خوفزدہ کیا جارہا ہے، 6 ماہ میں بھتے کی پرچیاں دینے کا سلسلہ بڑھ گیا ہے جس کے باعث 27 ڈاکٹروں نے اسپتال جانا چھوڑ دیا اور اپنے کلینک بند کردیے ہیں ۔ یہ حقیقت تکلیف دہ ہے کہ صرف 2014 میں 17 ڈاکٹرز قتل کردیے گئے، عدم تحفظ پر گزشتہ برس 3ہزار ڈاکٹر بیرون ملک منتقل ہوگئے ۔
سیکریٹری جنرل پی ایم اے نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس ڈاکٹروں سے رقم بٹور کر تھانوں کے چکر لگواتی ہے، ماہانہ 15 ہزار بھتہ طلب کیا جارہا ہے ۔ مسیحاؤں کے ساتھ یہ رویہ قابل مذمت ہے ۔ 25 ہزار کانسٹیبل بھرتی کرنے کے ساتھ پولیس کے ادارے سے کالی بھیڑوں کے خاتمہ اور رشوت و سفارش کا کلچر ختم کرنے کی بھی ازحد ضرورت ہے ۔
سینٹرل پولیس آفس کے اعلامیے کے مطابق آئی جی سندھ نے مزید کہا ہے کہ حکومت پولیسنگ کو موثر بنانے کے لیے تھانوں کی افرادی قوت میں اضافہ چاہتی ہے، یہ منظوری اسی امر کا تسلسل ہے، پولیس رولز میں اصلاحات متعارف کرائی جارہی ہیں، حکومت کو ارسال کیا جانے والا مسودہ تیاری کے قریب ہے ۔ دوسری جانب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ شہر میں ڈاکٹروں کو بھتے کے لیے فون اور ای میلز کے ذریعے خوفزدہ کیا جارہا ہے، 6 ماہ میں بھتے کی پرچیاں دینے کا سلسلہ بڑھ گیا ہے جس کے باعث 27 ڈاکٹروں نے اسپتال جانا چھوڑ دیا اور اپنے کلینک بند کردیے ہیں ۔ یہ حقیقت تکلیف دہ ہے کہ صرف 2014 میں 17 ڈاکٹرز قتل کردیے گئے، عدم تحفظ پر گزشتہ برس 3ہزار ڈاکٹر بیرون ملک منتقل ہوگئے ۔
سیکریٹری جنرل پی ایم اے نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس ڈاکٹروں سے رقم بٹور کر تھانوں کے چکر لگواتی ہے، ماہانہ 15 ہزار بھتہ طلب کیا جارہا ہے ۔ مسیحاؤں کے ساتھ یہ رویہ قابل مذمت ہے ۔ 25 ہزار کانسٹیبل بھرتی کرنے کے ساتھ پولیس کے ادارے سے کالی بھیڑوں کے خاتمہ اور رشوت و سفارش کا کلچر ختم کرنے کی بھی ازحد ضرورت ہے ۔