ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے

اگر تم کوئی نئی بات نہیں کہہ سکتے تو چپ ہی رہو تو بہتر ہے.

barq@email.com

WASHINGTON:
ہمارے ایک مہربان قدر دان قریب دل و جان بلکہ ہم زبان کی طرف سے ہمیں مشورہ یا ہدایت ملی ہے کہ ہم ذرا کرنٹ افیئر پر بھی توجہ دے لیا کریں جن کی طرف سے یہ فرمائش ہدایت یا مشورہ جو کچھ بھی دیا گیا ہے ان کا اشارہ ابرو بھی ہمارے لیے حکم کا درجہ رکھتا ہے اس لیے

لیجیے سنیے اب افسانہ فرقت مجھ سے
آپ نے یاد دلایا تومجھے یاد آیا

یاد تو ہمیں پہلے بھی تھا اور ثواب ''طاعت و زہد'' بھی جانتے تھے لیکن طبیعت ادھر نہیں آ رہی تھی لیکن اب تو اس طبیعت کی ایسی کی تیسی، ادھر لانی ہی پڑے گی اس نے سمجھ کیا رکھا ہے کہ یہ عمر بھر یوں شتر بے مہار بنی پھرتی رہے گی اور ہم اس کی رسی تھامے اس کے پیچھے پیچھے گھسیٹتے رہیں گے، یہ فیصلہ کر کے کہ ہم اب کرنٹ افیئر پر بولیں گے اور ایسا کفن پھاڑ کر بولیں گے کہ سارے ''قبرستان'' کے مردے جاگ پڑیں گے لیکن آپ تو جانتے ہیں کہ ارادے باندھنا جتنا آسان ہے۔

ان پر عمل کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے اب جو ہم نے اردگرد کسی ''کرنٹ افیئر'' کی تلاش میں نگاہ دوڑائی تو دھک سے رہ گئے، ''کرنٹ افیئر'' ہے کہاں ... یہاں تو جو کچھ بھی ہے وہی ہے جو ہوتا تھا جو ہو رہا ہے اور جو ہوتا رہے گا یعنی وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے، ہاں کبھی کبھی کوئی نئی ہلچل سی نظر آتی ہے ہم دوڑ پڑتے ہیں کہ شاید کچھ نیا دیکھنے سننے کو ملے لیکن دیکھتے ہیں پھر وہی ''پرانے صنم'' دکھائی پڑتے ہیں وہی پجاری وہی بت گر اور وہی کاروبار ۔۔۔ ہاں کچھ ریڑھ ٹھیلے اور دکاندار بازی گر وغیرہ بدل جاتے ہیں، ہندسوں میں بھی کچھ کمی بیشی ہو جاتی ہے لیکن میلہ تو وہی ہوتا ہے وہی جو صرف ''چادر'' چرانے کے لیے لگایا جاتا ہے۔

خیر اب تو کچھ نہ کچھ نیا کرنا ہی پڑے گا بقول ہمارے ایک مہربان استاد کے کہ اگر تم کوئی نئی بات نہیں کہہ سکتے تو چپ ہی رہو تو بہتر ہے اور اگر کچھ کہنا ہی ہے تو نئی بات نہ سہی پرانی بات کو تو نئے ڈھنگ سے کہہ دو، اگر بات نہیں تو کم از کم ڈھنگ تو بدل سکتے ہو، کم از کم وہ تو نہ کرو کہ کسی شور کرتے ہوئے مجمعے میں تم بھی ''چپ کرو چپ کرو'' کا نعرہ لگا کر شور میں مزید اضافہ کرو، آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ اکثر جلسوں یا دوسری تقریبات میں سب سے زیادہ شور ''چپ کرو چپ ہو جاؤ'' کہنے والے کرتے ہیں، پشاور کے چوک یادگار میں ایک جلسہ تھا جس میں مرحوم مولانا مودودی بھی موجود تھے مولانا صاحب تقریر کرنے کو اٹھے تو مجمع میں سے کچھ شور کی سی کیفیت پیدا ہوئی اور ویسے ہی ''چپ کرو چپ ہو جاؤ'' والوں نے اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ایک اچھا خاصا ہنگامہ بنا دیا۔

