ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے میں تاجکستان کی شمولیت پر مذاکرات شروع

پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کے مابین سہ ملکی ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کے لیے باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔

معاہدے کے لیے مذاکرات کا اگلا دور تاجکستان کے دارلحکومت دوشنبے میں فروری میں منعقد ہو گا جس میں تینوں ممالک ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کا پہلا مسودہ پیش کریں گے۔ فوٹو فائل

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تاجکستان کو بھی ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ میں شامل کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔


جس کے لیے پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کے مابین سہ ملکی ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کے لیے باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکریٹری تجارت محمد ارباب شہزاد، افغان وفد کی قیادت قائم مقام وزیر تجارت و صنعت مزمل شنواری اور تاجکستان کے وفد کی سربراہی نائب وزیر تجارت سعید رحمن نے کی جبکہ مذاکرات میں تینوں ممالک کی طرف سے راہداری معاہدے کو خطے کی تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی خوشحالی کے لیے سنگ میل قرار دیا گیا ہے، اجلاس میں تینوں ممالک کی طرف سے معاہدے کی تفصیلات پیش کی گئیں جن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

اس موقع پر اتفاق کیا گیا کہ معاہدے کے لیے مذاکرات کا اگلا دور تاجکستان کے دارلحکومت دوشنبے میں فروری میں منعقد ہو گا جس میں تینوں ممالک ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کا پہلا مسودہ پیش کریں گے جس پر مزید گفت و شنید کے بعد مارچ میں مذاکرات کا تیسرا دور کابل میں منعقد ہو گا جس میں معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی، مذاکرات میں خطے میں تجارت اور سرمایہ کاری کی سہولت کے لیے ریل اور روڈ رابطے کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اس موقع پر تینوں وفود کے سربراہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ خطے کے عوام کی فتح ہے، مشترکہ تجارتی اور ٹرانسپورٹ کوریڈور کے قیام کی بدولت علاقے میں خوشحالی کا انقلاب آئے گا۔
Load Next Story