دہشت گردی کا خاتمہ مشترکہ کوششوں کی ضرورت
ملک کو درپیش دہشت گردی کے خطرے کا تقاضا ہے کہ حکومت سمیت تمام ادارے متحد ہو کر اس کا مقابلہ کریں۔
وزیراعظم کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اب عدلیہ بھی اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرے کیونکہ عدلیہ میں برسوں سے زیرالتوا مقدمات کا فیصلہ نہ ہونے سے بدامنی میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ فوٹو : فائل
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے صدر ممنون حسین کے ہمراہ بدھ کو ایوان صدر میں بزنس کمیونٹی کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ مشکلات سے گھبرانے والے نہیں مسائل حل کریں گے، ہم چیلنج سمجھ کر حکومت میں آئے ہیں، فوجی عدالتیں بنانے کا فیصلہ کسی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے نہیں جمہوری حکومت نے کیا ہے۔
فوجی عدالتوں کے حق میں نہیں جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، جمہوریت کی بحالی کے لیے بے پناہ جدوجہد کی ہے، عدلیہ کی آزادی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عدلیہ بھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے، بے شمار مقدمات ابھی تک عدالتوں میں زیر التوا ہیں، جن سے بدامنی کو فروغ ملا ہے، جلد ہی ملالہ یوسف زئی پر حملے اور شمالی علاقہ جات میں کوہ پیماؤں کے قاتلوں، نفرت اور فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف مقدمات فوجی عدالتوں میں چلیں گے۔
ملک کو درپیش دہشت گردی کے خطرے کا تقاضا ہے کہ حکومت سمیت تمام ادارے متحد ہو کر اس کا مقابلہ کریں، یہ مسئلہ جس قدر پیچیدہ ہو چکا ہے اس سے نمٹنا تنہا حکومت کا کام نہیں ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت دونوں بار بار اس عزم کا اظہار کر رہی ہیں کہ ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔ دوسری جانب چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے برطانیہ میں وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے دوران دہشت گردی اور خطے کی صورت حال پر تفصیلی گفتگوکی۔
انھوں نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ برطانیہ کالعدم تنظیم حزب التحریر اور علیحدگی پسند بلوچ رہنماؤں کے خلاف کارروائی کرے۔ پاکستان کی جانب سے پہلی بار برطانیہ سے ایسا مطالبہ سامنے آیا ہے جس میں دہشت گردی پھیلانے والی جماعتوں کے خلاف کارروائی پر زور دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کا خیال ہے کہ کالعدم قرار دی جانے والی حزب التحریر کو برطانیہ سمیت مختلف ممالک سے فنڈز مل رہے ہیں اور بلوچستان میں ہونے والی شرپسندی کے پیچھے جو لوگ ہیں ان میں سے بعض برطانیہ میں مقیم ہیں اور بلوچستان میں بدامنی پیدا کرنے کے لیے بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔ اس سے قبل یہ ہوتا آیا ہے کہ امریکا اور برطانیہ پاکستان سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے چلے آئے ہیں اب یہ پہلا موقع ہے کہ برطانیہ سے بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کا ایسا ہی مطالبہ کیا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ برطانیہ پاکستان کے اس مطالبے پر کیا کارروائی کرتا ہے۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے جو عوامل کارفرما ہیں انھیں بیرون ملک سے امداد مل رہی ہے۔ پاکستان کئی بار اس مسئلے پر احتجاج بھی کر چکا ہے لیکن عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے کھیل میں اس پر توجہ نہیں دے رہیں۔ اگرمعاملات کی تحقیقات کی جائے تو ممکن ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کو جو امداد مل رہی ہے اس میں برطانیہ کے علاوہ امریکا اور دیگر یورپی ممالک کے نام بھی سامنے آ جائیں۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔
اس تناظر میں اس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششیں ہونی چاہئیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب کے دوران نہ صرف دہشت گردوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بلکہ ان کے محفوظ ٹھکانے بھی تباہ کر دیے ہیں اور ایک بڑا علاقہ دہشت گردوں سے کلیئر کرا لیا گیا ہے۔وزیر اعظم تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک کو پرامن بنانے کے لیے ایک اور ضرب عضب آپریشن شروع کیا جائے گا۔
وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، انھوں نے تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ نیشنل ایکشن پلان پر فوری اور موثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے فعال اقدامات کیے جائیں۔ اب تمام صوبائی حکومتوں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات کریں، پولیس اور انٹیلی جنس کے نظام کو متحرک کیا جائے۔ بعض مبصرین کی جانب سے یہ تنقید بھی سامنے آ چکی ہے کہ روایتی تربیت کی حامل پولیس دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی،اس کے پاس جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کا فقدان ہے جس سے اسے دہشت گردوں کو ٹریس کرنے اور ان کا مقابلہ کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔
وزیراعظم کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اب عدلیہ بھی اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرے کیونکہ عدلیہ میں برسوں سے زیرالتوا مقدمات کا فیصلہ نہ ہونے سے بدامنی میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ بدھ کے روز ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ سپریم کورٹ اور دوسری عدالتوں میں 2013 تک 17 لاکھ مقدمات زیرالتوا تھے اور بہت سی عدالتوں میں ججوں کی آسامیاں خالی پڑی ہیں، حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ سپریم کورٹ میں31 دسمبر 2013 تک 20480 مقدمات زیر التوا تھے۔ عدلیہ کے جو مسائل ہیں انھیں حل کرنے کے لیے حکومت کو بھی اپنا فعال کردار ادا کرنا ہو گا۔انصاف فراہم کرنے والے ادارے ہی مسائل کا شکار ہوں گے تو دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ممکن ہو گا۔
فوجی عدالتوں کے حق میں نہیں جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، جمہوریت کی بحالی کے لیے بے پناہ جدوجہد کی ہے، عدلیہ کی آزادی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عدلیہ بھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے، بے شمار مقدمات ابھی تک عدالتوں میں زیر التوا ہیں، جن سے بدامنی کو فروغ ملا ہے، جلد ہی ملالہ یوسف زئی پر حملے اور شمالی علاقہ جات میں کوہ پیماؤں کے قاتلوں، نفرت اور فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف مقدمات فوجی عدالتوں میں چلیں گے۔
ملک کو درپیش دہشت گردی کے خطرے کا تقاضا ہے کہ حکومت سمیت تمام ادارے متحد ہو کر اس کا مقابلہ کریں، یہ مسئلہ جس قدر پیچیدہ ہو چکا ہے اس سے نمٹنا تنہا حکومت کا کام نہیں ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت دونوں بار بار اس عزم کا اظہار کر رہی ہیں کہ ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔ دوسری جانب چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے برطانیہ میں وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے دوران دہشت گردی اور خطے کی صورت حال پر تفصیلی گفتگوکی۔
انھوں نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ برطانیہ کالعدم تنظیم حزب التحریر اور علیحدگی پسند بلوچ رہنماؤں کے خلاف کارروائی کرے۔ پاکستان کی جانب سے پہلی بار برطانیہ سے ایسا مطالبہ سامنے آیا ہے جس میں دہشت گردی پھیلانے والی جماعتوں کے خلاف کارروائی پر زور دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کا خیال ہے کہ کالعدم قرار دی جانے والی حزب التحریر کو برطانیہ سمیت مختلف ممالک سے فنڈز مل رہے ہیں اور بلوچستان میں ہونے والی شرپسندی کے پیچھے جو لوگ ہیں ان میں سے بعض برطانیہ میں مقیم ہیں اور بلوچستان میں بدامنی پیدا کرنے کے لیے بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔ اس سے قبل یہ ہوتا آیا ہے کہ امریکا اور برطانیہ پاکستان سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے چلے آئے ہیں اب یہ پہلا موقع ہے کہ برطانیہ سے بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کا ایسا ہی مطالبہ کیا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ برطانیہ پاکستان کے اس مطالبے پر کیا کارروائی کرتا ہے۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے جو عوامل کارفرما ہیں انھیں بیرون ملک سے امداد مل رہی ہے۔ پاکستان کئی بار اس مسئلے پر احتجاج بھی کر چکا ہے لیکن عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے کھیل میں اس پر توجہ نہیں دے رہیں۔ اگرمعاملات کی تحقیقات کی جائے تو ممکن ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کو جو امداد مل رہی ہے اس میں برطانیہ کے علاوہ امریکا اور دیگر یورپی ممالک کے نام بھی سامنے آ جائیں۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔
اس تناظر میں اس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششیں ہونی چاہئیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب کے دوران نہ صرف دہشت گردوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بلکہ ان کے محفوظ ٹھکانے بھی تباہ کر دیے ہیں اور ایک بڑا علاقہ دہشت گردوں سے کلیئر کرا لیا گیا ہے۔وزیر اعظم تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک کو پرامن بنانے کے لیے ایک اور ضرب عضب آپریشن شروع کیا جائے گا۔
وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، انھوں نے تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ نیشنل ایکشن پلان پر فوری اور موثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے فعال اقدامات کیے جائیں۔ اب تمام صوبائی حکومتوں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات کریں، پولیس اور انٹیلی جنس کے نظام کو متحرک کیا جائے۔ بعض مبصرین کی جانب سے یہ تنقید بھی سامنے آ چکی ہے کہ روایتی تربیت کی حامل پولیس دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی،اس کے پاس جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کا فقدان ہے جس سے اسے دہشت گردوں کو ٹریس کرنے اور ان کا مقابلہ کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔
وزیراعظم کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اب عدلیہ بھی اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرے کیونکہ عدلیہ میں برسوں سے زیرالتوا مقدمات کا فیصلہ نہ ہونے سے بدامنی میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ بدھ کے روز ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ سپریم کورٹ اور دوسری عدالتوں میں 2013 تک 17 لاکھ مقدمات زیرالتوا تھے اور بہت سی عدالتوں میں ججوں کی آسامیاں خالی پڑی ہیں، حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ سپریم کورٹ میں31 دسمبر 2013 تک 20480 مقدمات زیر التوا تھے۔ عدلیہ کے جو مسائل ہیں انھیں حل کرنے کے لیے حکومت کو بھی اپنا فعال کردار ادا کرنا ہو گا۔انصاف فراہم کرنے والے ادارے ہی مسائل کا شکار ہوں گے تو دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ممکن ہو گا۔