مٹھی میں آر او پلانٹ کا خوش کن افتتاح
ر آر او پلانٹ کے افتتاح کے بعد مٹھی کے عوام کو یومیہ 8 ملین لیٹر پینے کا صاف پانی میسر آسکے گا۔
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر پاکستان کی ان باتوں سے محسوس ہورہا ہے کہ بالآخر سندھ حکومت عوام کی دادرسی کے راستے پر چل پڑی ہے، فوٹو : این این آئی
تھر کے صحرا میں موت کے وحشیانہ رقص اور بھوک سے بلکتے بچوں کی کراہوں کے بعد بالآخر ایک خوش کن نوید مٹھی میں ایشیا کے سب سے بڑے آر او پلانٹ کے افتتاح کی صورت سامنے آئی ہے۔ صحرائے تھر کے باسیوں کے لیے پینے کے صاف پانی کی قلت ہمیشہ ایک مسئلہ رہی ہے اور آر او پلانٹ کے افتتاح کے بعد مٹھی کے عوام کو یومیہ 8 ملین لیٹر پینے کا صاف پانی میسر آسکے گا۔
سندھ حکومت کی جانب سے سولر انرجی سسٹم پر چلنے والے ایشیا کے سب سے بڑے آر او پلانٹ کا افتتاح کرنے کے بعد تقریب اور تھرپارکر میں قحط کی صورتحال پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ تھرپارکر کے مختلف دیہات میں اس سال جون تک 750 آر او پلانٹ لگانے کا کام مکمل کرلیا جائے تاکہ تھرپارکر کے عوام کو پانی جیسی بنیادی سہولت میسر ہوسکے۔ دیر آید درست آید، ماضی کی غلطیوں کو رونے اور گزرے سانپ کی لکیر پیٹنے کے بجائے سندھ حکومت کا یہ اقدام یقیناً سراہے جانے کے لائق ہے، بلاشبہ اگر یہ اقدام پہلے اٹھالیا جاتا تو تھر کی موجودہ بحرانی کیفیت سے بچا جاسکتا تھا، شاید اس بات کا احساس آصف علی زرداری کو بھی ہے انھوں نے کہا ہے کہ ہم نے پانی دیا ہے تو کوئی بڑا کام نہیں کیا۔
انھوں نے خوش کن اعلانات کرتے ہوئے بتایا کہ اس بجلی سے مٹھی کے علاوہ 100 دیہات بھی مستفید ہوں گے، سندھ بھر میں پلانٹ، پمپ اور واٹر سپلائی اسکیموں کو سولر انرجی پر منتقل کیا جائے گا، موجودہ دور حکومت میں پورے تھرپارکر میں آر او پلانٹ لگائیں گے، بڑا آر او پلانٹ تھرپارکر کے لوگوں کو صاف پانی فراہم کرے گا۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر پاکستان کی ان باتوں سے محسوس ہورہا ہے کہ بالآخر سندھ حکومت عوام کی دادرسی کے راستے پر چل پڑی ہے اور عنقریب ان اقدامات کے مثبت اثرات ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گے۔ تھر کے عوام آر او پلانٹ کے تحفے کے بعد سندھ حکومت کے مشکور ہیں۔تھر بدنصیبی کا استعارہ بن چکا ہے۔
سندھ حکومت کی جانب سے سولر انرجی سسٹم پر چلنے والے ایشیا کے سب سے بڑے آر او پلانٹ کا افتتاح کرنے کے بعد تقریب اور تھرپارکر میں قحط کی صورتحال پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ تھرپارکر کے مختلف دیہات میں اس سال جون تک 750 آر او پلانٹ لگانے کا کام مکمل کرلیا جائے تاکہ تھرپارکر کے عوام کو پانی جیسی بنیادی سہولت میسر ہوسکے۔ دیر آید درست آید، ماضی کی غلطیوں کو رونے اور گزرے سانپ کی لکیر پیٹنے کے بجائے سندھ حکومت کا یہ اقدام یقیناً سراہے جانے کے لائق ہے، بلاشبہ اگر یہ اقدام پہلے اٹھالیا جاتا تو تھر کی موجودہ بحرانی کیفیت سے بچا جاسکتا تھا، شاید اس بات کا احساس آصف علی زرداری کو بھی ہے انھوں نے کہا ہے کہ ہم نے پانی دیا ہے تو کوئی بڑا کام نہیں کیا۔
انھوں نے خوش کن اعلانات کرتے ہوئے بتایا کہ اس بجلی سے مٹھی کے علاوہ 100 دیہات بھی مستفید ہوں گے، سندھ بھر میں پلانٹ، پمپ اور واٹر سپلائی اسکیموں کو سولر انرجی پر منتقل کیا جائے گا، موجودہ دور حکومت میں پورے تھرپارکر میں آر او پلانٹ لگائیں گے، بڑا آر او پلانٹ تھرپارکر کے لوگوں کو صاف پانی فراہم کرے گا۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر پاکستان کی ان باتوں سے محسوس ہورہا ہے کہ بالآخر سندھ حکومت عوام کی دادرسی کے راستے پر چل پڑی ہے اور عنقریب ان اقدامات کے مثبت اثرات ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گے۔ تھر کے عوام آر او پلانٹ کے تحفے کے بعد سندھ حکومت کے مشکور ہیں۔تھر بدنصیبی کا استعارہ بن چکا ہے۔