مائیک سے بھی خاموش، سنئے چپ ہو جایئے کی برابر تلقین ہوتی رہی لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، اتنے میں اکرام اللہ گران اٹھا لوگوں کو ادھر ادھر ہٹا کر مائیک تک پہنچا اور زور سے نعرہ بلند کیا اسلام ۔۔۔۔ جواب میں آوازیں آئیں زندہ باد ۔۔۔ بس پھر کیا تھا گران اسلام کہتا اور چاروں طرف سے زندہ باد کی آوازیں بلند ہوتیں جب اسلام زندہ باد کی سماں بندھ گئی تو شور خودبخود اس نعرے میں غائب ہو گیا، مجمعے کو اسلام زندہ باد سے اچھی طرح شانت کرنے کے بعد گران ہٹا اور مولانا کو تقریر کرنے کے لیے آگے کیا اور مولانا ابوالاعلی مودودی تو ظاہر ہے تقریر و تحریر دونوں کے دھنی تھے بڑے آرام سے ان کی تقریر سنی گئی، لیکن لطیفہ یا حقیقہ اسی جگہ ختم نہیں ہوتا، جلسے کے اختتام پر رات کو مولانا کی اخبار نویسوں سے بات چیت تھی لوگ سوال کرتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے۔

ایسے میں اکرام اللہ گران نے بھی مولانا سے کوئی سوال پوچھا ۔۔۔ مولانا نے اس کی طرف دیکھا ہونٹوں پر بڑی دلاویز مسکراہٹ آئی اور اکرام اللہ گران کے سوال کا جواب صرف یہ دیا ۔۔۔ اسلام زندہ باد ۔۔۔۔ چنانچہ ہم بھی وہی طریقہ اختیار کر کے کرنٹ افیئر پر بولیں گے یعنی بے تحاشا شور میں جہاں ہر کوئی چپ کرو خاموش رہو چلائے جا رہا ہے، نیا نعرہ بلند کرتے ہیں اور وہ نعرہ یہی ہو سکتا ہے کہ آرمی پبلک اسکول میں کچھ پھول تو پتی پتی ہو کر بکھر گئے اور خون میں لت پت ہو کر جان سے گئے، بہت سارے گھرانوں میں بھی کربلا کی شامیں اتر آئیں لیکن بقول فیض احمد فیضؔ


جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے

کون نہیں جانتا کہ ان معصوم بچوں کا پاک و صاف لہو کن کن کی عاقبت سنوار گیا ورنہ وہ تو اپنی بداعمالیوں، بدقماشیوں اور بدراہیوں سے اپنی ''عاقبت'' کو بری طرح بگاڑ چکے تھے نہ صرف خود اپنی عاقبیتیں بلکہ پوری قوم کی عاقبت بھی بگاڑ کی انتہاء کو پہنچ گئی تھی کسی نام کا کوئی امتیاز نہیں، چاہے وہ نواز شریف ہو یا عمران خان، مولانا قادری ہو یا شیخ رشید، چوہدری برادران ہوں یا قریشی مخدوم، پرویز رشید ہو یا جہانگیر ترین، سعد رفیق ہو یا اسحاق ڈار، بلاول ہو یا زرداری، الطاف حسین ہو یا شیرین مزاری ۔۔۔ سب کے سب اپنے اپنے حصے کا تیل اس آگ میں انڈیل رہے تھے، پورے ملک کے سادہ دل بندے حیران تھے کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔

