بھارتی جارحانہ رویے اور پاکستان
جب سےبھارت میں انتہا پسند مودی حکومت آئی ہےتب سےوہ پاکستان کےلیےمشکلات پیدا کرنےکا کوئی موقع ہاتھ سےجانے نہیں دے رہی۔
بھارت کی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کا تعلق دہشت گردی سے جوڑ کر عالمی سطح پر اس کے لیے مشکلات پیدا کی جائیں۔ فوٹو : فائل
دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو اپنی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اپنے اقدامات پر ہمیں بھارتی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، ہم سرحدوں پر کشیدگی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔جب سے بھارت میں انتہا پسند مودی حکومت آئی ہے تب سے وہ پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہی۔
پاکستان نے بھارتی حکومت کو کئی بار دوستانہ تعلقات قائم کرنے اور باہمی تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی پیشکش کی مگر اس کی طرف سے کبھی مثبت جواب نہیں آیا بلکہ اس نے ایک منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا ، اب بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے وہی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارت خوفزدہ نہیں ہو گا، ہمسایہ ملک دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ مودی سرکار شروع ہی سے پاکستان کے خلاف اس قسم کی بیان بازی کر رہی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے اور بھارت کو اس کی طرف سے دہشت گردانہ کارروائیوں کا خطرہ ہے۔
بھارتی حکومت بخوبی جانتی ہے کہ پاکستان اس وقت داخلی طور پر دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑ رہا ہے اور وہ بھارت کی جانب سے کسی جارحانہ رویہ کا اس انداز میں جواب دینے سے گریز کرے گا لہٰذا پاکستانی افواج کو شمالی علاقوں میں مصروف دیکھ کر بھارت نے مشرقی سرحد پر جارحانہ رویہ اپنا رکھا ہے۔ بھارتی افواج کی جانب سے آئے دن بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے گزشتہ دنوں فلیگ میٹنگ کے بہانے بھارتی افواج نے دو پاکستانی رینجرز اہلکاروں کو شہید کر دیا ۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت نے رینجرز کے دو جوانوں کی شہادت پر پاکستانی مشیر خارجہ کے خط کا جواب دیا ہے مگر بہتر ہو گا کہ اس واقعے سے متعلق حقائق کو مسترد کرنے کے بجائے اس کی شفاف تحقیقات کروائی جائے۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق بھارتی حکومت لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر ہونے والی اشتعال انگیزی کا ذمے دار پاکستان کو قرار دے کر اپنی جارحیت پر پردہ ڈالنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔ سرحد پر ہونے والی فائرنگ اور گولہ باری کے ثبوت پاکستان پوری دنیا کے سامنے پیش کر چکا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس نے جو قربانیاں دی ہیں اور جو دے رہا ہے اس کی پوری دنیا معترف ہے، امریکا کئی بار اس بات کا اعتراف کر چکا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بے پناہ قربانیاں دے رہا ہے۔
بھارت کی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کا تعلق دہشت گردی سے جوڑ کر عالمی سطح پر اس کے لیے مشکلات پیدا کی جائیں۔ بھارت کی ان مذموم کوششوں کا جواب دیتے ہوئے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بالکل درست کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اپنے اقدامات پر ہمیں بھارتی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ گزشتہ دنوں بھارتی حکومت نے پاکستان کے خلاف کشتی کا ایک نیا ڈرامہ رچایا مگر اس ڈرامے کا پول خود بھارتی اخبارات نے کھول دیا اور پوری دنیا کو پتہ چل گیا کہ پاکستان بھارت کے خلاف کسی قسم کی دہشت گردانہ کارروائیاں نہیں کر رہا۔ بھارتی حکومت کی اب تک کی پالیسیوں اور بیانات سے یوں عیاں ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہشمند ہی نہیں رکھتی اور اس کے خلاف اپنی مخالفت برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ مودی حکومت چونکہ انتہا پسند ہندوؤں کی نمائندہ ہے لہٰذا وہ ان کی حمایت برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے خلاف مخاصمانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔
پیرس میں میگزین کے دفتر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کے مذاہب اور عقائد کا احترام کرنا چاہیے۔ معاملات تب ہی بگڑتے ہیں جب کوئی بھی شخص یا گروہ متعصبانہ رویہ اپناتے ہوئے کسی دوسرے مذہب کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا ہے اگر رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس غلط سوچ سے اجتناب کیا جائے تو معاملات وہاں تک نہ پہنچیں جیسا اب پیرس میں ہوا ہے۔
پاکستان کو اس وقت داخلی اور خارجی سطح پر بہت سے خطرات درپیش ہیں، شمال مغربی سرحد پر وہ دہشت گردوں کے خلاف مصروف جنگ ہے تو مشرقی سرحد پر بھارت اس کے لیے مسائل پیدا کر رہا ہے جب کہ ایرانی سرحد پر بھی آئے دن ناخوشگوار واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ دہشت گردی عالمی ایشو بن چکا ہے لہٰذا اس سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک کو مشترکہ طور پر کوشش کرنا ہو گی۔ پاکستان داخلی سطح پر دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے اپنی سرحدوں کو پرسکون رکھنا چاہتا ہے اور اس کی ہر ممکن کوشش ہے کہ اس کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں۔ بھارت کے جارحانہ رویے کے باوجود پاکستان تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کر رہا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ موجودہ مشکل صورت حال میںوہ سرحدوں پر کسی قسم کی کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
