شرح سود میں کمی کے امکان پر سرمایہ کاری سے حصص مارکیٹ پہلی بار 33000 کی حد عبور کرگئی
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 281.52 پوائنٹس کے اضافے سے 33117.47 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
تیزی کے سبب 53 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں مزید64 ارب70 کروڑ74 لاکھ62 ہزار754 روپے کا اضافہ ہوگیا۔فوٹو: اے ایف پی/فائل
مارکیٹ ٹریژری بلزپر منافع کی شرح میں34 بیسس پوائنٹس کی کمی سے سرمایہ کاروں کو نئی مانیٹری پالیسی میں ڈسکاؤنٹ ریٹ یقینی طور پر کم ہونے کی توقع اور فنانسنگ حاصل کرنے والے برآمدی و پیداواری شعبوں کی لاگت میں کمی جیسے عوامل نے کراچی اسٹاک ایکس چینج کی سرگرمیوں پرجمعرات کو بھی مثبت اثرات مرتب کیا اور تیزی کی بڑی لہررونما ہونے سے ملکی تاریخ میں پہلی بار انڈیکس33000 پوائنٹس کی حد عبور کرگیا۔
تیزی کے سبب 53 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں مزید64 ارب70 کروڑ74 لاکھ62 ہزار754 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ نئی مانیٹری پالیسی میں ڈسکاؤنٹ ریٹ یقینی طور پرکم ہونے کی امید پرآئی پی پیز، ٹیکسٹائل، سیمنٹ، فرٹیلائزر کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی خریداری رحجان بڑھ گیا کیونکہ قرضوں پر شرح سود 9.5 فیصد کی سطح پر آنے کے بعد مارکیٹ ٹریژری بلز پر ریٹ آف ریٹرن میں ایک بار پھر نمایاں کمی ہوئی ہے جس سے قرضوں پر شرح سود میں بھی کمی کے امکانات واضح ہوگئے ہیں اور یہی عوامل سرمایہ کاروں کوحصص مارکیٹ میں بڑی نوعیت کی سرمایہ کاری کے لیے رغبت کا باعث بن رہے۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 281.52 پوائنٹس کے اضافے سے 33117.47 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 187.47 پوائنٹس کے اضافے سے 21478.93 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 393.47 پوائنٹس کے اضافے سے 52104.89 ہوگیا، کاروباری حجم بدھ کی نسبت3.28 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر27 کروڑ30 لاکھ 98 ہزار 350 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 377 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں200 کے بھاؤ میں اضافہ، 154 کے داموں میں کمی اور23 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
تیزی کے سبب 53 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں مزید64 ارب70 کروڑ74 لاکھ62 ہزار754 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ نئی مانیٹری پالیسی میں ڈسکاؤنٹ ریٹ یقینی طور پرکم ہونے کی امید پرآئی پی پیز، ٹیکسٹائل، سیمنٹ، فرٹیلائزر کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی خریداری رحجان بڑھ گیا کیونکہ قرضوں پر شرح سود 9.5 فیصد کی سطح پر آنے کے بعد مارکیٹ ٹریژری بلز پر ریٹ آف ریٹرن میں ایک بار پھر نمایاں کمی ہوئی ہے جس سے قرضوں پر شرح سود میں بھی کمی کے امکانات واضح ہوگئے ہیں اور یہی عوامل سرمایہ کاروں کوحصص مارکیٹ میں بڑی نوعیت کی سرمایہ کاری کے لیے رغبت کا باعث بن رہے۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 281.52 پوائنٹس کے اضافے سے 33117.47 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 187.47 پوائنٹس کے اضافے سے 21478.93 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 393.47 پوائنٹس کے اضافے سے 52104.89 ہوگیا، کاروباری حجم بدھ کی نسبت3.28 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر27 کروڑ30 لاکھ 98 ہزار 350 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 377 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں200 کے بھاؤ میں اضافہ، 154 کے داموں میں کمی اور23 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