گورنر نے سرکاری اسکول پر لینڈ مافیا کا قبضہ ناکام بنادیا

اختر گورنمنٹ گرلز اینڈ بوائز سیکنڈری اسکول کی عمارت پر نجی پارٹی نے سرما کی تعطیلات کے دوران قبضہ کیا۔

اسکول پر قبضے کی خبریں ذرائع ابلاغ میں آنے کے بعد گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے معاملے کا نوٹس لیا اور کمشنر کراچی کے ہمراہ وہاں پہنچ گئے۔ فوٹو: ایکسپریس

شاہ فیصل کالونی میں اختر گورنمنٹ گرلز اینڈ بوائز سیکنڈری اسکول کی عمارت پر نجی پارٹی نے موسم سرما کی تعطیلات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قبضہ کرلیا۔

اسکول کے کمروں میں تالے ڈال دیے،اسکول کے صحن کے اطراف موجود چاردیواری گرادی گئی،اسکول میں زیرتعلیم طلبہ وطالبات اور تدریسی عملہ موسم سرما کی تعطیلات کے بعد جب پیرکی صبح اسکول پہنچا تو اسے اسکول کے اندر داخل نہیں ہونے دیا گیا، طلبہ وطالبات کو وہاں سڑک پر بٹھا دیا، واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان نے اس کا نوٹس لیا، کمشنر کراچی شعیب صدیقی کے ہمراہ وہاں پہنچ کرانتظامیہ کو قبضہ ختم کرانے کی ہدایت کی۔

اسکول کی صدر معلمہ نے اس امر کا انکشاف کیا کہ اختر گورنمنٹ گرلز اینڈ بوائز سیکنڈری اسکول کی عمارت پر قبضے کی اطلاع انھوں نے 7جنوری کو تحریری طور پر ڈائریکٹر اسکولز عبدالوہاب عباسی کودے دی تھی، ڈائریکٹر اسکولز عبدالوہاب عباسی کی جانب سے اس سلسلے میں کمشنر کراچی کو مطلع کردیا گیا تھا ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے اسکول کی صدرمعلمہ روشن آرا کا کہنا تھا کہ وہ اوران کاعملہ دوران تعطیلات اسکول کا چکر لگاتے رہتے تھے اور اسی دوران انھیں اس امر کا علم ہوا کہ متعلقہ نجی پارٹی نے اسکول کے زیراستعمال چند کمروں میں اپنے تالے ڈال دیے ہیں۔




چار دیواری گرادی گئی ہے، کچھ ماہ قبل جب متعلقہ نجی پارٹی نے اس اسکول پر قبضہ کیا تھا تو اسکول کا تمام فرنیچر غائب کردیا تھا اس وقت اسکول کا اپنا کوئی فرنیچر نہیں ہے، طلبہ وطالبات زمین پر دریاں بچھا کر پڑھنے پر مجبور ہیں، یہ موسم سرما کی تعطیلات سے قبل تک یہی سلسلہ جاری تھا اور اسی سلسلے کوجاری رکھنے کے لیے طلبہ جب پیرکی صبح یہاں پہنچے تومتعلقہ نجی پارٹی نے طلبا اوراساتذہ کو اسکول کے اندرداخل ہی نہیں ہونے دیا، طلبا اسکول کے باہر مرکزی شاہراہ کے کنارے سڑک پر بیٹھ گئے۔

اسکول کے 3 حصے ہیں جن میں سے دوحصوں کی چھت ہی نہیں ہے،ایک حصے کی چھت ہے جس پر متعلقہ نجی پارٹی نے تالے ڈال دیے ہیں جبکہ باقی 2 حصوں کی دیواریں گرائی جاچکی ہیں ، پیر کو جب اسکول پر قبضے کی خبریں ذرائع ابلاغ میں آنے کے بعد گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے معاملے کا نوٹس لیا اور کمشنر کراچی کے ہمراہ وہاں پہنچ گئے، انتظامیہ سے فوری طور پر قبضہ ختم کراکے اسکول کی عمارت اسکول انتظامیہ کے حوالے کرنے کی ہدایت جاری کی۔



واضح رہے کہ اس تمام صورتحال سے متعلقہ تعلیمی افسران لاتعلق رہے اورٹائون کے کسی متعلقہ افسرنے اسکول کارخ کیا اور نہ ہی قبضہ ختم کرانے کے لیے اپناکوئی کردار ادا کیا، یاد رہے کہ اسی نجی پارٹی کی جانب سے موسم گرما کی تعطیلات کا فائدہ اٹھاکرجولائی میں بھی اسکول کی عمارت پر قبضہ کرلیا گیا تھا، ذرائع ابلاغ میں خبریں آنے کے بعد ڈائریکٹر اسکولزعبدالوہاب عباسی نے اس معاملے کا عارضی نوٹس تو لیا تھا تاہم آج تک اس اسکول میں طلبہ دریوں پر بیٹھ کرہی کلاسز لیتے ہیں۔
Load Next Story