ہم شرط لگا کر کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی دن کوئی بھی انرت ہو سکتا تھا بلکہ کسی بھی دن کوئی انرت کیا ۔۔۔ روزانہ ہی ہو رہا ہے، ایسا لگنے لگا تھا جیسے پورے ملک کے سارے لوگوں کو پاگل پن کا دورہ پڑا ہوا ہو، ادھر پوری قوم جل رہی تھی بھن رہی تھی اور ادھر ہر کوئی اپنی اپنی ہانڈی چڑھائے ہوئے تھا کہ کچھ تو پک پکا کر کھا لیں، ملک برباد ہوتا ہے تو ہو جائے قوم ڈوبتی ہے تو ڈوب جائے انسانیت ایک مرتبہ حیوانیت میں بدلتی ہے تو بدلنے دو، تھوڑا سا یاد کر لیجیے، کچھ ہی دن تو ہوئے ہیں کہ پورے ملک کو جیسے مرگی کا دورہ پڑا ہوا تھا ہر سمت تباہیوں اور بربادیوں کی بلائیں منہ پھاڑے کھڑی تھیں نزدیک تھا کہ سب کچھ تلپٹ ہو جائے کہ اتنے میں کچھ معصوموں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر، اپنے لہو سے حالات کو شانت کر دیا، گویا

جُز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا

تاریخ انسانی کا ایک بالکل ہی نیا باب رقم ہوا، بڑوں کی بداعمالیوں کا کفارہ اپنی جانیں دے کر ادا کر دیا، اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ خدا ابھی اس دنیا سے مایوس نہیں ہوا ہے، شاید یہ اسی خدا کو منظور تھا کہ بڑوں سے تو نہیں ہو سکا، اس لیے چھوٹے ہی ''اپنے مستقبل'' کے لیے کچھ کریں، کیونکہ مستقبل ان کا ہے ان بڑوں کا نہیں بڑے تو جتنا کر سکتے تھے ان کے مستقبل کے ساتھ کر چکے تھے، تباہی کے جس کنارے پر پہنچانا تھا پہنچا چکے تھے اور اب صرف اور صرف ایک علاج ممکن تھا، ''قربانی'' اب یہ ایک بڑا ہی پیچیدہ مسئلہ ہے کوئی نہیں جانتا کہ قربانی کی اصل ماہیت کیفیت اور نوعیت کیا ہے کس کی قربانی کس کے لیے اور کہاں یا کیسے اور ویسے بھی

اکنوں کرا دماغ کہ پُرسد زباغباں
بلبل چہ گفت و گل چہ شنید و صبا چہ کرد

یعنی اب کس کا اتنا جگرا ہے جو باغبان سے یہ پوچھے کہ بلبل نے کیا کہا تھا؟ پھول نے کیا سنا تھا اور ''صبا'' نے کیا کیا تھا، لیکن اتنا تو سب جانتے ہیں کہ قربانی کسی عیب دار سینگ ٹوٹے، کان کٹے دم کٹے یا بے کار اور ازکار رفتہ چیزوں کی نہیں دی جاتی نچھاور صرف پھول کیے جاتے ہیں کاٹنے یا پتے نہیں، بہرحال جو کچھ بھی ہوا اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، خود یہ ''بڑے'' بھی انکار نہیں کر سکتے ہیں کہ اگر آرمی پبلک اسکول کے معصوموں کا خون نہ بہتا تو مکروہ چہرے کبھی کسی کو دکھانے کے قابل نہ رہتے، خاص طور پر ایک دوسرے کو دکھانے کے تو بالکل بھی نہیں ان کی وہ ''عاقبت'' کبھی نہ سنورتی جو یہ خود تباہی اور بگاڑ کی انتہاء پر پہنچا چکے تھے، ایک بہت بڑی قربانی سے ان کو ایک بہت بڑا موقع ملا ہے کیا اب بھی وہ ان بچوں کے مستقبل کے ساتھ اسی طرح کھیلتے رہیں گے جسے سنوارنے کے لیے بچے اپنے حصے کا کام تو کر گئے اور اب تمہاری باری ہے۔
Load Next Story