راولپنڈی میں دہشت گردی

حکومت نےدہشت گردوں کےخلاف مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ عدالتیں جلد ہی اپنا کام شروع کر دیں گی۔

یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستانی عوام دہشت گردی کی کسی صورت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پاکستانی عوام نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھا ہوا ہے۔فوٹو ظفراسلم/ ایکسپریس

راولپنڈی کے انتہائی گنجان آباد علاقے چِٹیاں ہٹیاں میں جمعہ کی رات امام بارگاہ کے باہر خودکش حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت سات افراد شہید جب کہ متعدد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں کئی کی حالت تاحال نازک بیان کی جاتی ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق یہ دہشت گردی کی یہ واردات امام بارگاہ سے ملحقہ ایک گھر میں ہوئی جہاں محفل میلاد جاری تھی۔ اس دوران موٹرسائیکل سوار خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، دھماکا اس قدر شدید تھا کہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور دور دور تک آواز سنی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور موٹرسائیکل پر سوار تھا جسے روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ حملہ آور جس موٹرسائیکل پر سوار تھا اس کا نمبر مل گیا ہے، موٹر سائیکل میں بھی بارودی مواد نصب تھا جب کہ اس نے خود کش جیکٹ بھی پہن رکھی تھی۔

راولپنڈی میں ہونے والا یہ خودکش حملہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں، ماضی میں بھی ایسے حملے ہوتے رہے ہیں جن میں بے گناہ افراد مارے جاتے رہے ہیں مگر سب سے زیادہ افسوس بلکہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس قسم کی واردات کا کوئی ماسٹر مائنڈ گرفتار کر کے کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا حالانکہ ارباب اختیار کی طرف سے مذمتی بیانات کے رسمی اجراء کے بجائے اگر تمام تر کوششیں دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کی گرفتاری کے لیے کی جائیں تو یہ سلسلہ وہیں انجام کو پہنچ سکتا ہے اور مظلوموں کی طرف سے جو احتجاج کیا جاتا ہے۔

وہ اسی مقصد کے لیے ہوتا ہے کہ کوئی دہشت گرد اور اس کا ہینڈلر تو گرفتار کرو۔ ویسے تو دہشت گردی کی وارداتیں ملک بھر میں جگہ جگہ ہوتی ہیں مگر کسی مذہبی اجتماع یا عبادت گاہ پر ایسا ہونے کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے یعنی فرقہ ورانہ فسادات کی راہ ہموار کرنا۔ فرقہ ورانہ فسادات کی آگ نہایت سرعت سے پھیلنے والی آگ ہے جس کا نظارہ شام اور عراق میں بہ آسانی کیا جا سکتا ہے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد صاحبان بست و کشاد کا اولین قدم یہ ہونا چاہیے کہ اس کے مجرم اور اس کے پشت پناہوں کو تلاش کیا جائے جو کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کا فرض منصبی ہے۔


سانحہ پشاور کے بعد پورے ملک میں دہشت گردی کا خطرہ موجود تھا تاہم زیادہ خطرہ تعلیمی اداروں کے بارے میں محسوس کیا جا رہا تھا لیکن دہشت گردوں نے ایک مذہبی اجتماع کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اگر موٹرسائیکل سوار اجتماع کے اندر پہنچ جاتا تو نقصان بہت زیادہ ہونا تھا۔ بہرحال اس وقت ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری ہے لیکن ابھی اس سلسلے میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ عدالتیں جلد ہی اپنا کام شروع کر دیں گی۔

اس سے دہشت گردی کے مجرموں کو سزا دلوانا ممکن ہو جائے گا۔ اس ساری صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ دہشت گردوں اور دہشت گردوں کے سرپرستوں کے خلاف پوری یکسوئی اور جرأت مندی سے کارروائی کی جائے۔ اب اصل امتحان سول اداروں کا ہے۔ فوج نے تو دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر دیے ہیں، اب دہشت گرد یا تو افغانستان کی طرف فرار ہو گئے ہیں یا بھاگ کر ملک میں پھیل رہے ہیں۔ انٹیلی جنس اداروں کو روایتی سستی چھوڑنی ہو گی اور پوری توجہ دہشت گردی کی روک تھام پر دینی ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کا یہی فرض ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف سرکاری اداروں کی مدد کریں۔ علماء کرام اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

دہشت گرد اور ان کے ماسٹر مائنڈ مختلف جہتوں میں کام کر رہے ہیں، وہ کہیں حساس اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور کہیں عبادت گاہوں اور مذہبی اجتماع کو نشانہ بناتے ہیں۔ عوامی مقامات بھی نشانے پر ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو دہشت گردوں کی کوشش یہ ہے کہ ملک کے اداروں کو کمزور کیا جائے، عوام کو خوفزدہ کیا جائے اور انھیں فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکا جائے۔ یہ طریقہ انتہائی خطرناک ہے۔ جو قوم اپنے آپ سے دست و گریباں ہو جائے وہ دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ شام، لیبیا، یمن اور عراق میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔

ان ملکوں میں فرقہ پرستی اور نسلی اختلافات کو بھڑکایا گیا ہے۔ پاکستان میں بھی ایسا ہی گھناؤنا کھیل کھیلنے کے منصوبے بن رہے ہیں۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستانی عوام دہشت گردی کی کسی صورت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پاکستانی عوام نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ دہشت گرد اس محاذ پر ناکام ہیں۔ حکومتی سطح پر دہشت گردی پر قابو کے حوالے سے اختلافات یا کنفیوژن موجود تھی لیکن اب وہ بھی دور ہو گئی ہے۔ اگر حکومت اور عوام یکجا ہو جائیں تو دہشت گردوں کا قلع قمع کرنا زیادہ مشکل کام نہیں رہے گا۔
Load Next Story