معاشی آسودگی پر مبنی حکمت عملی ناگزیر
آج کی دنیامیں وہی ممالک ترقی یافتہ کہلاتےہیں جن کاسیاسی استحکام معاشی ترقی اورمربوط اقتصادی پالیسیوں سےمنسلک ہوتا ہے۔
زرعی اور صنعتی بحران کا ملکی معاشی نظام کو سامنا ہو سکتا ہے اس لیے معاشی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ 31 دسمبر 2014تک 15 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر کے حصول کا ہدف حاصل کر لیا جس کے نتیجے میں پاکستان آئی بی آر ڈی کے تحت تمام سہولیات حاصل کرنے کا اہل ہو گیا ہے۔ بجٹ خسارہ جو پچھلے سال5.5 فیصد تھا، رواں سال2.4 فیصد تک آ گیا ہے۔
معیشت کے تقریباً تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ وزیر خزانہ کی طرف سے معاشی پیشرفت کی اطلاع نہ صرف مثبت اور خوش آیند ہے بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے پیش نظر سیاسی مسائل سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی میں تسلسل کی بھی انتہائی ضروری ہے، پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب میں انھوں نے تیل کی قیمتوں میں کمی سے مثبت و منفی اثرات کا ذکر کیا اور کہا کہ اس سے ریونیو کم ہو گا تاہم اس کوشش کا حوالہ دیا کہ اس کے باوجود ترقیاتی بجٹ متاثر نہ ہو۔ اسی مقصد کے لیے جی ایس ٹی 17 سے بڑھا کر 22 فیصد کیا گیا ہے جب کہ مجموعی طور پر محصولات میں 68 ارب کا نقصان متوقع ہے۔ افراط زر6 فیصد سے کچھ زائد ہے۔
مہنگائی کی یہ شرح نومبر میں 4 فیصد پر آ گئی تھی جو گیارہ سال میں کم ترین تھی۔ پچھلے سال دسمبر میں 9.2 فیصد جب کہ اس سال 4.3 فیصد رہی۔ یوں مہنگائی کا جن بے قابو رہا۔ حکومت کے لیے سب سے اہم ٹاسک ٹیکس کے نظام میں اصلاحات ہیں کیونکہ 70 فی صد ٹیکس بالواسطہ ہیں، پاکستان اکانومی واچ کی رپورٹ ہے کہ ملک میں دولت کی منصفانہ تقسیم ناگزیر ہے، جب کہ عدم توجہ کے باعث غریبی و امیری کا فرق بڑھ گیا ہے اور عوام میں احساس محرومی موجود ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے اور ڈونرز اگرچہ ملکی اقتصادیات مین نمو کی خوش آیند بڑھوتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں تاہم وزارت خزانہ اس امر کو یقینی بنائے کہ ترقی چاروں صوبوں میں یکساں ہو۔
دریں اثنا قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے 108.20 ارب روپے سے زائد مالیت کے 9ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیدی ہے۔ ان منصوبوں دیگر کے علاوہ اہم ترقیاتی اسکیموں میں بالخصوص بلوچستان کے تعلیمی ضروریات کو مد نظر رکھا گیا، اور 3 کروڑ 40 لاکھ ڈالر مالیت کا بلوچستان ایجوکیشن پراجیکٹ بھی منظور کیا گیا ہے۔ ایکنک کا اجلاس اگلے روز وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہوا اجلاس میں سی ڈی ڈبلیو پی کی طرف سے بھجوائے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لے کر ان کی منظوری دی گئی۔ صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں اقتصادی استحکام کا واحد راستہ پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر ہے۔
ادھر وزارت منصوبہ بندی و ترقیات نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک کھرب 48 ارب 83 کروڑ71 لاکھ روپے جاری کر دیے ہیں، چنانچہ زمینی اقتصادی حقیقت یہ ہے کہ ملک کو اقتصادی ترقی کی اشد ضرورت ہے، آج کی دنیا میں وہی ممالک ترقی یافتہ کہلاتے ہیں جن کا سیاسی استحکام معاشی ترقی اور مربوط اقتصادی پالیسیوں سے منسلک ہوتا ہے۔
موجودہ حکومت ملک کو خود انحصاری اور داخلی استحکام کی منزل تک لانے کے لیے معاشی اہداف کی تکمیل اور جمہوری ثمرات کی عام آدمی تک پہنچ کو یقینی بنائے، اور ساتھ ساتھ ان خطرات اور ممکنہ بحرانوں کا ادراک و سدباب کرے جن کی نشاندہی ماہرین کرتے رہتے ہیں، ماہرین کی رپورٹ کے مطابق ان خطرات میں آبی، زرعی اور صنعتی بحران کا ملکی معاشی نظام کو سامنا ہو سکتا ہے اس لیے معاشی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے، اور ایسی اقتصادی حکمت عملی وضع کی جائے جو مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو ہمہ جہتی معاشی آسودگی دے۔
