اکمل برادرز کی اُمیدوں کا محل مسمار ہونے لگا
ہیڈ کوچ وقار یونس کی نظروں میں کھٹکنے والے عمر بہتر کارکردگی کے باوجود میچز ٹی وی پر دیکھیں گے۔
اسد شفیق کی ناقص پرفارمنس نظر انداز، سلیکشن کیلیے فیورٹ،کامران کا دور ختم ہوتا دکھائی دینے لگا۔ فوٹو : فائل
لاہور:
اکمل برادرز کی امیدوں کا محل مسمار ہونے لگا، دونوں کو ورلڈکپ اسکواڈ سے دور رکھنے کی تیاری کر لی گئی۔
ہیڈ کوچ وقار یونس کی نظروں میں کھٹکنے والے عمر بہتر کارکردگی کے باوجود میچز ٹی وی پر دیکھیں گے، اسد شفیق ناقص ون ڈے پرفارمنس کے باوجود پسندیدہ قرار پائے،کامران کا دور بھی اب ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے، محمد رضوان کو ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کا صلہ ملنے کا امکان روشن ہوگیا، وہ بطور ریزرو وکٹ کیپر بیٹسمین ٹیم کے ہمراہ ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کا اجلاس پیر کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہوا۔
اس میں چیف سلیکٹر معین خان اور دیگر ارکان شعیب محمد، سلیم یوسف، اعجاز احمد، محمد اکرم اور وجاہت اللہ واسطی شریک ہوئے، کپتان مصباح الحق اور ہیڈ کوچ وقار یونس کی پرواز لیٹ ہونے کے سبب مختلف ناموں پر غور کا سلسلہ بھی تاخیر سے شروع ہوا، عمراکمل کی ٹیم میں شمولیت پر سوالیہ نشان پہلے ہی تھا، اچانک امیدواروں میں شامل ہونے والے کامران اکمل کے بارے میں بھی کوئی مثبت فیصلہ سامنے نہ آسکا، ذرائع کے مطابق ورلڈکپ کیلیے دونوں بھائیوں کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ہیڈ کوچ کی نظروں میں کھٹکنے والے عمر پر اسد شفیق کو ترجیح دی جائے گی، ان کی ون ڈے کرکٹ میں کارکردگی ہمیشہ سے موضوع بحث رہی ہے۔
نوجون بیٹسمین کو سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی اکثریت تو محدود اوورز کی مقابلوں کیلیے ناموزوں قرار دے چکی، یواے ای میں بھی شائقین کو ان کی عمدہ تکنیک اور ٹیلنٹ کے عملی مظاہرے کا انتظار ہی رہا، عمراکمل نے ابھی تک 102ون ڈے میچز میں 35.94 کی اوسط سے 2732 رنز بنائے ہیں، ان میں2 سنچریاں اور19ففٹیز شامل ہیں،کیویز کیخلاف انھوں نے3میچز میں35 رنز بنائے تھے، اسد شفیق نے کیریئر میں 53 میچ کھیل کر 24.97کی اوسط سے 1224رنز اسکور کیے،اس میں کوئی سنچری موجود نہیں البتہ9ففٹیز شامل ہیں، نیوزی لینڈ کیخلاف وہ 4اننگز میں صرف 36رنز اسکور کرسکے۔
کامران اکمل کی صورت میں تجربہ کار بیٹسمین، تھرڈ اوپنر اور ریزرو وکٹ کیپر کا خلا پُرکرنے کی باتیں کی جارہی تھیں لیکن ان کو بھی زنگ آلود خیال کرتے ہوئے نئے ٹیلنٹ کی طور پر محمد رضوان کو اسکواڈ میں شامل کیا جارہا ہے،انھوں نے ڈومیسٹک سیزن میں عمدہ پرفارمنس کا سلسلہ پینٹنگولر کپ میں بھی جاری رکھتے ہوئے اپنی سلیکشن کے امکانات بڑھائے، وکٹ کیپر کی اضافی خوبی نے بھی رضوان کا کیس مضبوط کیا۔
اس وقت بگ بیش لیگ کھیلنے کیلیے آسٹریلیا میں موجود شعیب ملک کا تجربہ بھی سلیکٹرز نے بے کار سمجھا، عمرگل کو انجریز سے نجات کے بعد کیویز کیخلاف سیریز میں موقع دیا گیا تھا لیکن ایک بار پھر مسائل کا شکار ہوگئے، بحالی فٹنس کے بعد کراچی میں جاری ایونٹ میں انھوں نے بولنگ تو کی لیکن سلیکٹرز ورلڈ کپ میں ان کی شمولیت کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں، انجری کے سبب آسٹریلیا کے بعد نیوزی کیخلاف سیریز سے بھی باہر ہونے والے جنید خان کی فٹنس کو انٹرنیشنل کرکٹ سے ہم آہنگ خیال کرتے ہوئے انھیں حتمی اسکواڈ میں شامل کیا جارہا ہے۔
صرف سپر فٹ کھلاڑیوں کو ترجیح دینے کی پالیسی کے پیش نظر بلاول بھٹی اور انور علی بھی مضبوط امیدواروں میں شامل ہیں،رضا حسن اور ذوالفقار بابر میں سے کسی ایک کو شامل کرنے کا معاملہ ابھی بحث طلب ہے۔کپتان مصباح الحق کو احمد شہزاد، محمد حفیظ، یونس خان، حارث سہیل،شاہد آفریدی، سرفراز احمد، محمد عرفان، وہاب ریاض اور یاسر شاہ کی خدمات بھی حاصل ہو سکتی ہیں۔
