قومی اتحاد میں رخنے
کہا جاتا ہے کہ محبت اور جنگ میں جائز ناجائز کی تفریق ختم ہوجاتی ہے۔
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
ISLAMABAD:
انقلاب روس اور انقلاب چین دنیا کی انقلابی تاریخ میں سرفہرست شمار کیے جاتے ہیں۔ یہ انقلابات اگرچہ صدیوں پر پھیلے ہوئے شخصی اور خاندانی بادشاہتوں کے خلاف ایک مسلح بغاوت کی حیثیت رکھتے تھے لیکن ان کا ہدف حکومتیں تھیں، ریاست نہیں تھی۔ جب ریاست، قانون، انصاف ہی نہیں بلکہ عوام کی زندگی بھی کسی مسلح بغاوت کا ہدف بن جاتے ہیں تو ملک اور معاشرے کے اندرونی تضادات اور بدترین سیاسی اختلافات بھی وقتی طور پر بے معنی ہوکر رہ جاتے ہیں اور سیاسی جماعتوں اور عوام کی اولین ترجیح اس بغاوت کے خلاف جنگ بن جاتی ہے جو ریاست اور عوام کے مستقبل کے سر پر تلوار کی طرح لٹک رہی ہوتی ہے۔
آج پاکستان ایک ایسی ہی جنگ سے دوچار ہے جو دنیا کی جنگوں کی تاریخ کی بدترین اور خطرناک ترین جنگ ہے۔ اس جنگ کا سب سے عجیب اور المناک پہلو یہ ہے کہ یہ ایک ایسی بے لگام جنگ ہے جس میں بچوں ، بڑوں، عورتوں، مردوں کی تفریق کے بغیر سب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ محبت اور جنگ میں جائز ناجائز کی تفریق ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن بدترین جنگوں کی اخلاقیات میں بھی کچھ استثنیات ہوتی ہیں خاص طور پر بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو جنگ کا ایندھن نہیں بنایا جاتا اور اپنوں پرائیوں میں تمیز کی جاتی ہے لیکن ہم جس جنگ سے دوچار ہیں اس کی کوئی سمت ہے نہ اخلاقیات کیونکہ اس جنگ کو پاکستان پر مسلط کرنے والوں کے بارے میں سیاستدانوں، مذہبی رہنماؤں اور عوام کی یہ متفقہ رائے ہے کہ یہ جنگجو انسان ہی نہیں ہیں۔ خاص طور پر سانحہ پشاور کے بعد جس میں آرمی پبلک اسکول کے 140بچوں کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور ان کے گلے کاٹے گئے سیاسی اور مذہبی جماعتیں اور عوام ایک پیج پر آگئے ہیں یہ اتحاد و اتفاق پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا کارنامہ ہے کہ اس اتحاد ہی سے یہ ہولناک جنگ جیتی جاسکتی ہے اور اس موقعے پر اس اتحاد میں رخنہ ڈالنا پاکستان دشمنی ہے۔
16/12 کے بعد بلائی جانے والی اے پی سی میں ملک کی ساری سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے دہشت گردی کے خلاف متحد ہوکر جنگ کرنے کا جو تاریخی فیصلہ کیا تھا ابھی اس کی آواز بازگشت فضاؤں میں موجود تھی کہ بعض حلقوں کی جانب سے مختلف حوالوں سے اعتراضات سامنے آنے لگے۔ اے پی سی اس بات پر متفق تھی کہ اس جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ فوجی عدالتیں بھی قائم کی جائیں گی۔ اس فیصلے کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے سول عدالتی نظام کی سست روی اس جنگ کے مجرموں کو بروقت اور تیزی کے ساتھ سزائیں سنانے کی اہلیت سے محروم تھی اورحالات کا تقاضا یہ تھا کہ دہشت گردی میں ملوث مجرموں کے مقدمات کی تیزی کے ساتھ سماعت ہو اور مجرموں کو بلاتاخیر کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔
بلاشبہ عام حالات میں اور جمہوری معاشروں میں فوجی عدالتوں کا قیام ناقابل قبول ہی نہیں بلکہ معیوب بھی سمجھا جاتا ہے لیکن ملک جن حالات سے گزر رہا ہے ان میں مجرموں کے خلاف تیزی سے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام فوجی عدالتیں ہی کرسکتی ہیں۔ فوجی عدالتوں کے قیام پر بعض ان لوگوں کے ضمیر بھی جاگ اٹھے ہیں جنھیں یہ شکایت ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے کیس کو سول عدالتوں میں 6-7 سال سے التوا میں رکھا گیا ہے۔
بے نظیر بھٹو بھی دہشت گردی ہی کا شکار ہوئی تھیں اور انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ اس قتل کے مجرموں کا فیصلہ بلاتاخیر کیا جائے لیکن ایسا اس لیے نہیں ہوا کہ ہمارا پورا عدالتی نظام بوجوہ سست روی کا شکار ہے ۔ پچھلے دس سالوں میں 50 ہزار بے گناہ انسان قتل کردیے گئے لیکن قاتلوں کو سزا نہیں ملی۔ہمارے ملک میں یہ تاثر عام ہے کہ 67 سال سے جمہوری فریم ورک کے اندر رہ کر اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہنے والی مذہبی جماعتوں کے دل میں دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ اس لیے موجود رہا ہے کہ یہ جماعتیں یہ سمجھ رہی تھیں کہ وہ جمہوری طریقے سے 67 سالوں میں جس مقصد کے حصول میں ناکام رہی ہیں وہ مقصد دہشت گرد مختصر مدت میں حاصل کرلیں گے۔
حالانکہ یہ تمام جماعتیں دیکھ رہی تھیں کہ دہشت گرد اس اعلیٰ مقصد کے نام پر انتہائی بے دردی سے 50 ہزار پاکستانی مسلمانوں کو قتل کرچکے ہیں لیکن حیرت ہے کہ دہشت گردوں سے اسلامی نظام کے نفاذ کی امید رکھنے والے 50 ہزار بے گناہ مسلمانوں کے قتل کے بعد بھی ان کے لیے اپنے دلوں میں نرم گوشہ رکھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ سانحہ پشاور کے بعد مذہبی جماعتوں نے بھی کھل کر دہشت گردوں کی حیوانیت کا اعتراف کیا ہے لیکن معمولی باتوں کو بنیاد بناکر حکومت سے اختلاف کرنا کیا وقت کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے؟ عوام یہ شک کرنے میں حق بجانب ہیں کہ مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے دلوں میں اب بھی دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ موجود ہے۔ اس تاثرکو دور کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ مذہبی جماعتیں اپنے فروعی اختلافات یا اعتراضات کو پس پشت ڈال کر حقیقی معنوں میں قومی اتحاد کا حصہ بن جائیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں پاکستان کے عوام نے بے مثال قومی اتحاد کا مظاہرہ کیا تھا۔ بھارت پاکستان کے مقابل کھڑا تھا لیکن 1965 اور 1971 کی جنگ آج کی جنگ سے زیادہ خطرناک اس لیے نہیں تھی کہ دشمن سرحدوں پر کھڑے ہوکر جنگ کر رہا تھا اور اس کی فوج ہماری آنکھوں کے سامنے تھی لیکن آج ہم جس جنگ کا سامنا کر رہے ہیں اس جنگ میں دشمن ہماری گلیوں، ہمارے محلوں، ہمارے شہروں، ہمارے دیہاتوں میں موجود ہے جس کی شناخت بھی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ یوں یہ جنگ 1965-71 کی جنگوں سے زیادہ خطرناک ہے۔
