دہشت گردی کا فروغ اور حمایت

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 25 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن اور 40 لاکھ غیر قانونی افغان باشندے پاکستان میں کب سے آباد ہیں؟

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

پاکستان دہشتگردی اور خطرناک سماجی جرائم کی جس دلدل میں عشروں سے دھنسا ہوا ہے اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں ضرب عضب کے بعد فوجی عدالتوں کا قیام شامل ہے، بلاشبہ دہشتگردی کی روک تھام کے لیے یہ اقدامات موثر ثابت ہو رہے ہیں لیکن ہمارے ذمے دار حکمران غالباً یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں کہ دہشت گردی اور جرائم میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں؟ سرکاری اعداد و شمار اور اندازوں کے مطابق دہشتگردی اور سماجی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں میں زیادہ تعداد غیر ملکیوں کی ہے جن میں افغان سرفہرست ہیں، افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف امریکی مہم کے حوالے سے افغانستان میں مداخلت کے بعد افغان مہاجرین کا جو سیلاب امنڈ پڑا اس سے پاکستان اور ایران سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں افغان باشندوں کی تعداد 60 لاکھ ہے جن میں سے صرف 20 لاکھ افغانیوں کا ریکارڈ نادرا کے پاس موجود ہے جب کہ 40 لاکھ افغانوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق کراچی میں 7 لاکھ افغانی موجود ہیں۔

کسی بھی ملک میں جب حالات خراب ہو جاتے ہیں اور عوام کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے تو ترک وطن کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور تارکین وطن میں ایک بڑی تعداد جرائم پیشہ لوگوں کی بھی ہوتی ہے۔ افغان مہاجرین کے ساتھ جرائم پیشہ اور دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد بھی پاکستان آ گئی ہے اور ایک منظم منصوبے کے تحت دہشتگردوں کو بھی پاکستان بھیجا گیا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ پاکستان میں جن دہشتگردوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے ان میں بھی بڑی تعداد افغانوں کی ہے۔ یہ مہاجرین رشوت دے کر پاسپورٹ اور شناختی کارڈ سمیت تمام وہ سرکاری دستاویزات حاصل کر لیتے جس کے بعد قانونی اور غیر قانونی مہاجرین کی تفریق مشکل ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں بے شمار افغان بستیاں آباد ہو گئی ہیں۔ کراچی کے مضافاتی علاقوں میں کچی افغان بستیاں موجود ہیں۔

پنجاب اور خیبرپختونخوا میں لاکھوں افغان مہاجرین آباد ہیں صرف راولپنڈی میں پیر ودھائی، صادق آباد، رحمت آباد، چکلالہ، ڈھوک حسو مکمل طور پر افغان بستیاں بن چکی ہیں جب کہ باڑا بازار سبزی منڈی، ٹونک بازار، مغل سرائے اور گنج منڈی کے بڑے تجارتی مراکز کی کمرشل پراپرٹی بھی افغانوں کی ملکیت بن چکی ہے، ٹیکسلا میں بھی یہی صورت حال ہے۔ کراچی اور دوسرے بڑے شہروں میں افغان بستیوں کی بھرمار ہے یہاں بھی افغانی رہائشی اور تجارتی جائیدادیں بھاری قیمت دے کر بڑے پیمانے پر خرید چکے ہیں اور ابھی خریداریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

دہشتگرد اور دیگر جرائم پیشہ افراد ان بستیوں کو اپنے محفوظ مسکن بنا چکے ہیں اور نسلی مطابقت کی وجہ سے ان بستیوں کے پر امن مکینوں میں جرائم پیشہ اور دہشت گرد افراد کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔ 60 لاکھ افغانیوں میں 40 لاکھ کا نادرا کے پاس کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں۔ کمشنر کراچی نے انتظامی سربراہوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن جرائم کی بنیاد ملک و قوم کے لیے سیکیورٹی رسک بنے ہوئے ہیں۔ موصوف نے انتظامی افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام اضلاع میں غیر ملکی تارکین وطن کو تلاش کریں اور انھیں رجسٹرڈ کریں۔ کمشنر کراچی کے مطابق کراچی میں غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد 25 لاکھ ہے جن میں 7 لاکھ افغانی بھی شامل ہیں۔ پاسپورٹ اور نادرا آفس کے باہر جعلی دستاویزات پر شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنانے والے ایجنٹوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔


سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 25 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن اور 40 لاکھ غیر قانونی افغان باشندے پاکستان میں کب سے آباد ہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ 65 لاکھ غیر قانونی آباد افراد تو کئی عشروں سے پاکستان میں رہ رہے ہیں اور جعلی دستاویزات کے ذریعے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ حاصل کر چکے ہیں اور بڑی بڑی رہائشی اور کمرشل پراپرٹی کے مالک بن چکے ہیں اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

