بیکار باتیں اور کچھ مزید بیکار خیالات

وہ لوگ جن کے گھروں کے چراغ بجھ گئے ہیں تو وہ تو نہ جانے کب تک روتے رہیں گے۔

barq@email.com

لاہور:
کسی اور لائق فائق پڑھے لکھے یا لکھے پڑے یعنی عالم فاضل کے ساتھ اگر ایسا ہوتا تو اول تو وہ یہ مسئلہ خود ہی حل کر ڈالتا اور کوئی اڑچن آجاتی تو اڑوس پڑوس یا حلقہ احباب میں کسی ''ذہین و فطین'' کی خدمت سے فائدہ اٹھاتا لیکن ہمارے ساتھ پرابلم یہ ہے کہ نہ تو خود ہمارا شمار علمائے کرام یا فضلائے عظام میں ہوتا ہے اور نہ ہی ہمارے قرب و جوار میں کوئی علماء و فضلا پایا جاتا ہے کیوں کہ ہماری یہ ذات بے برکات ہو بہو اسد اللہ خان غالبؔ پر گئی ہے کہ کوئی ہمارے قریب ٹھہرنے کا روا دار ہی نہیں ہے یعنی

سایہ میرا مجھ سے مثل ''دود'' بھاگے ہے اسدؔ
پاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرایا جائے ہے

زیادہ سے زیادہ ہمارا شمار اگر ہو سکتا ہے تو وہ ''دھیں و فتین'' لوگوں میں ہوتا ہے یعنی جو دہین یعنی خراب دہان ہوتے ہیں یا فتنہ کی رعایت سے فتین ہوتے ہیں، علماء و فضلاء کے سلسلے میں ہمارا رشتہ ''فضل'' سے تو نہیں بنتا لیکن ''فضول'' کی رعایت سے بے شک کسی حد تک ہم ''فضلا'' میں شامل ہو سکتے ہیں، رہی ہماری اوڑس پڑوس اور حلقہ اغرہ و اقربا کی بات تو وہ سب بھی سو فی صد ہم پر گئے ہیں یعنی جیسے ہم ویسے ہی بلکہ اس سے کچھ زیادہ

توقع جن سے تھی کچھ خستگی کی داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ کشتہ ''تیغ جہل'' نکلے

اس لیے مجبوراً ہمیں اپنا مسئلہ اپنے پڑھنے والوں کے سامنے رکھنا ہے جو مسئلے سے زیادہ ایک ''عارضہ'' کہے تو زیادہ بہتر ہے جو ہمیں ان دنوں بڑی طرح لاحق ہو چکا ہے، نہ دن کو چین پڑتا ہے نہ رات کو نیند آتی ہے بس یہی ایک مسئلہ ہے جو آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے اور ہمیں بھی اپنے ساتھ گھمائے چلا جارہا ہے یوں کہیے کہ ہم ایک بگولے یا بونڈر میں پھنسے ہوئے ہیں، گویا

شوق اس دہشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں
جادہ غیر از نگہ دیدہ تصویر نہیں

اس مسئلے کا تعلق اس تازہ ترین واقعے سے ہے جو پچھلے دنوں پشاور میں پیش آیا کیوں کہ پشاور آج کل صرف پیش آنے ہی کے لیے مخصوص ہو چکا ہے بلکہ اب تو ہمیں کچھ شبہ سا ہو رہا ہے کہ یہ پشاور کا جو نام ہے پیش آور، یہ اسی وجہ سے پیش آور پڑ گیا ہو گا کہ یہاں ہمیشہ کچھ نہ کچھ پیش آتا رہا ہے۔

ان پیش آنے والے واقعات میں سب سے پہلا واقعہ تو مہاراجہ کنشک کا بتایا جاتا ہے کہ اس بے چارے کو بخار ہو گیا تو اس کے درباری حکیموں نے اس کے لیے یہ تیر بہدف علاج تجویز کیا کہ اسے دو چار دبیز لحافوں میں لپیٹ کر سیا جائے تا کہ پسینہ نکلے، ایسا ہی کیا گیا پسینے کے بارے میں تو کوئی روایت نہیں کہ اس کے جسم سے نکلا یا نہیں لیکن ایک اور فضول چیز جو ساری بیماریوں اور فسادوں کی جڑ تھی نگل گئی اور جب ساری مصیبتوں اور امراض کی ماں اس کی جان ہی نکل گئی تو پھر اسے کبھی کوئی عارضہ لاحق نہیں ہوا اور بھلا چنگا ہو کر اگلے جہان کو سدھار گیا۔

