دہشت گردی کے خلاف عزم کی تجدید
جان کیری نے کہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ پاکستان اور امریکا سمیت دنیا بھر کے لیے خطرہ ہیں
پورے حکومتی اور ریاستی انداز نظر کا چارٹر ہے جو جان کیری کے سامنے پیش کیا گیا، فوٹو:فائل
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ پاکستان اور امریکا سمیت دنیا بھر کے لیے خطرہ ہیں،'ضرب عضب' کی کامیابیاں بہت اہم ہیں، مگر دشوار مراحل ابھی مزید آئیں گے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے لیے پاکستانی فورسز زبردست خراج تحسین کی مستحق ہیں ۔
دہشت گردوں کو صرف دہشت گرد ہی سمجھنا ہوگا ۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا کہ امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ ہے، مذاکرات کے دوران پاکستان نے کنٹرول لائن پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ پر تحفظات کا اظہار کیا ، جب کہ بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے جان کیری سے کہا کہ امریکا افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرے ۔
دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے غیر متزلزل عزم کو مد نظر رکھتے ہوئے جان کیری کے آپریشن ضرب عضب اور اس کے نتائج اور رفتار پر اطمینان خطے میں ایک بڑی اسٹرٹجیکل اور ٹیکٹیکل تبدیلی کا عندیہ دیتے ہیں جسے سیاسی اصطلاح میں sea changeکہا جاسکتا ہے۔ آج دہشت گرد فرار کی راہیں ڈھونڈ رہے ہیں اور سیاسی، عسکری اور عوام اتحاد نے ان کی حتمی شکست پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔
پاک فوج کی ان ہی کامیابیوں کے باعث انتہا پسند تنظیمیں اور ان کے گروپ دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیاں کرکے اپنی موجودگی اور رد عمل کا جھانسہ دینا چاہتے ہیں ،مگر حقائق نے ثابت کردیا کہ ریاستی رٹ کو یقینی بنانے کے لیے اگر وفاقی حکومت اور سیاسی قیادت کی حکمت عملی مشترکہ ملکی مفاد کے مطابق بروئے کار لائی جائے تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کا بال تک بیکا نہیں کرسکتی۔امریکا اس تناظر میں پاکستان کو دہشت گردی کے مقابل ایک نئے پاکستان کی شکل میں دیکھ رہا ہے اور فاٹا میں ہر ممکن امداد کی یقین دہانی کرا رہا ہے ۔چنانچہ پاک امریکا تعلقات میں ایک نئے تعمیری اور دو طرفہ مثبت و ٹھوس بنیادوں پر مستحکم ہونے کے امکانات مزید روشن ہوگئے ہیں۔
امریکا نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ کو عالمی دہشت گرد قرار دیدیا جب کہ پشاور اسکول حملے کے 5 منصوبہ ساز افغانستان میں گرفتار کر لیے گئے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ملا فضل اللہ کا نام عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔ محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ عالمی دہشتگرد قرار دیے جانے کے بعد کوئی امریکی ملا فضل اللہ سے لین دین نہیں کر سکتا ہے ۔ گزشتہ روز پاک امریکا سٹرٹیجک مذاکرات کے بعد سرتاج عزیز کے ساتھ پریس کانفرنس میں جان کیری نے کئی امور پر اظہار خیال کیا اور کہا کہ کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر ہونے والے واقعات پر تشویش ہے۔ پاکستان اور بھارت باہمی طور پر مسائل سفارتی ذرایع سے حل کریں ۔
بہتر تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں۔ پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے امریکا تعاون کرنے پر تیار ہے ،تاہم پاک بھارت تنازعات کے ضمن میں ثالثی پر انھوں نے کچھ نہیں کہا جب کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ بھارت پر جامع مذاکرات اور کشیدگی پیدا نہ کرنے کے لیے زور دے، اور اسے کہے کہ وہ ورکنگ اور لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی اور الزام تراشیوں کا سلسلہ بند کرے، پاکستان تمام دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے ۔ امریکا ان اقدام کو سراہتا ہے ، تسلیم کرتا ہے کہ پاکستان کا خطے کی سلامتی میں نہایت اہم کردار ہے ۔اس ضمن میں جان کیری نے یقین دلایا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون جاری رکھے گا۔ ان کے بقول سٹرٹیجک مذاکرات پاک امریکا دوستی کو مضبوط کریں گے۔
