دہشت گردی اور پاک افغان تعلقات

اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں ان عناصر کی سرکوبی کی جائے جو قوم میں ابہام کا باعث بن رہے ہیں۔

فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔ یہی نہیں دیگر سیاسی قیادت بھی دہشت گردی کے حوالے سے وہی موقف رکھتی ہے جو حکومت اور فوج کا ہے، فوٹو : فائل

KARACHI:
پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک دہشت گردی سے شدید طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔اب خوش آیند بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کو ادراک ہو گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے تعاون کے بغیر اس عفریت کا مقابلہ نہیں کر سکتے لہٰذا انھوں نے ایک دوسرے سے تعاون کرنے کادرست فیصلہ کیا ہے۔

اسی تناظر میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر اتوار کو کابل پہنچے ہیں اور افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی ہے جس میں پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی کی صورت حال اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اخبارات میں شایع ہونے والی بعض خبروں کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی نے افغان صدر کو تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کے افغانستان میں تازہ ترین ٹھکانوں اور سرگرمیوں کے بارے میں معلومات سے آگاہ کیا اور حکومت پاکستان کی طرف سے اس امید کا اظہار کیا کہ افغان حکومت حسب وعدہ ملا فضل اللہ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

افغانستان میں نئی حکومت آنے کے بعد پاکستان سے تعلقات کے حوالے سے اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اشرف غنی نے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پاکستان کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے باہمی تعاون کا عندیہ دیا۔ یہ اطلاعات سامنے آ چکی ہیں کہ پشاور میں اسکول پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور اس کا ماسٹر مائنڈ ملا فضل اللہ ہے، وہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کی سربراہی کر رہا ہے، دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ جب تک افغانستان میں ملافضل اللہ اور اس کا دہشت گرد گروہ موجود ہے پاکستان میں دہشت گردی کا خطرہ بدستور موجود رہے گا۔ لہٰذا پاکستان افغانستان پر یہ زور دے رہا ہے کہ وہ ملا فضل اللہ اور اس کے دہشت گرد گروہ کے خاتمے کے لیے تعاون کرے۔


گزشتہ دنوں افغانستان کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل شیر محمد کریمی اور ایساف کمانڈر جنرل جان کیمپبل نے پاکستان کے دورہ کے موقع پر پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کے دوران یقین دہانی کرائی تھی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور وہاں موجود پاکستانی طالبان کے خلاف ہر ممکن کارروائی کی جائے گی۔ دہشت گردی کا خطرہ پاکستان اور افغانستان دونوں کا مشترکہ مسئلہ ہے، افغان حکام دہشت گردی کے خلاف اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلا رہے ہیں، اس تناظر میں وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک اس خطے سے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے مشترکہ کارروائی کے لیے لائحہ عمل تیار کریں، خطے کو درپیش اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے جتنی سرعت سے کارروائی کی جائے اتنا ہی بہتر ہے کیونکہ جتنی تاخیر ہوتی جائے گی دہشت گردی کے حوالے سے مسائل میں اتنا ہی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔اس حوالے سے افغانستان کی حکومت کا یہ امتحان ہے کہ وہ اپنے ملک میں موجود پاکستانی بگوڑوں کے خلاف کیا اقدام کرتی ہے۔

افغانستان کی انتظامیہ کے پاس بھی یقیناً یہ اطلاعات ہوں گی کہ ملا فضل اللہ اور اس کے ساتھی افغانستان میں مقیم ہیں۔ اگر افغانستان کی حکومت ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے تو پاکستان میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف عزم سب کے سامنے ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے اب کوئی کنفیوژن نہیں ہے۔ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔ یہی نہیں دیگر سیاسی قیادت بھی دہشت گردی کے حوالے سے وہی موقف رکھتی ہے جو حکومت اور فوج کا ہے۔ اتوار کو رائیونڈلاہور میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ قوم نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کا تہیہ کر لیا ہے، اب دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں کو کہیں جائے پناہ نہیں ملے گی، پاکستان میں غیر معمولی حالات کے باعث غیر معمولی فیصلے کیے گئے، سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، ملک کو جو حالات درپیش ہیں کوئی بھی جماعت تنہا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

وزیراعظم کی یہ بات بالکل صائب ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ جس قدر شدت اختیار کر چکا ہے اس سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو حکومت سے تعاون کرنا ہو گا۔ فوج دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار بخوبی ادا کر رہی ہے اور اس نے اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے جو قربانیاں دی ہیں وہ قابل تحسین ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور سیاسی جماعتیں اس سلسلے میں اپنا کیا کردار ادا کرتی ہیں۔ قومی اور سیاسی اتحاد و اتفاق ہی وہ قوت ہے جس سے بڑے سے بڑے دشمن کو بھی شکست دی جا سکتی ہے۔ جو جماعتیں ابہام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں انھیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ ان کا یہ رویہ ملکی سالمیت کے لیے مستقل خطرہ بنا رہے گا۔

افغانستان کی حکومت دہشت گردی کے حوالے سے کیا کرتی ہے ،یہ الگ مسئلہ ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت پاکستان میں دہشت گردی کا مقابلہ کیسے کرتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں ان عناصر کی سرکوبی کی جائے جو قوم میں ابہام کا باعث بن رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے سول اداروں خصوصاً انٹیلی جنس اداروں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
Load Next Story