افغانستان میں کابینہ کی تشکیل

پاکستان کو افغانستان کی نئی حکومت کے ساتھ بہتر تعلقات بنانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین واپس چلے جاتے ہیں تو اس سے پاکستان کو بہت زیادہ فائدہ ہو گا۔ فوٹو : فائل

افغانستان میں قومی اتحاد کی حکومت نے کابینہ کی تشکیل کے لیے 20 وزیروں کو نامزد کر دیا ہے۔ افغان حکومت کی جانب سے مسلسل تاخیر کے بعد بالآخر مستقبل کی کابینہ کے ناموں پر غور کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی اور سی ای او (چیف ایگزیکٹو آفیسر) عبداللہ عبداللہ نے تقریبا 30 لوگوں سے ملاقات کی اور مستقبل کی کابینہ کے لیے ان افراد کا انٹرویو کیا جس کے بعد 20 وزراء کے ناموں کی فہرست جاری کر دی گئی۔


افغان کابینہ کی تشکیل سے ثابت ہوا ہے کہ وہاں معمول کے مطابق حکومتی کاروبار چلانے کا اہتمام کیا جا رہا اور مختلف محکموں کا انتظام و انصرام مناسب افراد کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ فہرست کے مطابق وزارت دفاع کے لیے دو افراد کو نامزد کیا گیا جن میں جنرل شیر محمد کریمی اور جنرل ہمایوں فوزی شامل ہیں۔ وزیر خارجہ کے لیے صلاح الدین ربانی۔ وزارت داخلہ کے لیے بھی دو افراد کو نامزد کیا گیا ہے ان میں ایک انجینئر عارف سروری اور دوسرے فضل احمد ہیں جب کہ فنانس کے لیے غلام جیلانی کو نامزد کیا گیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ افغان کابینہ جلد اپنے فرائض منصبی ادا کرنا شروع کر دے گی۔ اور افغان شہریوں کی زندگی معمول پر آجائے گی۔ تب نئی افغان حکومت اپنے جلاوطن شہریوں کو وطن واپس بلانے کی بھی سبیل کرے گی۔

افغانستان کی نئی حکومت کے لیے کابینہ کی تشکیل یقیناً ایک مشکل کام تھا ۔اس میں افغانستان کی تمام نسلی اور لسانی گروہوں کو مطمئن کرنا ضروری تھا۔اب کابینہ کے حوالے سے جو نئے نام سامنے آئے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں حکومتی امور باقاعدہ طور پر شروع ہو جائیں گے۔پاکستان کو افغانستان کی نئی حکومت کے ساتھ بہتر تعلقات بنانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ افغانستان میں استحکام ہو گا تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین واپس چلے جاتے ہیں تو اس سے پاکستان کو بہت زیادہ فائدہ ہو گا۔ اسی طرح دہشت گردی کے حوالے سے بھی دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے۔
Load Next Story