معیشت کے تقریباً تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ وزیر خزانہ کی طرف سے معاشی پیشرفت کی اطلاع نہ صرف مثبت اور خوش آیند ہے بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے پیش نظر سیاسی مسائل سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی میں تسلسل کی بھی انتہائی ضروری ہے، پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب میں انھوں نے تیل کی قیمتوں میں کمی سے مثبت و منفی اثرات کا ذکر کیا اور کہا کہ اس سے ریونیو کم ہو گا تاہم اس کوشش کا حوالہ دیا کہ اس کے باوجود ترقیاتی بجٹ متاثر نہ ہو۔ اسی مقصد کے لیے جی ایس ٹی 17 سے بڑھا کر 22 فیصد کیا گیا ہے جب کہ مجموعی طور پر محصولات میں 68 ارب کا نقصان متوقع ہے۔ افراط زر6 فیصد سے کچھ زائد ہے۔
مہنگائی کی یہ شرح نومبر میں 4 فیصد پر آ گئی تھی جو گیارہ سال میں کم ترین تھی۔ پچھلے سال دسمبر میں 9.2 فیصد جب کہ اس سال 4.3 فیصد رہی۔ یوں مہنگائی کا جن بے قابو رہا۔ حکومت کے لیے سب سے اہم ٹاسک ٹیکس کے نظام میں اصلاحات ہیں کیونکہ 70 فی صد ٹیکس بالواسطہ ہیں، پاکستان اکانومی واچ کی رپورٹ ہے کہ ملک میں دولت کی منصفانہ تقسیم ناگزیر ہے، جب کہ عدم توجہ کے باعث غریبی و امیری کا فرق بڑھ گیا ہے اور عوام میں احساس محرومی موجود ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے اور ڈونرز اگرچہ ملکی اقتصادیات مین نمو کی خوش آیند بڑھوتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں تاہم وزارت خزانہ اس امر کو یقینی بنائے کہ ترقی چاروں صوبوں میں یکساں ہو۔
دریں اثنا قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے 108.20 ارب روپے سے زائد مالیت کے 9ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیدی ہے۔ ان منصوبوں دیگر کے علاوہ اہم ترقیاتی اسکیموں میں بالخصوص بلوچستان کے تعلیمی ضروریات کو مد نظر رکھا گیا، اور 3 کروڑ 40 لاکھ ڈالر مالیت کا بلوچستان ایجوکیشن پراجیکٹ بھی منظور کیا گیا ہے۔ ایکنک کا اجلاس اگلے روز وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہوا اجلاس میں سی ڈی ڈبلیو پی کی طرف سے بھجوائے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لے کر ان کی منظوری دی گئی۔ صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں اقتصادی استحکام کا واحد راستہ پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر ہے۔
ادھر وزارت منصوبہ بندی و ترقیات نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک کھرب 48 ارب 83 کروڑ71 لاکھ روپے جاری کر دیے ہیں، چنانچہ زمینی اقتصادی حقیقت یہ ہے کہ ملک کو اقتصادی ترقی کی اشد ضرورت ہے، آج کی دنیا میں وہی ممالک ترقی یافتہ کہلاتے ہیں جن کا سیاسی استحکام معاشی ترقی اور مربوط اقتصادی پالیسیوں سے منسلک ہوتا ہے۔
موجودہ حکومت ملک کو خود انحصاری اور داخلی استحکام کی منزل تک لانے کے لیے معاشی اہداف کی تکمیل اور جمہوری ثمرات کی عام آدمی تک پہنچ کو یقینی بنائے، اور ساتھ ساتھ ان خطرات اور ممکنہ بحرانوں کا ادراک و سدباب کرے جن کی نشاندہی ماہرین کرتے رہتے ہیں، ماہرین کی رپورٹ کے مطابق ان خطرات میں آبی، زرعی اور صنعتی بحران کا ملکی معاشی نظام کو سامنا ہو سکتا ہے اس لیے معاشی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے، اور ایسی اقتصادی حکمت عملی وضع کی جائے جو مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو ہمہ جہتی معاشی آسودگی دے۔