وثوق سے تو نہیں کہا جا سکتا ہے ممکن ہے یہ محض افواہ یا وہم ہو لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ''طریقہ علاج'' اب بھی پشاور میں کہیں کہیں پر مروج ہے اور جب بھی اسے کوئی گرمی سردی ہوتی ہے تو اسے لحاف کے اندر سی یا سیل کر دیا جاتا ہے، اس کی تائید بعد میں رحمن بابا کے کلام سے بھی ہو جاتی ہے کہ

پہ سبب د ظالمونو حاکمانو

کور او گور او پیخور دے واڑہ یو دی

سیدھا سادا ترجمہ تو اس کا یہ کیا جاتا ہے کہ ''ظالم حاکموں'' کی وجہ سے گھر، گور اور پشاور تینوں ایک جیسے ہیں لیکن شارحین نے اس شعر میں کتابت کی ایک غلطی پکڑ کر کہا ہے کہ ''ظالم حاکموں'' کی جگہ اصل الفاظ ''جاہل حکیموں'' تھے جو مہاراجہ کنشک کی طرف ہے کیوں کہ لحاف کے اندر سی اور سیل کرنے کے بعد اس پر بھی گھر گور اور پشاور تینوں اتنے تنگ ہو گئے تھے کہ سوائے اگلے جہاں کو فرار ہونے کے اور کوئی راستہ اسے نہیں سوجھا، اگر آپ کو غصہ آرہا ہو کہ ہم کہاں سے شروع کر کے آپ کو کہاں لے گئے تو آپ بالکل حق پر ہیں جتنا برا بھلا کہہ سکتے ہیں ہمیں کہیے

ناسزا کہیے ناروا کہیے
کہیے کہیے مجھے برا کہیے

کہ پشاور میں پیش آنے والے سے بات شروع کر کے ہم کہاں کہاں بھٹکنے لگے اصل بات صرف اتنی سی ہے کہ پیش آنے والوں کے شہر پیش آور میں پچھلے دنوں جو واقعہ پیش آیا اس پر جس کسی نے جتنا رونا تھا رو چکا اور گھروں کو سدھار چکا، رہے وہ لوگ جن کے گھروں کے چراغ بجھ گئے ہیں تو وہ تو نہ جانے کب تک روتے رہیں گے کیوں کہ رونا اس وقت تک رہتا ہے جب تک اس سے بھی بڑا واقعہ نہ ہو جائے اس سے بھی بڑا پہاڑ نہ ٹوٹ پڑے، خدا کرے ایسا کبھی نہ ہو کیوں کہ یہ ایک غم بھی انسان کے لیے بہت زیادہ ہے

رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہیں وہ اگر شرار ہوتا

ہمارا مسئلہ بل کہ عارضہ قطعی الگ قسم کا ہے جو شاید اتنا نہ ہو لیکن ہماری کم عملی بے خبری اور نالائقی کی وجہ سے ہمارے لیے سوہان روح بنا ہوا ہے ہم سوچ رہے ہیں کہ اسکول میں جو معصوم بے گناہ بے خطا جانیں چلی گئی ہیں ان کے بارے میں تو ہمیں یقین ہے کہ جنت میں چلی گئی ہوں گی لیکن کیا جن لوگوں نے اس کربلا کو برپا کیا ، کیا وہ بھی جنت پہنچ گئے ہوں گے؟ یہی وہ مسئلہ ہے جو ہمیں پریشان کیے ہوئے ہیں کیوں کہ جہاں تک ہم نے سنا ہے اور سنتے رہے ہیں تو معصوم بچے تو ویسے بھی جنت ہی میں جائیں گے کیوں کہ ابھی انھوں نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں ہوتا اور پھر اگر شہید بھی ہو جاتے ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ اور بھی زیادہ جنت کے مستحق ہوتے ہیں۔

