ورلڈ کپ میں ٹاپ آرڈر کو ذمے داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا راشد لطیف

غیرمحتاط انداز سفر انتہائی دشوار بنادے گا، حفیظ کی بطور آل راؤنڈر کمی محسوس ہوگی

سہیل کی شمولیت سے پیس اٹیک مضبوط ہوگیا، خامیاں دور کی جاسکتی ہیں، سابق کپتان ۔ فوٹو: فائل

راشد لطیف نے کہا ہے ورلڈکپ میں پاکستانی ٹاپ آرڈر کو ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

غیر محتاط انداز سفر انتہائی دشوار کردے گا، محمد حفیظ کے صرف بیٹنگ تک محدود ہوجانے کی وجہ سے اچھے آل راؤنڈر کی کمی محسوس ہوگی، ایک انٹرویو میں سابق کپتان نے کہاکہ میگاایونٹ کیلیے اسکواڈ کی تشکیل آسان کام نہیں ہوتا، سلیکٹرز نے اپنے طور اچھی کوشش کی ہے لیکن حد سے زیادہ خود اعتمادی مہم کمزور بناسکتی ہے، خاص طور پر ٹاپ آرڈرکا غیرمحتاط انداز سفر انتہائی دشوار کردے گا، بیٹسمینوں کو ذمے دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرنا ہوگا، دوسری جانب ہمارا اسپن بولنگ کا شعبہ بھی کمزور نظر آتا ہے، شاہد آفریدی اور یاسر شاہ اچھے بولرز ہیں لیکن سعید اجمل اگر کلیئر نہ ہوئے تو محمد حفیظ کی کمی محسوس ہوگی، انھوں نے کہا کہ ایک اچھا بیٹنگ آل راؤنڈر ٹیم کو متوازن بنا سکتا تھا۔


تاہم اس ضمن میں ماضی میں کام نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے پاکستان کے پاس انتخاب کیلیے زیادہ کھلاڑی ہی دستیاب نہیں، بلاول بھٹی کی بولنگ اچھی تو بیٹنگ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا، انور علی بیٹسمین اچھے لیکن بولر کے طور پر زیادہ موثر نہیں، ہمارے پاس عبدالرزاق جیسے میچ ونر کا متبادل نہیں ہے، انھوں نے کہا کہ یواے ای میں گرین شرٹس کی کارکردگی اچھی نہ رہنے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ کھلاڑی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھی پرفارم نہیں کرسکیں گے، پاکستان کی ٹیم حیران کن نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنانے میں کامیابی حاصل ہوگئی تو کسی بھی ٹیم کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی، انھوں نے کہا کہ وہاب ریاض کیساتھ سہیل خان کی بھی اسکواڈ میں شمولیت سے پاکستان کا پیس اٹیک خاصا بہتر ہوگیا ہے،ابھی میگا ایونٹ کے آغاز میں وقت باقی ہے جس کو کارآمد بناتے ہوئے خامیاں دور کرنے پرکام کیا جاسکتا ہے۔
Load Next Story