پاکستان کرکٹ ٹیم کی شاندار فتح

بھارت سے شکست کھانے والی ٹیم کا ردھم میں آنا آخری فتح کے عزم کا اعادہ بھی ہے

میچ کی جیت نے ایک بار پھر ٹکڑوں میں بٹی قوم کو متحد ویکجا کردیا اور وہ جیت کے ہوائے رقصاں میں شامل ہوگئے۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

پاکستان کی شاندار جیت پرکرکٹ کے دیوانے اورمستانے نوجوانوں نے سڑکوں پر نکل کر والہانہ رقص کیا اور قومی ٹیم کے حق میں پر جوش نعرے لگائے۔

گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی اور بم دھماکوں کے شکار ملک میں جشن کا سماں تھا تو دوسری جانب روایتی حریف بھارت ایک روز قبل پاکستان سے میچ جیت کر بھی ہارگیا تھا اور ٹورنامنٹ سے بھی آئوٹ ہوچکا ہے۔ بھارتی کرکٹ کی تاریخ میں ایک عجب دن تھا جس کے نفسیاتی اثرات یقیناً کرکٹرز کے ذہنوں پر پڑیں گے۔ پاکستانی شائقین نے جنوبی افریقہ اور بھارت کا میچ مکمل انہماک سے دیکھا۔ کیونکہ جنوبی افریقہ نے میچ ہارنے کے باوجود بھارت کا راستہ روک کر پاکستان کو سیمی فائنل تک رسائی فراہم کی ۔

میچ کی جیت نے ایک بار پھر ٹکڑوں میں بٹی قوم کو متحد ویکجا کردیا اور وہ جیت کے ہوائے رقصاں میں شامل ہوگئے۔ کپتان محمد حفیظ کے بقول''ہمارے ذہن پر مارجن نہیں کینگروزکے شکار کی دھن سوار تھی۔''بھارت سے شکست کھانے والی ٹیم کا ردھم میں آنا آخری فتح کے عزم کا اعادہ بھی ہے اور قوم کے لیے پیغام بھی کہ اگر وہ اپنے اندرونی اختلافات کو بھلا کر متحد ہوجائے تو وہ ایک عظیم قوم کے طور پر ابھر سکتی ہے۔

آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے بولنگ اٹیک کے خلاف ناصر جمشید اور کامران اکمل ،عبدالرزاق ڈٹ گئے تو اسپنر رضا حسن نے اپنی کارکردگی سے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور آسٹریلیا کے خلاف 32 رنز کی شاندار فتح تاریخ میں رقم کی ۔عبدالرزاق کی دوبارہ شمولیت سے بھی ٹیم مضبوط ہوئی اور اسپنر سعید اجمل کا جادو بھی سر چڑھ کر بولا ۔بہتر منصوبہ بندی اور ٹیم اسپرٹ فتح کا سبب بنی۔جب ہی تو آسٹریلوی کپتان جارج بیلی یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ پاکستان نے ہمیں آئوٹ کلاس کرکے رکھ دیا، گرین شرٹس ہمارے خلاف اسپن کو اچھی طرح استعمال کرنا جانتے ہیں۔''


اسپنرز کا جادو چل گیا اور ٹیم آئی سی سی ٹورنامنٹس کے سیمی فائنلز کھیلنے کا منفرد اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ۔ ٹی 20 ورلڈ کپ 2009 کی چیمپئن ٹیم کا سیمی فائنل میں ٹکرائو آج سری لنکا کی ٹیم سے ہوگا ۔سابق کپتان وسیم اکرم کے مطابق وہ پہلے ہی پاکستان کو ٹورنامنٹ کی فیورٹ ٹیم قرار دے چکے ہیں ۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم جنوبی افریقہ کی شکرگزار ہے جس نے ہارنے کے باوجود بھارتی ٹیم کی لٹیا ہی ڈبو دی ۔

خوشی ،مسرت کے جذبات واحساسات اور جشن کا سماں اپنی جگہ ۔لیکن پاکستان ٹیم کے کپتان اور ٹیم کے کرتا دھرتائوں کو سر جوڑ کو بیٹھنا ہوگا کیونکہ ایک میچ جیتنا تو آسان ہے لیکن جیت کا تسلسل برقرار رکھنا اور وہ بھی سری لنکا جیسی ون ڈے کی ماہر ٹیم سے نبردآزمائی جہاں حوصلہ ، ہمت ، ٹیم ورک کی متقاضی ہے وہیں ٹیم کی خامیوں پر کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہی خامیاں ہماری امیدوں کے محل کو زمین بوس کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔

ہمارے خیال میں سری لنکا کے خلاف جیت کے لیے محض اسپنرز پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا۔ فاسٹ اور اسپن بولنگ کا بہتر کمبی نیشن ہی ہمیں فاتح بنا سکتا ہے۔آئوٹ آف فارم شاہد آفریدی کی جگہ یاسر عرفات کو ٹیم میں شامل کرنا مناسب ہو گا۔ سری لنکن ٹیم کی بیٹنگ ایک مضبوط قلعے کی مانند ہے اس کو توڑنے کے لیے بیٹسمین اور بولرز کو تابڑ توڑ حملے کرنے ہونگے اور مضبوط دیوار توڑ کر سری لنکا کے قلعے پر فتح پائی جا سکتی ہے ۔ یاد رہے کہ مخالف ٹیم کی بھی پاکستانی ٹیم کی کمزوریوں پر بھرپور نظر ہے۔اور وہ ان ہی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے ۔

کرکٹ میں ایک اچھا دن آپ کو فتح مند کرسکتا ہے اور ایک دن کی بری کارکردگی کیے کرائے پر پانی پھیر سکتی ہے ۔ فیلڈنگ کے شعبے میں پاکستانی ٹیم خاصی کمزور ہے اور ایک کیچ چھوڑنا یا رن آئوٹ مس کرنا بھاری پڑسکتا ہے ۔ اس جانب بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔کرکٹ کا کھیل اب ایک ایسا آرٹ بن چکا ہے جس میں تمام لوازم پر دسترس نہ ہونے کے باعث خوابوں میں رنگ نہیں بھرے جاسکتے ۔جذبہ ،جنون اور ہمت تو ٹیم کے ہر کھلاڑی میں موجود ہے بس ذرا اس کو مزید مہمیز دینے کی ضرورت ہے ۔

ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اسی جوش وجذبے اور ولولے کو قومی یکجہتی کے فروغ اور تعمیر وترقی کے سفر کو رواں رکھنے کے لیے استعمال کریں گے اور جیت کی خوشی میں فائرنگ کر کے کسی گھر کے چراغ کو گل کرنے کے بجائے خوشی کے دیے جلا کا اپنے احساسات کا مثبت اظہار کریں گے تاکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ لے کر پاکستانی ٹیم گھر لوٹے۔
Load Next Story