ہماری مسلح افواج شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے ذریعے بڑی کامیابی کے ساتھ دہشت گردوں کے خاتمے میں مصروف ہیں، اس آپریشن کے ذریعے امید ہے کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردی پر قابو پا لیا جائے گا۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے چپے چپے پر پھیلے ہوئے دہشت گردوں کا خاتمہ کس طرح کیا جائے؟ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ امریکا کے افغانستان پر حملے کے بعد مہاجرین کے نام پر افغان باشندوں کا جو سیلاب پاکستان میں داخل ہوا اس کے نتائج پر کسی سول یا فوجی حکومت نے توجہ نہ دی اس میں کوئی شک نہیں کہ جو ملک جنگوں کی زد میں آتے ہیں وہاں کے خوف زدہ عوام جائے پناہ کی تلاش میں آس پاس کے ملکوں میں ہجرت کر جاتے ہیں اور انسان دوستی کے حوالے سے ایسے مظلوم عوام کو پناہ بھی دی جاتی ہے لیکن اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ پناہ حاصل کرنے والوں کو یا تو کیمپوں میں رکھا جائے یا پھر ان کی الگ بستیاں بسا دی جائیں تا کہ ان کی نگرانی کی جا سکے اور انھیں ملک کے لیے خطرہ بننے سے روکا جا سکے۔ اس احتیاط کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ پر امن اور مظلوم عوام کے ساتھ بہت سارے جرائم پیشہ افراد اور گروہ بھی دوسرے ملکوں میں آ جاتے ہیں۔ ایسے تارکین وطن کو شہریت نہیں دی جاتی کیونکہ جلد یا بدیر انھیں ان کے وطن بھیج دیا جاتا ہے۔

پاکستان کے حکمران طبقات نے افغان مہاجرین کو پاکستانی شہریت حاصل کرنے سے روکنے اور انتظامی حوالے سے پیدا ہونے والے خطرات سے بچنے کے لیے نہ انھیں مخصوص کیمپوں یا بستیوں میں رکھنے کی کوشش کی نہ انھیں شہریت کی دستاویزات حاصل کرنے سے روکنے کی کوئی منظم کوشش کی۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ یہ پناہ گزین ملک کے ہر حصے میں آباد ہو گئے اور رشوت کے عوض قانونی دستاویزات حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے کیا یہ صورت حال حکمرانوں کی نا اہلی کی وجہ سے پیش آئی یا حکمرانوں کے سیاسی اور نظریاتی مفادات اس کے پیچھے تھے؟

اب جب کہ ضرب عضب کے حوالے سے دہشت گردوں کے گڑھ پر ضرب لگائی جا رہی ہے۔ فطری طور پر دہشتگرد ملک کے دوسرے علاقوں میں اپنی کارروائیاں تیز کر کے فوج کی توجہ شمالی وزیرستان سے ہٹانے کی کوشش کریں گے۔ ہمارا خیال ہے کہ سانحہ پشاور اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے دہشت گرد اس وحشیانہ کارروائی کے ذریعے حکومت اور مسلح افواج کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ ضرب عضب کے باوجود اب بھی طاقتور اور منظم ہیں لیکن بد قسمتی سے ان کا یہ وار الٹا پڑ گیا اور حکومت فوج اور عوام خوف زدہ ہونے کے بجائے اس طرح متحد ہو گئے کہ اب شمالی وزیرستان ہی نہیں بلکہ ملک کے ہر شہر، ہر گاؤں میں دہشتگردوں کو ضرب عضب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سانحہ پشاور سے پہلے مذہبی جماعتوں کی بڑی تعداد بالواسطہ اور بلاواسطہ دہشتگردوں کی حمایت کر رہی تھی لیکن سانحہ پشاور کی ہولناک بربریت کی وجہ اب کوئی مذہبی جماعت دہشتگردوں کی بالواسطہ یا بلاواسطہ حمایت کی پوزیشن میں نہیں ہے لیکن آئین میں ترمیم کے ساتھ آرمی ایکٹ میں تبدیلی اور فوجی عدالتوں کے قیام کی جو منظوری حاصل کی گئی ہے اسے بہانہ بنا کر اور اس اقدام پر بے جا تنقید کر کے ایک بار پھر دہشتگردوں کی پشت پناہی کی غیر دانشمندانہ کوشش کی جا رہی ہے۔ اب حکومت کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں اور عوام کا فرض ہے کہ وہ اس سازش کو کامیاب نہ ہونے دیں۔
Load Next Story