حکومت اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے

قیام پاکستان کی تحریک سےلے کر ملک کو مستحکم بنیادوں پر استوارکرنے تک اقلیتوں نے ہمیشہ بھرپور اور فعال کردار ادا کیا ہے

پاکستان میں اقلیتوں کو اس وقت گوناگوں مسائل کا سامنا ہے،جن سے نبرد آزما ہونے اور ان کو حل کرنے کے لیے خلوص نیت کی ضرورت ہے، فوٹو:فائل

قیام پاکستان کی تحریک سے لے کر ملک کو مستحکم بنیادوں پر استوارکرنے تک اقلیتوں نے ہمیشہ بھرپور اور فعال کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے سبزہلالی پرچم میں سفید رنگ کی پٹی اقلیتوں کی نہ صرف نشاندہی کرتی ہے بلکہ ان کے پرامن اور ملک سے مخلص اور وفادار ہونے کی واضح دلیل بھی ہے ۔ہندو ،سکھ ، پارسی،کرسچن سمیت دیگراقلیتوں کے افراد نے ملکی ترقی وخوشحالی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے، کیونکہ انھیں آگے بڑھنے کے وہ تمام مواقعے میسر رہے ہیں،جوکسی بھی پاکستانی کو آئین کی رو سے حاصل ہیں ۔


لیکن المیہ یہ ہوا کہ دس پندرہ برس سے پاکستانی سماج کی بنیادیں اور قدریں کمزور ہوگئی ہیں،شدت پسند گروہوں کی کارروائیوں سے ہر فرد متاثرہوا ہے،جس میں اقلیتیں بھی شامل ہیں،گزشتہ روز سپریم کورٹ نے اقلیتوں کے مسائل کے حوالے سے مقدمے میں ہندو میرج رجسٹریشن بل دوہفتے میں وفاقی کابینہ سے منظورکرانے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے چاروں صوبوںکی جانب سے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات پر مبنی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار بھی کیا۔بلاشبہ سپریم کورٹ نے جو ریمارکس دیے ہیں وہ صورتحال کی درست سمت میں نشاندہی کرتے ہیں اور اصلاح احوال کے متمنی ہیں۔


پاکستان میں اقلیتوں کو اس وقت گوناگوں مسائل کا سامنا ہے،جن سے نبرد آزما ہونے اور ان کو حل کرنے کے لیے خلوص نیت کی ضرورت ہے۔اسلامی شریعت باقاعدہ طور پر اقلیتوں کو تمام حقوق کی ضمانت دیتی ہے اور ان کے تحفظ اورجان وآبروکی حفاظت کی ذمے داری مسلمانوں اور حکومت پر عائد کرتی ہے ۔ اسی طرح پاکستان کے آئین میں بھی اقلیتوں کو وہ تمام مراعات اور حقوق دیے گئے ہیں جو ایک عام پاکستانی کو حاصل ہیں ان میں کوئی تخصیص نہیں۔ اس خطے میں صدیوں سے آباد مختلف مذاہب کے ماننے والے رواداری اور احترام کے جذبے کے ساتھ مل جل کر رہ رہے تھے لیکن اب یہ المیہ ہے کہ شدت پسندوں کے ہاتھوں نہ تو مسلمان محفوظ ہیں اور نہ ہی غیر مسلم ۔ شدت پسندی ہمارے کثیر المشرب سماج کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے پر تلی ہے ۔

سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی طرف سے بتایا گیاکہ اقلیتوں کے تحفظ کے لیے ٹاسک فورس میں جلد ہی 13800افراد بھرتی کیے جائیں گے اس ضمن پانچ ارب روپے مختص کردیے گئے ہیں، دوفیصدکوٹے پر عمل ہو رہا ہے جب کہ پولیس میں ان کا کوٹہ پانچ فیصدکردیا گیا ہے ۔ ''ٹاسک فورس'' کا قیام کیا اقلیتوں کے خلاف ہونیوالے مظالم کو روک سکے گا ، سوال کا جواب ہنوزحل طلب اور اپنے اندر ابہام لیے ہوئے ہے ۔دراصل ہمیں ان ہی روایت پر عمل کرنا ہوگا جو ہمیں اسلام اور پاکستان کے قوانین کے ذریعے بتائے گئے ہیں۔ اسی رواداری کو پھر سے فروغ دینا ہوگا جو بغیر کاغذی رپورٹوں کے معاشرے میں امن کو فروغ دے سکے ۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے تسلیم کیا کہ کراچی میں ہندو جمخانہ کی زمین غلط طور پر لیز دی گئی، یہ ہندوٹرسٹ کی زمین ہے۔عدالت نے مزید سماعت11فروری تک ملتوی کرتے ہوئے کرک میں مہاراج کی سمادھی کے بارے میں تنازع ختم کرنیکی ہدایت کی۔ہندو اقلیت ہو یا کوئی اور سب پاکستان کے شہری ہیں، ان کے جان ومال وعزت آبرو کی حفاظت حکومت کا اولین فرض ہے، جو بھی زیادتیاں ہوئی ہیں ان کا ازالہ کیا جانا چاہیے جو مسائل ہیں ان کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔اقوام عالم میں پاکستان کا روشن چہرہ اور تابناک مستقبل اسی وقت نظر آئے گا جب اقلیتوں کو ان کے حقوق ملیں گے اور ان کی جان ومال کو حکومتی سطح پر تحفظ دیا جائے گا۔
Load Next Story