امریکی وزیر خارجہ نے سانحہ پشاور پر امریکی حکومت اور عوام کی جانب سے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ 16 دسمبر کو پشاور میں ہونے والے بچوں کے بہیمانہ قتل کو امریکا میں ہر والدین اور شہریوں نے محسوس کیا۔ فاٹا میں تعمیر و ترقی اور آئی ڈی پیز کی واپسی کے لیے25کروڑ ڈالر دے گا۔ کیری کے بیان کا یہ پہلو غور طلب اور قابل تحسین ہے کہ آج پاکستان نے واضح کر دیا کہ وہ تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے جس کا عملی مظاہرہ اگلے چند دنوں، ہفتوں یا مہینوں میں سامنے آئے گا۔ حقانی نیٹ ورک کا گڑھ ختم کرنے کے لیے پاکستان نے ایک سخت آپریشن شروع کیا ہے ۔
سرتاج عزیز نے زمینی حقائق کے ادراک کے ساتھ بعض اہم نکات بیان کیے مثلًا یہ کہ بھارت نے ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے۔ کشمیر کے بغیر بھارت سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بھارت نے خارجہ سیکریٹریوں کی سطح کے مذاکرات منسوخ کیے اور اب اسے ہی مذاکرات میں پہل کرنا ہوگی۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد حقانی نیٹ ورک ختم کر دیا گیا اور اب وہ سرحد پار کارروائیاں نہیں کرسکتا۔ حقانی نیٹ ورک کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کردیا گیا۔
یہ پورے حکومتی اور ریاستی انداز نظر کا چارٹر ہے جو جان کیری کے سامنے پیش کیا گیا ۔ بی بی سی کی ایک اطلاع کے مطابق امریکا ضرب عضب کو امریکی کسوٹی پر پرکھے گا، جی ... بصد شوق ، مگر امریکا اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھے کہ دہشت گردی کے بارے میں خطے کی موجودہ تاریخ اور پاکستان کی تبدیل شدہ پالیسی صورتحال اور اس کے نتائج کو اپنے داخلی دہشت گردی مخالف معیار پر ہی جانچے گی، کوئی ملک پاکستان کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی شفافیت ، نتیجہ خیزی اور بلا امتیاز حکمت عملی پر غلط فہمی کا شکار نہ ہو۔ یہ ملکی سالمیت اور خطے میں امن و استحکام کے عظیم مشن کی تکمیل سے مربوط کارروائی ہے ۔
وزارتی سطح پر مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں پاکستان اور امریکا نے طویل المدت مضبوط شراکت داری اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان پائیدار دوستی کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اس شراکت داری کو مزید توسیع دینے پر اتفاق کیا ہے۔ وزارتی سطح کے سٹرٹیجک مذاکرات میں ورکنگ گروپوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ ورکنگ گروپوں میں توانائی، سیکیورٹی، سٹرٹیجک استحکام، ایٹمی عدم پھیلاؤ، دفاعی مشاورتی گروپ، نفاذ قانون، انسداد دہشت گردی، معیشت اور فنانس شامل ہیں۔ادھر ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر دورہ افغانستان مکمل کرکے آئے ہیں اور اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کریں گے۔
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف تین روزہ دورے پر برطانیہ روانہ ہوگئے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کس قدر محنت کر رہا ہے جس میں امریکا سمیت پوری عالمی برادری کو فاٹا اور دیگر علاقوں میں مقیم آئی ڈی پیز کی بحالی کے لیے پاکستان کی فوری مدد کرنی چاہیے۔ دریں اثنا وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں قومیت اور مذہب کے نام پر لڑنے والے تمام دہشت گرد گروہوں کی مدد کر رہا ہے ، بھارت کے پاکستان کے حوالے سے مخصوص عزائم ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ایک دانشور کا قول ہے کہ ''امریکا کو فتوحات کی نہیں زخموں پر مرہم رکھنے، سیاسی و سماجی مسائل کا اتائی حل پیش کرنے کی نہیں معمولات زندگی کو بہتر بنانے اور انقلاب برپا کروانے کی نہیں عالمی سطح پر بحالی و تعمیر نو کا کام کرنے کی ضرورت ہے۔