پاکستان نے بھارتی حکومت کو کئی بار دوستانہ تعلقات قائم کرنے اور باہمی تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی پیشکش کی مگر اس کی طرف سے کبھی مثبت جواب نہیں آیا بلکہ اس نے ایک منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا ، اب بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے وہی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارت خوفزدہ نہیں ہو گا، ہمسایہ ملک دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ مودی سرکار شروع ہی سے پاکستان کے خلاف اس قسم کی بیان بازی کر رہی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے اور بھارت کو اس کی طرف سے دہشت گردانہ کارروائیوں کا خطرہ ہے۔
بھارتی حکومت بخوبی جانتی ہے کہ پاکستان اس وقت داخلی طور پر دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑ رہا ہے اور وہ بھارت کی جانب سے کسی جارحانہ رویہ کا اس انداز میں جواب دینے سے گریز کرے گا لہٰذا پاکستانی افواج کو شمالی علاقوں میں مصروف دیکھ کر بھارت نے مشرقی سرحد پر جارحانہ رویہ اپنا رکھا ہے۔ بھارتی افواج کی جانب سے آئے دن بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے گزشتہ دنوں فلیگ میٹنگ کے بہانے بھارتی افواج نے دو پاکستانی رینجرز اہلکاروں کو شہید کر دیا ۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت نے رینجرز کے دو جوانوں کی شہادت پر پاکستانی مشیر خارجہ کے خط کا جواب دیا ہے مگر بہتر ہو گا کہ اس واقعے سے متعلق حقائق کو مسترد کرنے کے بجائے اس کی شفاف تحقیقات کروائی جائے۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق بھارتی حکومت لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر ہونے والی اشتعال انگیزی کا ذمے دار پاکستان کو قرار دے کر اپنی جارحیت پر پردہ ڈالنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔ سرحد پر ہونے والی فائرنگ اور گولہ باری کے ثبوت پاکستان پوری دنیا کے سامنے پیش کر چکا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس نے جو قربانیاں دی ہیں اور جو دے رہا ہے اس کی پوری دنیا معترف ہے، امریکا کئی بار اس بات کا اعتراف کر چکا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بے پناہ قربانیاں دے رہا ہے۔
بھارت کی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کا تعلق دہشت گردی سے جوڑ کر عالمی سطح پر اس کے لیے مشکلات پیدا کی جائیں۔ بھارت کی ان مذموم کوششوں کا جواب دیتے ہوئے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بالکل درست کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اپنے اقدامات پر ہمیں بھارتی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ گزشتہ دنوں بھارتی حکومت نے پاکستان کے خلاف کشتی کا ایک نیا ڈرامہ رچایا مگر اس ڈرامے کا پول خود بھارتی اخبارات نے کھول دیا اور پوری دنیا کو پتہ چل گیا کہ پاکستان بھارت کے خلاف کسی قسم کی دہشت گردانہ کارروائیاں نہیں کر رہا۔ بھارتی حکومت کی اب تک کی پالیسیوں اور بیانات سے یوں عیاں ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہشمند ہی نہیں رکھتی اور اس کے خلاف اپنی مخالفت برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ مودی حکومت چونکہ انتہا پسند ہندوؤں کی نمائندہ ہے لہٰذا وہ ان کی حمایت برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے خلاف مخاصمانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔
پیرس میں میگزین کے دفتر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کے مذاہب اور عقائد کا احترام کرنا چاہیے۔ معاملات تب ہی بگڑتے ہیں جب کوئی بھی شخص یا گروہ متعصبانہ رویہ اپناتے ہوئے کسی دوسرے مذہب کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا ہے اگر رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس غلط سوچ سے اجتناب کیا جائے تو معاملات وہاں تک نہ پہنچیں جیسا اب پیرس میں ہوا ہے۔
پاکستان کو اس وقت داخلی اور خارجی سطح پر بہت سے خطرات درپیش ہیں، شمال مغربی سرحد پر وہ دہشت گردوں کے خلاف مصروف جنگ ہے تو مشرقی سرحد پر بھارت اس کے لیے مسائل پیدا کر رہا ہے جب کہ ایرانی سرحد پر بھی آئے دن ناخوشگوار واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ دہشت گردی عالمی ایشو بن چکا ہے لہٰذا اس سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک کو مشترکہ طور پر کوشش کرنا ہو گی۔ پاکستان داخلی سطح پر دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے اپنی سرحدوں کو پرسکون رکھنا چاہتا ہے اور اس کی ہر ممکن کوشش ہے کہ اس کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں۔ بھارت کے جارحانہ رویے کے باوجود پاکستان تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کر رہا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ موجودہ مشکل صورت حال میںوہ سرحدوں پر کسی قسم کی کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