اکمل برادرز کی امیدوں کا محل مسمار ہونے لگا، دونوں کو ورلڈکپ اسکواڈ سے دور رکھنے کی تیاری کر لی گئی۔
ہیڈ کوچ وقار یونس کی نظروں میں کھٹکنے والے عمر بہتر کارکردگی کے باوجود میچز ٹی وی پر دیکھیں گے، اسد شفیق ناقص ون ڈے پرفارمنس کے باوجود پسندیدہ قرار پائے،کامران کا دور بھی اب ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے، محمد رضوان کو ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کا صلہ ملنے کا امکان روشن ہوگیا، وہ بطور ریزرو وکٹ کیپر بیٹسمین ٹیم کے ہمراہ ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کا اجلاس پیر کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہوا۔
اس میں چیف سلیکٹر معین خان اور دیگر ارکان شعیب محمد، سلیم یوسف، اعجاز احمد، محمد اکرم اور وجاہت اللہ واسطی شریک ہوئے، کپتان مصباح الحق اور ہیڈ کوچ وقار یونس کی پرواز لیٹ ہونے کے سبب مختلف ناموں پر غور کا سلسلہ بھی تاخیر سے شروع ہوا، عمراکمل کی ٹیم میں شمولیت پر سوالیہ نشان پہلے ہی تھا، اچانک امیدواروں میں شامل ہونے والے کامران اکمل کے بارے میں بھی کوئی مثبت فیصلہ سامنے نہ آسکا، ذرائع کے مطابق ورلڈکپ کیلیے دونوں بھائیوں کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ہیڈ کوچ کی نظروں میں کھٹکنے والے عمر پر اسد شفیق کو ترجیح دی جائے گی، ان کی ون ڈے کرکٹ میں کارکردگی ہمیشہ سے موضوع بحث رہی ہے۔
نوجون بیٹسمین کو سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی اکثریت تو محدود اوورز کی مقابلوں کیلیے ناموزوں قرار دے چکی، یواے ای میں بھی شائقین کو ان کی عمدہ تکنیک اور ٹیلنٹ کے عملی مظاہرے کا انتظار ہی رہا، عمراکمل نے ابھی تک 102ون ڈے میچز میں 35.94 کی اوسط سے 2732 رنز بنائے ہیں، ان میں2 سنچریاں اور19ففٹیز شامل ہیں،کیویز کیخلاف انھوں نے3میچز میں35 رنز بنائے تھے، اسد شفیق نے کیریئر میں 53 میچ کھیل کر 24.97کی اوسط سے 1224رنز اسکور کیے،اس میں کوئی سنچری موجود نہیں البتہ9ففٹیز شامل ہیں، نیوزی لینڈ کیخلاف وہ 4اننگز میں صرف 36رنز اسکور کرسکے۔
کامران اکمل کی صورت میں تجربہ کار بیٹسمین، تھرڈ اوپنر اور ریزرو وکٹ کیپر کا خلا پُرکرنے کی باتیں کی جارہی تھیں لیکن ان کو بھی زنگ آلود خیال کرتے ہوئے نئے ٹیلنٹ کی طور پر محمد رضوان کو اسکواڈ میں شامل کیا جارہا ہے،انھوں نے ڈومیسٹک سیزن میں عمدہ پرفارمنس کا سلسلہ پینٹنگولر کپ میں بھی جاری رکھتے ہوئے اپنی سلیکشن کے امکانات بڑھائے، وکٹ کیپر کی اضافی خوبی نے بھی رضوان کا کیس مضبوط کیا۔
اس وقت بگ بیش لیگ کھیلنے کیلیے آسٹریلیا میں موجود شعیب ملک کا تجربہ بھی سلیکٹرز نے بے کار سمجھا، عمرگل کو انجریز سے نجات کے بعد کیویز کیخلاف سیریز میں موقع دیا گیا تھا لیکن ایک بار پھر مسائل کا شکار ہوگئے، بحالی فٹنس کے بعد کراچی میں جاری ایونٹ میں انھوں نے بولنگ تو کی لیکن سلیکٹرز ورلڈ کپ میں ان کی شمولیت کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں، انجری کے سبب آسٹریلیا کے بعد نیوزی کیخلاف سیریز سے بھی باہر ہونے والے جنید خان کی فٹنس کو انٹرنیشنل کرکٹ سے ہم آہنگ خیال کرتے ہوئے انھیں حتمی اسکواڈ میں شامل کیا جارہا ہے۔
صرف سپر فٹ کھلاڑیوں کو ترجیح دینے کی پالیسی کے پیش نظر بلاول بھٹی اور انور علی بھی مضبوط امیدواروں میں شامل ہیں،رضا حسن اور ذوالفقار بابر میں سے کسی ایک کو شامل کرنے کا معاملہ ابھی بحث طلب ہے۔کپتان مصباح الحق کو احمد شہزاد، محمد حفیظ، یونس خان، حارث سہیل،شاہد آفریدی، سرفراز احمد، محمد عرفان، وہاب ریاض اور یاسر شاہ کی خدمات بھی حاصل ہو سکتی ہیں۔