دہشت گردوں کو صرف دہشت گرد ہی سمجھنا ہوگا ۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا کہ امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ ہے، مذاکرات کے دوران پاکستان نے کنٹرول لائن پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ پر تحفظات کا اظہار کیا ، جب کہ بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے جان کیری سے کہا کہ امریکا افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرے ۔
دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے غیر متزلزل عزم کو مد نظر رکھتے ہوئے جان کیری کے آپریشن ضرب عضب اور اس کے نتائج اور رفتار پر اطمینان خطے میں ایک بڑی اسٹرٹجیکل اور ٹیکٹیکل تبدیلی کا عندیہ دیتے ہیں جسے سیاسی اصطلاح میں sea changeکہا جاسکتا ہے۔ آج دہشت گرد فرار کی راہیں ڈھونڈ رہے ہیں اور سیاسی، عسکری اور عوام اتحاد نے ان کی حتمی شکست پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔
پاک فوج کی ان ہی کامیابیوں کے باعث انتہا پسند تنظیمیں اور ان کے گروپ دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیاں کرکے اپنی موجودگی اور رد عمل کا جھانسہ دینا چاہتے ہیں ،مگر حقائق نے ثابت کردیا کہ ریاستی رٹ کو یقینی بنانے کے لیے اگر وفاقی حکومت اور سیاسی قیادت کی حکمت عملی مشترکہ ملکی مفاد کے مطابق بروئے کار لائی جائے تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کا بال تک بیکا نہیں کرسکتی۔امریکا اس تناظر میں پاکستان کو دہشت گردی کے مقابل ایک نئے پاکستان کی شکل میں دیکھ رہا ہے اور فاٹا میں ہر ممکن امداد کی یقین دہانی کرا رہا ہے ۔چنانچہ پاک امریکا تعلقات میں ایک نئے تعمیری اور دو طرفہ مثبت و ٹھوس بنیادوں پر مستحکم ہونے کے امکانات مزید روشن ہوگئے ہیں۔
امریکا نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ کو عالمی دہشت گرد قرار دیدیا جب کہ پشاور اسکول حملے کے 5 منصوبہ ساز افغانستان میں گرفتار کر لیے گئے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ملا فضل اللہ کا نام عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔ محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ عالمی دہشتگرد قرار دیے جانے کے بعد کوئی امریکی ملا فضل اللہ سے لین دین نہیں کر سکتا ہے ۔ گزشتہ روز پاک امریکا سٹرٹیجک مذاکرات کے بعد سرتاج عزیز کے ساتھ پریس کانفرنس میں جان کیری نے کئی امور پر اظہار خیال کیا اور کہا کہ کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر ہونے والے واقعات پر تشویش ہے۔ پاکستان اور بھارت باہمی طور پر مسائل سفارتی ذرایع سے حل کریں ۔
بہتر تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں۔ پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے امریکا تعاون کرنے پر تیار ہے ،تاہم پاک بھارت تنازعات کے ضمن میں ثالثی پر انھوں نے کچھ نہیں کہا جب کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ بھارت پر جامع مذاکرات اور کشیدگی پیدا نہ کرنے کے لیے زور دے، اور اسے کہے کہ وہ ورکنگ اور لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی اور الزام تراشیوں کا سلسلہ بند کرے، پاکستان تمام دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے ۔ امریکا ان اقدام کو سراہتا ہے ، تسلیم کرتا ہے کہ پاکستان کا خطے کی سلامتی میں نہایت اہم کردار ہے ۔اس ضمن میں جان کیری نے یقین دلایا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون جاری رکھے گا۔ ان کے بقول سٹرٹیجک مذاکرات پاک امریکا دوستی کو مضبوط کریں گے۔