بعض حقائق اس قدر دلچسپ اور فکر انگیز ہوتے ہیں کہ ان کا ذکر کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ 1965 اور 1971 کی جنگیں ہماری تاریخ میں قومی اتحاد کا ایک وسیلہ بن گئیں لیکن حیرت اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ان جنگوں کے دوران ملک پر فوجی حکمرانی تھی۔ 1965 میں ایوب خان برسر اقتدار تھے۔ 1971 میں ان کے جانشین یحییٰ خان ملک پر قابض تھے اس کے باوجود دونوں جنگوں کے دوران قومی اتحاد کا تاریخی مظاہرہ کیا گیا اور عشاقان جمہوریت کو نہ فوجی حکومتوں سے کوئی شکوہ تھا نہ قومی اتحاد کی راہ میں یہ فوجی حکومتیں حائل تھیں۔
موجودہ جنگ اپنے گہرے اور دوررس مضمرات کے حوالے سے 1965 اور 1971 کی جنگوں سے زیادہ خطرناک ہیں۔ لیکن فوجی عدالتوں کے مسئلے پر کسی کا ضمیر آنکھوں سے بہہ رہا ہے اور کسی کو یہ فوجی عدالتیں آئین کی تباہی دکھائی دے رہی ہیں تو کوئی قومی ایکشن پلان کی مخالفت اس لیے کر رہا ہے کہ اس میں فرقوں اور مذہب کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس قسم کا اعتراض کرنے والوں کا موقف یہ ہے کہ دہشت گردی صرف دہشت گردی ہوتی ہے اس کا تعلق نہ فرقوں سے ہوتا ہے نہ مذہب سے۔
اس کا جواب بڑی تفصیل مانگتا ہے لیکن اس وقت میرے سامنے آج کا تازہ اخبار رکھا ہوا ہے جس میں راولپنڈی میں دہشت گرد حملے کی تفصیل ہے ، اس حملے میں چھ افراد شہید ہوئے اور 19 زخمی۔ عراق اور شام میں اب تک لاکھوں مسلمان مارے گئے ہیں اور داعش یعنی اسلامک اسٹیٹ کے دہشت گرد دنیا پر اسلام کا جھنڈا لہرانے کے لیے مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں۔
انقلاب روس اور انقلاب چین دنیا کی انقلابی تاریخ میں سرفہرست شمار کیے جاتے ہیں۔ یہ انقلابات اگرچہ صدیوں پر پھیلے ہوئے شخصی اور خاندانی بادشاہتوں کے خلاف ایک مسلح بغاوت کی حیثیت رکھتے تھے لیکن ان کا ہدف حکومتیں تھیں، ریاست نہیں تھی۔ جب ریاست، قانون، انصاف ہی نہیں بلکہ عوام کی زندگی بھی کسی مسلح بغاوت کا ہدف بن جاتے ہیں تو ملک اور معاشرے کے اندرونی تضادات اور بدترین سیاسی اختلافات بھی وقتی طور پر بے معنی ہوکر رہ جاتے ہیں اور سیاسی جماعتوں اور عوام کی اولین ترجیح اس بغاوت کے خلاف جنگ بن جاتی ہے جو ریاست اور عوام کے مستقبل کے سر پر تلوار کی طرح لٹک رہی ہوتی ہے۔
آج پاکستان ایک ایسی ہی جنگ سے دوچار ہے جو دنیا کی جنگوں کی تاریخ کی بدترین اور خطرناک ترین جنگ ہے۔ اس جنگ کا سب سے عجیب اور المناک پہلو یہ ہے کہ یہ ایک ایسی بے لگام جنگ ہے جس میں بچوں ، بڑوں، عورتوں، مردوں کی تفریق کے بغیر سب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ محبت اور جنگ میں جائز ناجائز کی تفریق ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن بدترین جنگوں کی اخلاقیات میں بھی کچھ استثنیات ہوتی ہیں خاص طور پر بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو جنگ کا ایندھن نہیں بنایا جاتا اور اپنوں پرائیوں میں تمیز کی جاتی ہے لیکن ہم جس جنگ سے دوچار ہیں اس کی کوئی سمت ہے نہ اخلاقیات کیونکہ اس جنگ کو پاکستان پر مسلط کرنے والوں کے بارے میں سیاستدانوں، مذہبی رہنماؤں اور عوام کی یہ متفقہ رائے ہے کہ یہ جنگجو انسان ہی نہیں ہیں۔ خاص طور پر سانحہ پشاور کے بعد جس میں آرمی پبلک اسکول کے 140بچوں کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور ان کے گلے کاٹے گئے سیاسی اور مذہبی جماعتیں اور عوام ایک پیج پر آگئے ہیں یہ اتحاد و اتفاق پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا کارنامہ ہے کہ اس اتحاد ہی سے یہ ہولناک جنگ جیتی جاسکتی ہے اور اس موقعے پر اس اتحاد میں رخنہ ڈالنا پاکستان دشمنی ہے۔
16/12 کے بعد بلائی جانے والی اے پی سی میں ملک کی ساری سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے دہشت گردی کے خلاف متحد ہوکر جنگ کرنے کا جو تاریخی فیصلہ کیا تھا ابھی اس کی آواز بازگشت فضاؤں میں موجود تھی کہ بعض حلقوں کی جانب سے مختلف حوالوں سے اعتراضات سامنے آنے لگے۔ اے پی سی اس بات پر متفق تھی کہ اس جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ فوجی عدالتیں بھی قائم کی جائیں گی۔ اس فیصلے کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے سول عدالتی نظام کی سست روی اس جنگ کے مجرموں کو بروقت اور تیزی کے ساتھ سزائیں سنانے کی اہلیت سے محروم تھی اورحالات کا تقاضا یہ تھا کہ دہشت گردی میں ملوث مجرموں کے مقدمات کی تیزی کے ساتھ سماعت ہو اور مجرموں کو بلاتاخیر کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔
بلاشبہ عام حالات میں اور جمہوری معاشروں میں فوجی عدالتوں کا قیام ناقابل قبول ہی نہیں بلکہ معیوب بھی سمجھا جاتا ہے لیکن ملک جن حالات سے گزر رہا ہے ان میں مجرموں کے خلاف تیزی سے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام فوجی عدالتیں ہی کرسکتی ہیں۔ فوجی عدالتوں کے قیام پر بعض ان لوگوں کے ضمیر بھی جاگ اٹھے ہیں جنھیں یہ شکایت ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے کیس کو سول عدالتوں میں 6-7 سال سے التوا میں رکھا گیا ہے۔
بے نظیر بھٹو بھی دہشت گردی ہی کا شکار ہوئی تھیں اور انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ اس قتل کے مجرموں کا فیصلہ بلاتاخیر کیا جائے لیکن ایسا اس لیے نہیں ہوا کہ ہمارا پورا عدالتی نظام بوجوہ سست روی کا شکار ہے ۔ پچھلے دس سالوں میں 50 ہزار بے گناہ انسان قتل کردیے گئے لیکن قاتلوں کو سزا نہیں ملی۔ہمارے ملک میں یہ تاثر عام ہے کہ 67 سال سے جمہوری فریم ورک کے اندر رہ کر اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہنے والی مذہبی جماعتوں کے دل میں دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ اس لیے موجود رہا ہے کہ یہ جماعتیں یہ سمجھ رہی تھیں کہ وہ جمہوری طریقے سے 67 سالوں میں جس مقصد کے حصول میں ناکام رہی ہیں وہ مقصد دہشت گرد مختصر مدت میں حاصل کرلیں گے۔