اب اس بات میں ''مگر'' یہاں پیدا ہو جاتا ہے کہ ایک اچھی خاصی تعداد ان مونہوں اور زبانوں کی بھی ہے جو ان کے قاتلوں کو بھی جنت کا پاسپورٹ پہلے ہی سے دیے ہوئے ہیں اور پاسپورٹ بھی ایسا زبردست کہ اس پر ویزہ لگوانے کے لیے کسی سفارت خانے وغیرہ جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی کیوں کہ آن دی اسپاٹ ویزہ لگانے کی سہولت بھی ان کو ملی ہوئی ہوتی ہے جیسا کہ بعض ممالک میں رواج ہے کہ ارائیول دیتے ہی ایئر پورٹ پر ان کو ویزا لگا دیا جاتا ہے ان کو بھی جنت کا ویزہ دلانے والوں نے کہا ہوتا ہے کہ ادھر تم نے بٹن دبایا یا انگلی کو حرکت دی اور ادھر جنت کی فلائٹ میں تمہاری سیٹ کنفرم اور ویزہ تیار ۔۔۔۔۔ اب کسی اور کا تو ہمیں علم نہیں ہے کیوں کہ علم ایک سمندر ہے اور ممکن ہے کہ کچھ خواص اس سمندر میں سے ایسا کوئی موتی ڈھونڈ پائیں لیکن ہم اپنی کم عملی سے نہ جانے کیا کیا سوچتے رہتے ہیں۔

مثلاً اس دن ہم نے سوچا کہ فرض کیجیے اتفاق سے ان سات یا گیارہ یا نو دو گیارہ جتنے بھی وہ لوگ تھے اگر سیدھے یعنی ان بچوں سے بھی پہلے جنت پہنچ گئے ہوں اور ان کو سنی سنائی ہوئی روایتوں کے مطابق وہاں ویل ڈیکوریٹڈ بنگلے ملے ہوئے ہوں اور پھر اتفاق سے ان کے آس پاس میں ان خونا خون اور لہولہان بچوں کو ملے ہوں تو پڑوسی ہونے کے ناتے ان کا آپسی تعلق کیسا ہو گا، ہم چونکہ ذرا تصوراتی طبیعت بھی رکھتے ہیں اس لیے فرض کر لیجیے کہ وہ سات یا گیارہ یا نو جنتی اپنے اپنے بنگلوں کے لان میں یا سبزے پر ریشمی خیموں میں بیٹھے ہیں یہ بڑے بڑے زربفت و کم خواب کے گاؤ تکیے ان کے پیچھے ہیں اور سامنے حور و غلمان اپنے ہاتھوں میں شراب طہور کے جام لیے کھڑے ہیں لیکن پھر اچانک عین ان کے سامنے والے بنگلے میں بچوں کا شور اٹھتا ہے جو اپنے بنگلے کے لان میں کھیل رہے ہیں کیوں کہ بچے تو بچے ہوتے ہیں ۔

ان کو حور و غلمان اور شراب طہور سے کیا دل چسپی ہو سکتی ہے زیادہ سے زیادہ اپنا کوئی پسندیدہ کھیل ہی کھیل رہے ہوں گے اور جب وہ کھیل رہے ہوں گے تو یہ خیموں میں بیٹھے گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے شراب طہور کے جام لیے ہوئے غازی + شہید ان کو دیکھ کر کیا سوچتے ہوں گے، کیا ان کو شرم آتی ہو گی یا فخر سے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوں گے یا ان خون میں لت پت کلیوں اور پھولوں کو دیکھ کر اپنی پیٹھ تھپتھاتے ہوں گے۔

ممکن ہے کسی اور کے لیے یہ کوئی بات کوئی کنفیوژن نہ ہوں لیکن ہم چونکہ کچھ زیادہ جانکاری نہیں رکھتے نہ شہادت کے بارے میں نہ جہاد کے بارے میں اور نہ جنت کی تفصیلات اور بنگلوں کے لوکشینز کے بارے میں ۔۔۔۔ اس لیے طرح طرح کے خیالات آتے رہتے ہیں جن میں زیادہ تر خیالات فاسد ہی ہوتے ہوں گے لیکن کیا کیا جائے خیالات پر کسی کا زور تو چلتا نہیں، صرف یہ ہی نہیں بلکہ اور بھی طرح طرح کے خیالات ہمارے اس نالائق ذہن میں آتے ہیں مثلاً اگر ان سات یا گیارہ یا نو لوگوں کو جنت کے 70 بائی 70 میل بنگلے ملیں گے تو جو لوگ ان کے راہنماء ہوتے ہیں یعنی ان کو اس راستے پر چلاتے ہیں ان کو کتنے طول و عرض کے کمرے ملیں گے اور ان میں حور و غلمان کی کتنی تعداد ہو گی۔

ہمیں پتہ ہے کہ ہمارے ان فاسد خیالات کی تشریح کوئی بھی نہیں کر سکتا اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہم بھی نیند کی کچھ گولیاں پھانک لیں ورنہ ڈر ہے کہ کہیں ہمارا دماغ بھی اپنے ہی خودکش حملے سے ایک بھک کر کے پھٹ نہ جائے۔
Load Next Story