امریکی وزیر خارجہ نے سانحہ پشاور پر امریکی حکومت اور عوام کی جانب سے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ 16 دسمبر کو پشاور میں ہونے والے بچوں کے بہیمانہ قتل کو امریکا میں ہر والدین اور شہریوں نے محسوس کیا۔ فاٹا میں تعمیر و ترقی اور آئی ڈی پیز کی واپسی کے لیے25کروڑ ڈالر دے گا۔ کیری کے بیان کا یہ پہلو غور طلب اور قابل تحسین ہے کہ آج پاکستان نے واضح کر دیا کہ وہ تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے جس کا عملی مظاہرہ اگلے چند دنوں، ہفتوں یا مہینوں میں سامنے آئے گا۔ حقانی نیٹ ورک کا گڑھ ختم کرنے کے لیے پاکستان نے ایک سخت آپریشن شروع کیا ہے ۔
سرتاج عزیز نے زمینی حقائق کے ادراک کے ساتھ بعض اہم نکات بیان کیے مثلًا یہ کہ بھارت نے ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے۔ کشمیر کے بغیر بھارت سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بھارت نے خارجہ سیکریٹریوں کی سطح کے مذاکرات منسوخ کیے اور اب اسے ہی مذاکرات میں پہل کرنا ہوگی۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد حقانی نیٹ ورک ختم کر دیا گیا اور اب وہ سرحد پار کارروائیاں نہیں کرسکتا۔ حقانی نیٹ ورک کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کردیا گیا۔
یہ پورے حکومتی اور ریاستی انداز نظر کا چارٹر ہے جو جان کیری کے سامنے پیش کیا گیا ۔ بی بی سی کی ایک اطلاع کے مطابق امریکا ضرب عضب کو امریکی کسوٹی پر پرکھے گا، جی ... بصد شوق ، مگر امریکا اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھے کہ دہشت گردی کے بارے میں خطے کی موجودہ تاریخ اور پاکستان کی تبدیل شدہ پالیسی صورتحال اور اس کے نتائج کو اپنے داخلی دہشت گردی مخالف معیار پر ہی جانچے گی، کوئی ملک پاکستان کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی شفافیت ، نتیجہ خیزی اور بلا امتیاز حکمت عملی پر غلط فہمی کا شکار نہ ہو۔ یہ ملکی سالمیت اور خطے میں امن و استحکام کے عظیم مشن کی تکمیل سے مربوط کارروائی ہے ۔
وزارتی سطح پر مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں پاکستان اور امریکا نے طویل المدت مضبوط شراکت داری اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان پائیدار دوستی کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اس شراکت داری کو مزید توسیع دینے پر اتفاق کیا ہے۔ وزارتی سطح کے سٹرٹیجک مذاکرات میں ورکنگ گروپوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ ورکنگ گروپوں میں توانائی، سیکیورٹی، سٹرٹیجک استحکام، ایٹمی عدم پھیلاؤ، دفاعی مشاورتی گروپ، نفاذ قانون، انسداد دہشت گردی، معیشت اور فنانس شامل ہیں۔ادھر ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر دورہ افغانستان مکمل کرکے آئے ہیں اور اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کریں گے۔
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف تین روزہ دورے پر برطانیہ روانہ ہوگئے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کس قدر محنت کر رہا ہے جس میں امریکا سمیت پوری عالمی برادری کو فاٹا اور دیگر علاقوں میں مقیم آئی ڈی پیز کی بحالی کے لیے پاکستان کی فوری مدد کرنی چاہیے۔ دریں اثنا وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں قومیت اور مذہب کے نام پر لڑنے والے تمام دہشت گرد گروہوں کی مدد کر رہا ہے ، بھارت کے پاکستان کے حوالے سے مخصوص عزائم ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ایک دانشور کا قول ہے کہ ''امریکا کو فتوحات کی نہیں زخموں پر مرہم رکھنے، سیاسی و سماجی مسائل کا اتائی حل پیش کرنے کی نہیں معمولات زندگی کو بہتر بنانے اور انقلاب برپا کروانے کی نہیں عالمی سطح پر بحالی و تعمیر نو کا کام کرنے کی ضرورت ہے۔