حالانکہ یہ تمام جماعتیں دیکھ رہی تھیں کہ دہشت گرد اس اعلیٰ مقصد کے نام پر انتہائی بے دردی سے 50 ہزار پاکستانی مسلمانوں کو قتل کرچکے ہیں لیکن حیرت ہے کہ دہشت گردوں سے اسلامی نظام کے نفاذ کی امید رکھنے والے 50 ہزار بے گناہ مسلمانوں کے قتل کے بعد بھی ان کے لیے اپنے دلوں میں نرم گوشہ رکھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ سانحہ پشاور کے بعد مذہبی جماعتوں نے بھی کھل کر دہشت گردوں کی حیوانیت کا اعتراف کیا ہے لیکن معمولی باتوں کو بنیاد بناکر حکومت سے اختلاف کرنا کیا وقت کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے؟ عوام یہ شک کرنے میں حق بجانب ہیں کہ مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے دلوں میں اب بھی دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ موجود ہے۔ اس تاثرکو دور کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ مذہبی جماعتیں اپنے فروعی اختلافات یا اعتراضات کو پس پشت ڈال کر حقیقی معنوں میں قومی اتحاد کا حصہ بن جائیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں پاکستان کے عوام نے بے مثال قومی اتحاد کا مظاہرہ کیا تھا۔ بھارت پاکستان کے مقابل کھڑا تھا لیکن 1965 اور 1971 کی جنگ آج کی جنگ سے زیادہ خطرناک اس لیے نہیں تھی کہ دشمن سرحدوں پر کھڑے ہوکر جنگ کر رہا تھا اور اس کی فوج ہماری آنکھوں کے سامنے تھی لیکن آج ہم جس جنگ کا سامنا کر رہے ہیں اس جنگ میں دشمن ہماری گلیوں، ہمارے محلوں، ہمارے شہروں، ہمارے دیہاتوں میں موجود ہے جس کی شناخت بھی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ یوں یہ جنگ 1965-71 کی جنگوں سے زیادہ خطرناک ہے۔
بعض حقائق اس قدر دلچسپ اور فکر انگیز ہوتے ہیں کہ ان کا ذکر کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ 1965 اور 1971 کی جنگیں ہماری تاریخ میں قومی اتحاد کا ایک وسیلہ بن گئیں لیکن حیرت اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ان جنگوں کے دوران ملک پر فوجی حکمرانی تھی۔ 1965 میں ایوب خان برسر اقتدار تھے۔ 1971 میں ان کے جانشین یحییٰ خان ملک پر قابض تھے اس کے باوجود دونوں جنگوں کے دوران قومی اتحاد کا تاریخی مظاہرہ کیا گیا اور عشاقان جمہوریت کو نہ فوجی حکومتوں سے کوئی شکوہ تھا نہ قومی اتحاد کی راہ میں یہ فوجی حکومتیں حائل تھیں۔
موجودہ جنگ اپنے گہرے اور دوررس مضمرات کے حوالے سے 1965 اور 1971 کی جنگوں سے زیادہ خطرناک ہیں۔ لیکن فوجی عدالتوں کے مسئلے پر کسی کا ضمیر آنکھوں سے بہہ رہا ہے اور کسی کو یہ فوجی عدالتیں آئین کی تباہی دکھائی دے رہی ہیں تو کوئی قومی ایکشن پلان کی مخالفت اس لیے کر رہا ہے کہ اس میں فرقوں اور مذہب کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس قسم کا اعتراض کرنے والوں کا موقف یہ ہے کہ دہشت گردی صرف دہشت گردی ہوتی ہے اس کا تعلق نہ فرقوں سے ہوتا ہے نہ مذہب سے۔
اس کا جواب بڑی تفصیل مانگتا ہے لیکن اس وقت میرے سامنے آج کا تازہ اخبار رکھا ہوا ہے جس میں راولپنڈی میں دہشت گرد حملے کی تفصیل ہے ، اس حملے میں چھ افراد شہید ہوئے اور 19 زخمی۔ عراق اور شام میں اب تک لاکھوں مسلمان مارے گئے ہیں اور داعش یعنی اسلامک اسٹیٹ کے دہشت گرد دنیا پر اسلام کا جھنڈا لہرانے کے لیے مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں۔